اداسی کے موسم کوالوداع

اداسی کے موسم کوالوداع
اداسی کے موسم کوالوداع

  

میں مزید اداس نہیں رہنا چاہتا، اس لئے مجھے تسلی ہورہی ہے کہ خزاں اور پت جھڑ کا موسم جو مسلسل اداسی کا سودا بیچ رہا تھا، اب اپنی دکان بڑھانے جارہا ہے۔ موسمی کیلنڈر کے مطابق گرنے سے پہلے رنگ بدلنے والے پتوں کا جلوہ دکھانے والی اس رت کا آغاز یکم ستمبر سے ہوا تھا اور اب یہ تحریر لکھتے وقت اس کے ختم ہونے کی تاریخ 30نومبر قریب آچکی ہے، یکم دسمبر سے سردیوں کے موسم کا افتتاحی فیتہ کاٹنے کے لئے یخ بستہ ہوائیں تیاری کئے بیٹھی ہیں، بلکہ چند روز قبل ہمارے ہاں ہونے والی موسم کی پہلی برفباری سرما کی آمد آمد کا پہلے ہی بغل بجا چکی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پت جھڑ رُت میں اداسی نے جو پَر پھیلا رکھے تھے، وہ انہیں سمیٹ لے گی؟ ایک تصور یہ ہے کہ اداسی تو آپ کے اندر کے موسم کا نام ہے، اگر اندر ویرانی رہائش پذیر ہو تو باہر ہزار رنگ بکھریں اداسی پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ یعنی جنہوں نے اداس رہنے کا تہیہ ہی کرلیا ہو آپ انہیں مسکرانے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ویسے یہ بھی سچ ہے کہ دنیا مسکرانے کے مواقع کم کم ہی فراہم کرتی ہے، جبکہ ایک دوسرا تصور یہ بھی ہے کہ خزاں کا موسم اپنے ساتھ اداسی لے کر آتا ہے۔ یعنی آپ کتنے ہی خوش مزاج کیوں نہ ہوں، پت جھڑ کی رُت میں ماحول میں جو تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کے انسانی جسم پر بھی طبعی اثرات پیدا ہوتے ہیں، جو آپ کو اداس کردیں گے۔ سائنسی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے، جس کا میں تھوڑی دیر میں ذکر کروں گا۔

مجھے پہلے تو یہ بتانا ہے کہ جس وقت میں پت جھڑ کا یہ نوحہ لکھ رہا ہوں اداسی کا یہ موسم اپنی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ بس ہفتہ دس دن باقی ہیں، جب یکم ستمبر سے شروع ہونے والا یہ دور اپنی بکھیری ہوئی اداسیوں کو سمیٹ کر یکم دسمبر کو اپنا اقتدار موسم سرما کے حوالے کرنے جا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں موسمی ماہرین کے مطابق وہ اداسی ختم ہو جائے گی، جو پت جھڑ کے موسم نے آپ کو دی تھی، اگر آپ نے ہر موسم میں اداس اور تنہا رہنا سیکھ لیا ہے تو پھر آپ کا مقدر ورنہ ’’موسم کی سرکار‘‘ کے ضابطے کے مطابق یکم دسمبر کے بعد ان اداسیوں کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔

میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں صرف دلچسپ تحریر لکھتا ہوں۔ میں اپنے پڑھنے والوں کو گرفت میں رکھنے کے لئے کسی ہنر یا صناعی کا استعمال نہیں کرتا، ہاں یہ ضرور ہے کہ میں انہیں ساتھ رکھنے کا طریقہ جان گیا ہوں۔ میں انہیں یہ احساس دلا کر ان کا اعتماد حاصل کرلیتا ہوں کہ میری باتیں دل سے نکلتی ہیں تو میں انہیں ان تک پہنچانے میں کوئی ملاوٹ نہیں کرتا۔ اسی لئے ممکن نہیں ہے کہ کوئی میری تحریر کو درمیان میں چھوڑ دے، مجھے پتہ چل جائے تو میں لکھنا چھوڑ دوں گا۔ کبھی ’’خشک‘‘ حوالے دینے ناگزیر ہو جائیں تو میں انہیں ’’تر‘‘ کرکے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر میں نے بہت محنت سے تیار کردہ کوئی فلسفیانہ نکتہ تحریر کرنے کی کوشش کی ہو تو دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے والوں نے اسے پڑھا ہی نہیں تو سب کچھ بے کار ہوگیا۔یہ اتنی لمبی تمہید مجھے اس لئے باندھنی پڑی کہ جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا، مجھے موسم کے اداسی سے تعلق کے بارے میں سائنسی توضیح پیش کرنی تھی۔ اس لئے سوچ میں پڑگیا کہ کہیں خشک سمجھ کر آپ میری تحریر کو پڑھنا چھوڑ نہ دیں۔ مجھے معلوم ہے میرا خدشہ ہے، میری گفتگو دل سے دل تک ہوتی ہے، اس لئے مجھے یقین ہے آپ میرے ساتھ رہیں گے۔

اگر آپ میری تحریر پڑھتے رہتے ہیں تو آپ کو یہ پتہ چل گیا ہوگا کہ آپ کی طرح میں خود بھی اپنے بیان کا بہت مداح ہوں۔ حوالے کے لئے میں اپنا ایک شعر آپ کو سنا سکتا ہوں:

جو آپ کے دل میں ہو، اسے بیاں کرنے والا

یہاں پہ ہے کوئی شاعر اظہر زماں کی طرح

تو اب اس سائنسی تحقیق کا بیان سن لیجئے، جو میں آپ کو بتانے کے لئے دلچسپی طریقے ڈھونڈ رہا ہوں۔ سائنس دانوں اور نفسیات کے ماہرین نے بھی یہ تسلیم کرلیا ہے کہ پت جھڑ کے موسم میں جب پتے گرنے سے پہلے رنگ بدلتے ہیں تو فضا میں توڑ پھوڑ کی ایسی لہریں بکھیرتے ہیں، جو ماحول کو اداس کردیتی ہیں اور نہ چاہنے کے باوجود تنہائی کا احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ شاید آپ کو اس سوال کا تھوڑا سا جواب مل گیا ہوگا کہ کبھی کسی خاص وقت آپ پر اداسی حملہ آور ہوتی ہے تو جسے آپ بلاسبب سمجھتے رہے، اس کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے۔

اداسی کی کیفیت پت جھڑ کے تینوں مہینوں ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں ہوسکتی ہے، لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کی شدت ستمبر میں ہوتی ہے۔ لگتا ہے موسم کے حوالے سے پیدا ہونے والی اداسی اور غمگینی کو بھی اب ناپا جاسکتا ہے۔ میں نے ستمبر کے مہینے میں یہاں چھپنے والے ایک مضمون میں پڑھا تھا کہ اس برس کا ستمبر گزشتہ دس برس میں واشنگٹن ایریا کا ’’اداس ترین‘‘ مہینہ تھا، کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ اداسی کی سطح کو ناپنے کا کوئی باقاعدہ آلہ دریافت ہو چکا ہے۔ اس کا تو ذکر نہیں ملا، البتہ اس نیوز آرٹیکل میں یہ بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن کے محکمہ موسمیات کے مطابق اس ماہ کے سولہ میں سے تیرہ دن مسلسل موسم ابرآلود رہا، جو ستمبر کے مہینے کے لحاظ سے ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ یہاں ایک اور نکتہ دریافت کیا کہ بادل صرف پانی ہی اٹھا کے نہیں لاتے، وہ ساتھ میں فضا میں بکھیرنے کے لئے اداسیوں کا بھی اچھا خاصہ ذخیرہ لے کر آتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اداسی کی ’’نشرواشاعت‘‘ کے لئے بارش کا ہونا ضروری نہیں ہے، صرف بادلوں کا وجود کافی ہے۔ پت جھڑ یا اداسیوں کے اس موسم میں کیا ہوتا ہے؟ بستر سے نکلنا محال ہو جاتا ہے، جاب پر کام میں دل نہیں لگتا، اگر اس موسم میں آپ ایسا محسوس کریں تو ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کے بچھڑنے کے غم میں مبتلا ہیں تو الگ بات ہے ورنہ یقین کریں کہ یہ ماحولیاتی تبدیلی کا اثر ہے۔ ماحول بدلے گا، موسم بدلے گا تو یہ اداسی اور غمگینی بھی مسکراہٹوں میں بدل سکتی ہے۔

ہم دنیا کو مختلف احساسات کے ذریعے جانتے ہیں اور سورج ہمیں توانائی فراہم کرنے کا مرکزی عنصر ہے۔ بات سمجھ میں آتی ہے، سورج چمکتا ہے تو توانائیاں بکھیرتا ہے بادل اسے جب بھی ڈھانپیں گے تو توانائی اور حرکت میں کمی آ جائے گی اور سستی، اداسی اور تنہائی کا احساس بڑھ جائے گا۔ سورج کی روشنی نہ ہو تو دماغ کی ’’کمیسٹری‘‘ بدل جاتی ہے۔ میں نے جرنلزم سے پہلے کمیسٹری میں بھی ڈگری حاصل کررکھی ہے، اس لئے شاید میں تین کیمیکل کی بات آپ کو زیادہ آسانی طریقے سے بتا سکوں۔ نیند کے ہارمون کا نام میلاٹونن (MELATONIN) ہے، جو سورج کی روشنی کی عدم موجودگی میں زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔

دماغ ایک اور ہارمون یا کیمیکل بھی پیدا کرتا ہے، جس کا نام سیروٹونن (SEROTONIN) ہے، جو انسان کے اندر خوشی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے اسے ’’خوشی کا ہارمون‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سورج کی روشنی اور روشن دن میں اس ہارمون کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح سورج کی روشنی جلد پر پڑے تو وٹامن ڈی پیدا ہوتا ہے، جس کی جسم میں موجودگی اداس کیفیت کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔

یہ تین کیمیکل جو انسان کی اداسی یا خوشی کو ریگولیٹ کرتے ہیں، ان کا براہ راست تعلق سورج کی روشنی سے ہے۔ لیکن ہمارا تھیسس تو یہ تھا کہ پت جھڑ میں جب پتے رنگ بدلتے ہیں اور پھر سوکھ کر گرنا شروع ہوتے ہیں تو وہ ساتھ ساتھ ماحول کو اداس کیوں کرتے جاتے ہیں۔ کیا خزاں کے اس موسم میں سورج نہیں نکلتا اور ہر وقت بادل ہی چھائے رہتے ہیں اور اس سے پہلے یہ سوال کہ کیا ہر چیز کے لئے ایک سائنسی توضیح کی ضرورت ہے۔ کیا اتنا نتیجہ کافی نہیں کہ 30 ستمبر کو ہم اداسیوں کو رسمی طور پر الوداع کردیں گے۔

میری بات تو مکمل ہو گئی ہے اور یہاں تک پڑھ کے آپ نے جو میرا ساتھ دیا، اس پر میں خوش ہوں۔ لیکن جانے سے قبل ایک ذاتی بات کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ میری ماں نواب بیگم اکتوبر کے مہینے میں خزاں کے ایسے ہی کسی موسم میں بہت سال قبل ہم سے رخصت ہوئی تھی۔ ذاتی طور پر تو ہمارا خزاں کا موسم تب سے جاری ہے۔ میرا وہابی مسلک تو کہتا ہے کہ جدا ہونے والے اپنے عزیز کا تین دن کے بعد سوگ نہ مناؤ، اس لحاظ سے تو میں بہت بڑا ’’گہنگار‘‘ ہوں، میرا سوگ تو مستقل ہو چکا ہے۔ مجھے اکتوبر کی وہ تاریخ بھی معلوم ہے، جب اس سوگ کا آغاز ہوا تھا، لیکن میرے اس موروثی مسلک میں کسی خاص تاریخ کو یاد کرکے برسی منانے کی ممانعت ہے، اس لئے میں نے ڈرتے ہوئے وہ تاریخ نہیں بتائی۔ ورنہ میری تو یہ کیفیت ہے کہ ماں کے بچھڑنے کے بعد تمام تر نام نہاد خوشحالی کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی نے گھر سے دھکا دے دیا ہو اور دربدر ہوگئے ہوں۔

میں نے اپنی ماں کے لئے یہ شعر لکھا تھا:

میری ماں کی گود میسر تھی کبھی مجھ کو

میں ہمیشہ تو دربدر نہیں تھا پھرتا

تو بات ہو رہی تھی، پت جھڑ، خزاں یا اداسی کے موسم کی۔ 30نومبر کو یہ موسم سرکاری طور پر ختم ہو جائے گا۔ عملاً ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، ہم کم از کم کوشش تو کرسکتے ہیں، اداسی کے موسم کو الوداع کرنے کی۔

مزید :

رائے -کالم -