’ہمارا جہاز پہاڑوں میں گر گیا، ہم 15مسافر زندہ بچ گئے، کچھ بھی کھانے کو میسر نہ تھا تو بالآخر مردہ مسافروں کا گوشت کھانے لگے یہاں تک کہ۔۔۔‘ طیارہ حادثے کے بعد پہاڑوں میں پھنسے مسافروں کی ایسی کہانی جسے جان کر انسان واقعی کانپ اٹھے

’ہمارا جہاز پہاڑوں میں گر گیا، ہم 15مسافر زندہ بچ گئے، کچھ بھی کھانے کو میسر ...
’ہمارا جہاز پہاڑوں میں گر گیا، ہم 15مسافر زندہ بچ گئے، کچھ بھی کھانے کو میسر نہ تھا تو بالآخر مردہ مسافروں کا گوشت کھانے لگے یہاں تک کہ۔۔۔‘ طیارہ حادثے کے بعد پہاڑوں میں پھنسے مسافروں کی ایسی کہانی جسے جان کر انسان واقعی کانپ اٹھے

  

مونٹے ویڈیو(مانیٹرنگ ڈیسک) 13اکتوبر 1972ءکو دنیا کے طویل ترین پہاڑی سلسلے اینڈیز میں ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک مسافر نے 45سال بعد مصیبت کے ان دنوں کی ایسی کہانی بیان کر دی ہے کہ سن کر انسان کانپ اٹھے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ یوراگوین ایئرفورس کی پرواز 571تھی جو یوراگوئے کی رگبی ٹیم کے کھلاڑیوں نے چلی جانے کے لیے بک کروائی تھی۔ پرواز میں کھلاڑیوں کے بیوی بچوں سمیت دیگر مسافر بھی سوار تھے۔ اس حادثے میں 19افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 16معجزانہ طور پر زندہ رہے۔ طیارہ حادثے میں بچ جانے والوں کی تعداد 24تھی لیکن ایک رات وہ طیارے کے ملبے کے قریب سو رہے تھے کہ پہاڑ سے گرنے والے برفانی تودے نے مزید 8افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دیا۔

چار سال قبل دوران پرواز لاپتہ ہونے والے جہاز کا پائلٹ اچانک منظر عام پر، اتنا عرصہ کہاں گم رہا؟ ایسی تفصیلات کہ جان کر آپ کے واقعی اوسان خطا ہوجائیں گے

باقی 16افراد 72دن تک اینڈیز کے وسیع و عریض پہاڑی سلسلے میں بھٹکتے رہے۔ان میں فرنینڈوپیراڈو نامی شخص بھی شامل تھا جس کی اس وقت عمر 22سال تھی اور اب وہ 67سال کا ہے۔ اس نے میل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ”حادثے کی جگہ پر کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ جب انسان کے پاس صرف ایک ہی آپشن رہ جائے تو وہ زندہ رہنے کے لیے کچھ بھی کرگزرتا ہے، چنانچہ ہم زندہ رہنے کے لیے حادثے میں مر جانے والے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کا گوشت کھاتے رہے۔ہمیں ان تمام دنوں میں ہر لمحہ اپنی موت کا یقین تھا لیکن جب 61دن گزر گئے تو میں نے اور ایک ساتھی مسافر روبیرٹو کینیسا نے پہاڑ پر چڑھ کر دوسری طرف آبادی تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم دونوں مسلسل 10دن تک پہاڑ پر چڑھتے رہے اور بالآخر ہماری ملاقات چلی کے ایک کسان سے ہوئی۔ اس نے حکام کو حادثے کی اطلاع دی اور جائے وقوعہ کے بارے میں بتایا۔ تب چلی کے حکام نے ہیلی کاپٹر وہاں بھیجے اور ہم ان 14لوگوں کو ریسکیو کیا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ان تمام دنوں میں جب ہم پہاڑوں میں بھٹک رہے تھے اور اپنے عزیزوں کا گوشت کھا رہے تھے، مجھے احساس ہوتا تھا کہ میں زندہ لاش بن چکا ہوں۔ ان کا گوشت کھا کر مجھے ایسے لگتا تھا جیسے مجھے ابھی قے آ جائے گی۔ ان دنوں میں مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ امید صرف کرب اور تکلیف کو طول دیتی ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس