ایف سی آر کا خاتمہ اور کے پی کے میں انضمام فاٹا کے عوام کا متفقہ مطالبہ , حکومتی رویوں اور وعدہ خلافیوں نےسخت مایوس کیا ,حکومت کو بھاگنے نہیں دیں گے :لیاقت بلوچ

ایف سی آر کا خاتمہ اور کے پی کے میں انضمام فاٹا کے عوام کا متفقہ مطالبہ , ...
 ایف سی آر کا خاتمہ اور کے پی کے میں انضمام فاٹا کے عوام کا متفقہ مطالبہ , حکومتی رویوں اور وعدہ خلافیوں نےسخت مایوس کیا ,حکومت کو بھاگنے نہیں دیں گے :لیاقت بلوچ

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ حکومتی رویوں اور وعدہ خلافیوں نے فاٹا کے عوام کو سخت مایوس کیاہے  لیکن جماعت اسلامی حکومت کو خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کے وعدے سے بھاگنے نہیں دے گی ، فاٹا کے عوام ایف سی آر کے کالے قانون کے خاتمہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، حکومت کے لیے بہتریہی ہے کہ سرتاج عزیر کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرے اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر کے 2018 ءکے الیکشن میں قبائلی عوام کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کے نمائندوں کے انتخابات کا موقع دیا جائے ، ایف سی آر کا خاتمہ اور کے پی کے میں انضمام فاٹا کے عوام کا متفقہ مطالبہ ہے جس پر مزید کسی رائے شماری یا ریفرنڈم کی ضرورت نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:کلبھوشن یادیو کی والدہ سے ملاقات، بھارتی حکومت کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے:پاکستان

منصورہ میں فاٹا مشران و قبائلی عمائدین کو دیے گئے استقبالیہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومت خارجہ و داخلہ دونوں محاذوں پر ناکامی کی تصویر بنی ہوئی ہے ، اندرونی و بیرونی سازشوں کے قلع قمع کے لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام کے اندر پھیلی بد اعتمادی ، مایوسی اور بے چینی کا خاتمہ اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پور ا کرے ۔ انہوں نے کہاکہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے فاٹا اور قبائل کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوام حکمرانوں کی عہد شکنی اور غلط بیانی سے سخت اضطراب کا شکار ہیں ، فاٹا کے عوام نجات کے لیے ایف سی آر کے ظالمانہ اور قالے قانون کا فور ی خاتمہ چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ فاٹا اور قبائلی علاقہ جات قیام پاکستان کے بعد سے ایف سی آر سے آزادی کی کوشش کر رہے ہیں مگر حکمرانوں نے بار بار وعدوں کے باوجود ڈیڑھ کروڑ قبائلی عوام کو پولیٹیکل ایجنٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھاہے ۔ انہوں نے کہاکہ بانی پاکستان قائداعظم نے قبائل کو پاکستان کا بازوئے شمشیر زن قرار دیا ہے اور تاریخ نے ثابت کیاہے کہ بہادر و جری قبائل نے پاکستان کی سرحدوں کے دفاع میں ہمیشہ سب سے آگے بڑھ کر قربانیاں پیش کی ہیں ۔

لیاقت بلوچ نے صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ دیں ، 70 سال کی غلط پالیسیوں اور نااہل قیادت نے پاکستان کو مسائلستان بنادیاہے ، فاٹا کے عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں انہی تعلیم ، صحت روزگار اور بجلی و پانی اور گیس کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ، فاٹا کے عوام کا حق ہے کہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں مناسب حصہ دیا جائے اور ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ بھارت کے ذریعے افغانستان کی سرزمین پر جو کھیل کھیل رہاہے اور پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے جو سازشیں کر رہاہے ان کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فاٹا کے مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔

مزید : لاہور