نئے پاکستان کے سو دن کا شجرہ

نئے پاکستان کے سو دن کا شجرہ
نئے پاکستان کے سو دن کا شجرہ

  

پاکستان تحریک انصاف پچھلے پانچ سال سے تبدیلی کا پرچار کرتی آئی ہے ۔ اس تحریک کا فائدہ بہر حال یہ ضرور ہوا کہ پاکستان میں کرپشن کو پاکستانی معاشرے میں ایک جرم اور لعنت تصوّر کرلیا گیاہے وگرنہ سفید پوش جرائم کی ہر صنف پر کھل کر طبع آزمائی جاری تھی اور اسے معاشرہ ایک نظریہ ضرورت کے تحت قبول کرنے پر مجبور تھا ۔ ہر کوئی ذہنی طور پر اس کے لئے تیار رہتا تھا۔اب اس میں تبدیلی یکایک تو ممکن نہیں کیونکہ کئی سالوں سے یہ ساز باز چلتی آ رہی تھی۔اس ساری اوپر کی آمدن بند ہونے کے باعث یقیناً واویلا تو ہو گا کیونکہ یہ مرض ہر شعبہ اور ہر سوچ کا حصہ بن چکا تھا ۔نئی حکومت نے عوام میں یہ سوچ پیدا تو کر دی لیکن عمران خان یو ٹرن کو ایک لازمی سٹریٹجی کہتے ہوئے یہ بھول گئے کہ دنیا کے عظیم لیڈر اعتبار اور استقامت کا مظہر ہوتے ہیں ۔اب آئیں سو دن کی کہانی کی طرف جس میں وزراء کی کامیابیوں کے دعووں کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں ۔

اس دوڑ میں مراد سعید سب سے آگے ہیں جن کی تعریف عمران خان صاحب نے بھی کی ہے ۔ان کے کارناموں میں پوسٹل سروس کی بہتری ،اور نئے سفری پورٹل کا اجرا ء شامل ہے ۔اسی طرح شیخ رشید صاحب کی وزارت ہے ان کے کھاتے میں دو ارب کے خسارے میں کمی اور دس نئی ٹرینوں کا اجراء شامل ہے ۔اسی طرح شاہ محمود قریشی کے پلڑے میں سرکاری دورے اور اقوام متحدہ میں خطاب کو ڈال دیا گیا ہے ۔وزیر مملکت برائے داخلہ کو بھی شاباش مل رہی ہے۔ اسد عمر کو بھی شاندار کارکردگی پر شاباش مل رہی ہے کیونکہ انہوں نے بہت کامیاب مذاکرات کئے اور پاکستان کو قرضہ ملا ۔فیصل واڈا اور چوہدری فواد کو بھی سراہا گیا ہے ۔ان وزراء کے علاوہ کسی کی خاطر خواہ کارکردگی کا ذکر ہی نہیں جبکہ اعظم سواتی نے اپنی شاہانہ وزارت کے لئے غریب کی گائے تک اپنے محل کی زینت بنا لی ۔اس میں کسی گورنر کسی وزیر اعلٰی اور کسی صوبائی وزیر کا ذکر تک نہیں ۔

یہ ایک طرف کا تجزیہ ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک باپ اپنے اکلوتے بیٹے کے لےئے رات کے آخری پہر حلوے لائے اور گہری نیند میں سوئے بچے کو اٹھا کر حلوہ کھانے پر زور دے اور نہ کھانے پر سخت ناراض بھی ہو۔وہ یہ نہ سمجھے کہ بچے کو اس وقت کیا چاہئے ۔یعنی نیند کے طلب گار بچے کے لئے حلوہ بے معنی ہے ۔ یہی حال اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ہے ۔کرپشن میں کمی اور کرپشن پر کنٹرول کی کوشش بہت خوب لیکن کرپٹ عناصر کا جھرمٹ بھی ہمراہ اور ان پر کوئی ایکشن بھی نہیں، ان کو شاباش بھی ملتی رہتی ہے ۔بچت کی کوشش اچھی لیکن عمران خان اور چند ایک وزیروں کے علاوہ سبھی پروٹوکول کے دلدادہ ہیں ۔خصوصاً وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے حال ہی میں وسیع پروٹوکول کا شاندار مظاہرہ کیا۔۔۔۔ اصل مسلہ یہ ہے کہ عوام کو کیا ریلیف ملا۔پٹرول مہنگا ہوا جبکہ پوری دنیا میں یہ سستی ترین سطح پر آیا ہوا ہے ۔پھر یہ خوش خبری آئی کہ سعودی عرب دو سال مفت تیل دے گا۔لیکن اس سے بھی فرق نہ پڑا ۔اسی طرح بجلی بھی مہنگی کر دی گئی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں۔ جبکہ فیول مفت آرہا ہے ۔ بجلی کی چوری پر آج تک کوئی مہم چلی ۔۔۔۔نہیں۔ کیونکہ بجلی چور تقریباً سبھی ہیں، زیادہ تر منتخب نمائندے بل دینا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ایک علاقے کے یونٹ پورے کرنے کے لئے لیٹ یونٹ ان گھروں پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے سے بجلی چوری نہ کر نیکا خمیازہ برداشت کر رہے ہوتے ہیں ۔پرائیویٹ سکول، کالج،یونیورسٹیاں ،میڈیکل کالجز اور اکیڈمی مافیا کسی نے ان کا سوچا،کوئی پالیسی ۔۔۔۔۔پولیس پر کوئی ایکشن ۔۔۔کوئی پالیسی ۔۔۔کوئی نہیں ۔۔۔تجارتی اور صنعتی حلقے ٹیکس چور ی، ناجائز منافع خوری اور غیر میعاری اشیا ء کی تیاری میں ملوث ہیں ۔اس لئے ایکشن نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کی ناراضگی مول نہیں لی جا سکتی۔۔۔۔۔سب پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ۔مہنگائی زورں پر ہے ۔قرضوں کا حصول ضروری لیکن اس کے علاوہ بھی کچھ کر لیں ۔

پاکستان کی عوام کو امید کی کرن دکھانے والے کئی آئے اور چلے گئے۔۔۔یہاں مسائل کے انبار میں مبتلا عوام کو اس بات سے اس قدر دلچسپی نہیں کہ گورنر ہاوس خالی ہے یا فلاں نے پروٹوکول لینے سے انکار کر دیا۔۔۔۔اسکو اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ بجلی کا غلط بل لے کر اسے فریاد نہ کرنی پڑے ۔اسکے بچے کو مفت تعلیم ملے ۔اس کا علاج مفت ہو ۔معاشرے میں اس کی عزت ہو۔۔۔۔ووٹ اور پارلیمنٹ کی عزت پر ہرروز حرف آ جاتا ہے ۔۔۔۔عوام کی عزت،جان، مال اور مستقبل سبھی کئی بار لٹ چکا کسی کو فرصت ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔وزراء شاباشی کے لیے عوام سے رجوع کریں۔ اس ساری صورتحال میں عوام ہمیشہ کی طرح قربان ہو رہی ہے اور اسے صبر کا پھل کھانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید :

بلاگ -