تحریک انصاف ’’ہوشیار باش‘‘

تحریک انصاف ’’ہوشیار باش‘‘
تحریک انصاف ’’ہوشیار باش‘‘

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج دیکھا جس میں مسلم لیگ ن کے راہنما مشاہد اللہ خان ٹی وی اینکر پرسن کو کہہ رہے ہیں کہ میں پاکستانی فلموں اور اسٹیج کی اداکارہ نرگس کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فیاض الحسن چوہان کو اُن کے بارے میں منفی بیان دینے پر معافی مانگنے پر مجبور کر دیا ۔مشاہد اللہ خان کا اس حوالے سے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ایک صوبائی وزیر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی نازیبا گفتگو کرے کہ جس پر پھر معافی مانگنی پڑے ، مشاہد اللہ خان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے معافی مانگنے کا یہ ایک واقعہ دیکھا یا سنا ہے فیاض الحسن چوہان کئی مرتبہ اپنے کہے پر شرمندہ ہونے اور معافی مانگنے کا اعلان کرچکے ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس وقت سخت ترین دور کا سامنا کر رہی ہے ، وطن عزیز میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ، ڈالر کے سامنے پاکستانی روپیہ تاریخی مات کھا چکا ہے ، حکومت انتخابی مہم کے دوران عوام کے ساتھ جو وعدے کر بیٹھی تھی اُن میں سے ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہو سکا ، بہر حال وزیر اعظم عمران خان میڈیا اور سماجی اداروں کی طرف سے کی جانے والی تنقید برداشت کر رہے ہیں اور دوسرے ممالک کے دورے کرکے پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں ایسے میں فیاض الحسن چوہان اپنے منفی ور بلا وجہ دیئے جانے والے بیانات سے جہاں خود معافی مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں

وہیں وہ تحریک انصاف اور وزیر اعظم کی ساکھ کو بھی متاثر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ، اسی وجہ سے اُن کے ساتھی وزراء اور وفاقی کابینہ نے مشترکہ طور پر فیاض الحسن چوہان سے اطلاعات و نشریات کی وزارت واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس حوالے سے نئے وزیر کا نام بھی منتخب ہو گیا ہے با خبر ذرائع بتاتے ہیں کہ بہت جلد تحریک انصاف پنجاب کے لئے اطلاعات و نشریات کا نیا وزیر منتخب کر کے فیاض الحسن چوہان کی چھٹی کروا رہی ہے ،

اس تبدیلی کے پیچھے فیاض الحسن چوہان کی چرب زبانی اور نازیبا الفاظ پر مبنی بیانات ہیں جو وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین اور فلمی ماحول کے خلاف دینا ثواب کا کام سمجھتے ہیں ۔پاکستان کے معتبر زرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک فیاض الحسن چوہان کو یقین ہی نہیں کہ وہ صوبائی وزیر ہیں، لیکن جس دن اُن سے وزارت واپس لی گئی اُس دن انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ اب وزیر نہیں رہے ۔وزیر کسی بھی محکمے کا ہو وہ ایک با وقار عہدے کا مالک ہوتا ہے ،

دوسرے سیاسی راہنماوں یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی نقالی کرنا اُن کی آواز نکالنے کی کوشش کرنا یا اُن کی چال ڈھال کی اداکاری کرکے سامعین اور حاضرین سے داد لینے کی غرض سے دوسروں کا تمسخر اُڑانا کم از کم یہ کسی وزیر کو زیب نہیں دیتا ، لیکن فیاض الحسن چوہان جس دن سے اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں وہ اپنی انہی اُوٹ پٹانگ حرکتوں کی وجہ سے مسلسل تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں وہ ایسا کرتے ہوئے وقتی طور پر حاضرین کا دل جیت لیتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ ایسی حرکات اُن کی پارٹی کو کیا نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے ۔

یہ وزیر موصوف وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ایسے معافی مانگنے والے بیانات پر سخت رویئے کا سامنا بھی کرچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ تو مضحکہ خیز بیانات دینے کا سلسلہ تھما اور نہ ہی دوسروں کا تمسخر اُڑانے کی روائت نے دم توڑا ہے ، وزیر اعظم پاکستان کو چاہیئے کہ وہ اپنے اُوپر ہونے والی تنقید میں وزیر اطلاعات و نشریات فیاض الحسن چوہان کی جانب سے پارٹی کو تباہ و برباد کرنے اور پارٹی سے محبت کرنے والوں کو شرمندگی اُٹھانے والے بیانات کا بوجھ اُتار پھینکیں اور اپنے صوبائی وزیر کو منع کریں کہ وہ ایسے بیانات سے اجتناب کرے جس سے اُن کی اپنی شخصیت اور تحریک انصاف پر کوئی اُنگلی اُٹھے ، میں یہ لکھتے ہوئے قطعاً کوئی عار محسوس نہیں کروں گا کہ میں فیاض الحسن چوہان کو ایک دبنگ ، نڈر اور حق بات کہنے والی شخصیت کے طور پر جانتا تھا،

لیکن اُنہوں نے ریحام خان کی کتاب کو جس طرح ’’ انتہائی غلیظ ‘‘ فلم سے منسوب کیا اور جس طرح قرآن پاک کھول کر اُس پر ہاتھ رکھا اور قسم اُٹھا کر کہا کہ شیخ رشید اچھا انسان نہیں ہے ، اداکارہ نرگس کو روزے رکھانا اور حج کرانا ، اسٹیج اداکارہ میگھا کے بارے میں بیانات دینا اور اسٹیج ڈراموں کے پوسٹرز پر ’’ فی میل اداکاراوں ‘‘ کے پوز تک بتانا کہ وہ کس طرح پوزنگ کرکے تصاویر بنواتی ہیں جیسے الفاظ فقرات اور خیالات نے مجھے سمجھا دیا کہ میں فیاض الحسن چوہان کے بارے میں غلط رائے قائم کر بیٹھاہوں ۔ تمام پاکستانیوں کی طرح میں بھی دُعاگو ہوں کہ ہمارا ملک نا قابل تسخیر طاقت بنے ، ہمارے قرضے اُتر جائیں ، اللہ تعالیٰ وزیر اعظم پاکستان کی اُن کوششوں کو کامیاب کرے جو وہ ملک کی بقاء اور سلامتی کے لئے کر رہے ہیں ،

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو جن حالات میں پاکستان ملا وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، لیکن ایسے حالات میں تحریک انصاف کے نمائندے ہی اگر غلط بیانات دیں گے یا ایسے خیالات کا اظہار کریں گے کہ جن پر انہیں بعد میں شرمندگی ہو اور معافی مانگنی پڑے تو عوام الناس ایسے افراد سے منحرف تو ہو گی ہی، لیکن وہ ملک کے سربراہ اور تحریک انصاف کے بارے میں بھی منفی رائے قائم کر لے گی ، ایسے حالات میں کہ جب ہر طرف تحریک انصاف پر تنقید ہو رہی ہے ، کہیں سو دنوں کا حساب مانگا جا رہا ہے ، تو کہیں مہنگائی کا رونا رویا جا رہا ہے ،

غریب مزید غریب ہو رہا ہے اور اِن کا کوئی پرسان حال نہیں جیسے موضوعات زیر بحث ہیں اور ایسے میں تحریک انصاف کے ذمہ دار وزیر اپنی پارٹی کو درپیش مسائل میں مزید اضافہ کر رہے ہوں تو میرا خیال ہے کہ اُس وزیر موصوف کو تبدیل کرنا یا اُس سے وزارت واپس لے کر ایک نئی مثال قائم کر دینا بہتر فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے ایسا عمل یقینی طور پر تحریک انصاف پر عوام کے مزیداعتماد کا باعث بنے گا اور کہا جائے گا کہ تحریک انصاف کے اندر حقیقی انصاف ہوتا ہے

اور انصاف کرتے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اُس کی زد میں کون آ رہا ہے بس انصاف کر دیا جاتا ہے ۔پاکستانی عوام میرے ساتھ اس دعا میں ضرور شامل ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو پاکستان کی کامیابی و کامرانی کے لئے ایک مسیحا بنا دے اور انہیں ایسی طاقت دے کہ وہ اسلامی ممالک کو اکھٹا کرکے مسلمانوں کا وقار دُنیا بھر میں بلند کر سکیں آمین ثم آمین۔

مزید :

رائے -کالم -