افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی خواتین کے درمیان بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کتنا فرق ہے؟ ایسے اعدادوشمار سامنے آگئے کہ ہنگامہ برپاہوگیا

افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی خواتین کے درمیان بچے پیدا کرنے کی ...
افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی خواتین کے درمیان بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کتنا فرق ہے؟ ایسے اعدادوشمار سامنے آگئے کہ ہنگامہ برپاہوگیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) یوں تو جنوبی ایشیا کے تقریباً تمام ممالک میں ہی شرح پیدائش عالمی اوسط سے زیادہ ہے لیکن چار بڑے ممالک یعنی پاکستان، بھارت، افغانستان اور بنگلا دیش خاص طور پر بچے پیدا کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں نظر آتے ہیں۔ ان چاروں مماک میں بچوں کی پیدائش کے حوالے سے شرح ذرخیزی (بچوں کی تعداد فی خاتون) کا ایک دلچسپ تقابل ذیلی ریڈٹ mapporn کی جانب سے شائع کیا گیا ہے، جس کے نتائج واقعی ہوش اڑا دینے والے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق فی خاتون بچوں کی تعداد سب سے زیادہ افغانستان میں ہے جہاں اوسطاً ہر خاتون 4.65 بچے پیدا کر رہی ہے۔ اس کے بعد پاکستان کا نمبر ہے جہاں فی خاتون بچوں کی تعداد 3.8 ہے۔ بھارت میں فی خاتون بچوں کی تعداد 2.34 اور بنگلا دیش میں یہ تعداد سب سے کم یعنی 2.2ہے۔

یاد رہے کہ بلند شرح ذرخیزی ممالک کی غربت و پسماندگی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ آبادی میں بے قابو اضافہ ان ممالک کے محدود وسائل کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے صرف افغانستان سے پیچھے ہے، جبکہ بھارت اور بنگلادیش جیسے ممالک نے بھی بڑی حد تک شرح پیدئش کو قابو کر لیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -