حکومت نے وعدے کے باوجود ختم نبوت ﷺ قانون میں تبدیلی کرنے والوں کے نام پیش نہیں کئے،30 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی :ڈاکٹر اشرف آصف جلالی

حکومت نے وعدے کے باوجود ختم نبوت ﷺ قانون میں تبدیلی کرنے والوں کے نام پیش ...
حکومت نے وعدے کے باوجود ختم نبوت ﷺ قانون میں تبدیلی کرنے والوں کے نام پیش نہیں کئے،30 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی :ڈاکٹر اشرف آصف جلالی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے مرکزی چئیرمین ڈاکٹر علامہ اشرف آصف جلالی نے کہا کہ کاروانِ ختم نبوت اور دھرنے کے نتیجے میں منظور شدہ چھ مطالبات پرعملدرامد کرانے اور اپنے وعدے پورے کرنے میں حکومت بری طرح ناکام رہی  ،  20 دنوں کی ڈیڈ لائن گذرنے کے باوجود حکومت نے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے حلف نامہ ختم نبوت ﷺ  میں تبدیلی کرنے والوں کے نام پیش نہیں کیے، پوری قوم کا مطالبہ ہے راجہ ظفر الحق رپورٹ منظر عام پر لائی جائے ، معاہدہ کے باوجود حکومت کا عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے خلاف سازش کرنے والوں کے نام پیش نہ کرنا اور انہیں سزا نہ دینا قوم سے سنگین مذاق ہے، اس سلسلہ میں ہم عدالتی کاروائی بھی کریں گےجبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے 30 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی ہے جس میں مشاورت کے بعد اگلا لائحہ عمل پیش کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے مجرموں کو سزا دلوائے بغیر ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، حکومت نے اسلامیانِ پاکستان کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے گمراہ کن اشتہاری مہم شروع کر رکھی ہے،جس کا مقصد حلف نامہ ختم نبوت ﷺ  کے مجرموں کو تحفظ دینا اور عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والوں پر الزام تراشی ہے، حکومت اپنی تشہیری مہم سے یہ ثابت کرنا چاہتی ہےکہ ختم نبوت ﷺ کے حلف نامہ میں تبدیلی محض الزام ہے حالانکہ یہ حکومتی دعویٰ سراسر جھوٹ ہے، ختم نبوت ﷺ کے حلف نامہ کے صرف عنوان ہی میں تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ سیون بی  اور  سیون سی جیسی اہم شقیں بھی نکالی گئیں، تبدیلی تو سپیکر نے بھی تسلیم کی مگر اس کو کلیریکل غلطی  کہا گیا ، راجہ ظفر الحق نے اپنے ایک خطاب میں تبدیلی بھی تسلیم کی اور اسے قادیانیوں کی سازش کہا، اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ حکومت اس موضوع پر کسی بھی چینل پر لائیو مناظرہ کرائے  وہ ثابت کریں گے کہ حلف نامہ ختم نبوت ﷺ  میں بہت بڑی تبدیلی ہوئی اور یہ تبدیلی ایک بڑی سازش تھی ،ہم حکومت  کی طرف  سے ایک قومی اخبار میں شائع ہونے  والے اشہتار کو بھی چیلنج کرتے ہیں اور حکومت اس کے مندرجات پر مناظرہ کے لیے تیار ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ یورپی یونین اور امریکا ختم نبوت اور 295C کو ختم کرانے پر تلے ہوئے ہیں اور 295C کے غلط استعمال کا واویلا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان محافل میلادجلوسوں کی سیکیورٹی کویقینی بنائے مگر اجازت اور منظوری کے نام پر محافل میلاد کے انعقاد میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے، پاکستان تاجدار ختم نبوت ﷺ کی برکت سے معر ض وجود میں آیا ہے، یہاں عید میلادالنبیﷺ منانے میں کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے۔

مزید :

قومی -