بلیک فرائیڈے کی سیلوں پر پاکستان بھر میں ہنگامہ، لیکن دراصل اسے بلیک فرائیڈے کیوں کہتے ہیں؟ جانئے وہ بات جو شور مچانے والوں کو بھی معلوم نہیں

بلیک فرائیڈے کی سیلوں پر پاکستان بھر میں ہنگامہ، لیکن دراصل اسے بلیک فرائیڈے ...
بلیک فرائیڈے کی سیلوں پر پاکستان بھر میں ہنگامہ، لیکن دراصل اسے بلیک فرائیڈے کیوں کہتے ہیں؟ جانئے وہ بات جو شور مچانے والوں کو بھی معلوم نہیں

  

نیویارک(نیوز ڈیسک) مغربی ممالک میں بلیک فرائیڈے کا سالانہ تہوار ایک بار پھر آن پہنچا ہے۔ شہریوں نے اس موقع پر لگنے والی لوٹ سیلز اور غیر معمولی ڈسکاﺅنٹ سے فائدہ اٹھانے کی تیاریاں بھی کر لی ہیں۔ ان کے ہاں تو یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا تھا لیکن ہمارے ہاں یہ قدرے نئی بات ہے۔ اب تو یہاں بھی جسے دیکھو بلیک فرائیڈے کی بات کرتا نظر آتا ہے، اگرچہ یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ اسے بلیک فرائیڈے کہا کیوں جاتا ہے۔

دراصل اس کے متعلق کئی طرح کے نظریات مشہور ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس نام کا تعلق انگریزی محاورے In The Black سے۔ یہ محاورہ ایسے کاروباری اداروں کے لئے بولا جاتا ہے جو اپنے تمام اخراجات کے بعد اچھا منافع حاصل کرچکے ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں جب اہل مغرب کے ہاں کرسمس سے قبل ہونے والی خریداری میں کاروباری حضرات خوب اچھی کمائی کر لیتے تھے تو انہیں In The Black کہا جاتا تھا۔ اسی مناسبت سے ایک خاص دن پر دکانداروں کی جانب سے گاہکوں کو سستے داموں اشیاءفروخت کر کے ان کا شکریہ ادا کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ دن نومبر کے مہینے کا آخری جمعہ تھا ، جو بعد ازاں بلیک فرائیڈے کے نام سے مشہور ہو گیا۔

دو صدیاں قبل تک مغرب میں سیاہ فام افریقی غلاموں کی خرید و فروخت کا سلسلہ بھی عام تھا۔ یوم تشکر کے تہوار کے بعد جمعے کے دن غلاموں کی خرید و فروخت عروج پر ہوتی تھی، اور کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ غالباً سیاہ فام افریقی غلاموں کی مناسبت سے ہی اس دن کا نام بلیک فرائیڈے پڑ گیا۔

ایک اور نظریے کے مطابق اصل میں اس نام کی خالق امریکی شہر فلاڈیلفیا کی پولیس ہے۔ کہتے ہیں کہ یوم تشکر کے تہوار کے بعد نومبر کے آخری جمعہ کے روز لوگ بہت بڑی تعداد میں شاپنگ کے لئے نکلا کرتے تھے ۔ اس موقع پر سڑکوںپر بے پناہ ہجوم اور لڑائی جھگڑے کے خدشے کے پیش نظر پولیس کی چھٹی کینسل کردی جاتی تھی۔ عموماً اس دن دنگافساد بھی ہو ہی جاتا تھا، اور پولیس کو اپنی چھٹی کینسل ہونے کا دکھ بھی ہوتا تھا، لہٰذا انہوں نے اسے بلیک فرائیڈے کا نام دے ڈالا۔

اس نام کی مقبولیت کو امریکی اخبار ’فلاڈیلفیا ایوننگ بلیٹن‘ کے صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بھی امریکا میں یوم تشکر کے تہوار کے بعد آنے والے جمعہ کے روز پیش آیا۔ اس دن شہر میں ہر جانب سستے داموں خریداری کرنے والوں کا ہجوم تھا۔ ایسے میں ایک جگہ تصادم ہو گیا اور ہجوم کو کنٹرول کرنے والے پولیس اہلکاروں نے واقعے کی کوریج کرنے والے اخباری رپورٹروں پر بھی لاٹھیاں برسا دیں۔ اگلے روز ’فلاڈیلفیا ایوننگ بلیٹن‘ نے اپنے صفحہ اول پر اس واقعے کے حوالے سے خبر شائع کی اور صحافیوں پر تشدد کی وجہ سے اس دن کو بلیک فرائیڈے قرار دیا۔ بعد ازاں دیگر اخبارات نے بھی اپنی شہہ سرخیوں میں انہی الفاظ کا استعمال کیا، اور یوں عوامی سطح پر بھی اس دن کا نام بلیک فرائیڈے پڑ گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس