اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 53

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 53
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 53

  

سہارن پور جس کی تحصیل رُڑ کی ہے۔ اسی رُڑ کی کا گاؤں کلیر شریف ہے۔ اس علاقے کا حاکم بہت سنگدل اور ظالم تھا۔ حضرت علاؤالدین صابرؒ ایک عرصہ تک کلیر کی سرائے میں مقیم رہے۔

کلیر کے باشندے آپ کے پاس آکر حاکم وقت کی شکایت کرتے مگر آپ ہر مرتبہ یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ صبر کرو۔ ابھی انتظار کی گھڑیاں ختم نہیں ہوئیں۔ کچھ عرصہ کے بعد جمعہ کے دن حضرت صابرؒ جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد تشریف لے جانے لگے۔ جاتے ہوئے آپ نے سرائے کی پوڑھی مالکن سے فرمایا’’اپنے بیٹے کو ہدایت کردینا کہ آج وہ جمعہ کی نماز کو نہ جائے۔‘‘ مگر وہ آپ کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہی۔

آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور اگلی صف میں امام کے قریب بیٹھ گئے۔

امام نے آپ سے کہا ’’یہ جگہ حاکم کے لیے ہے۔‘‘

آپ نے نہایت نرمی سے فرمایا ’’خدا کے گھر میں سب برابر ہیں۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 52 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مگر امام نے آپ کی ایک نہ مانی۔ آپ کو اس حد تک مجبور کیا کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوگئے پھر آپ نے مسجد کی چھت کی طرف نظر ڈالتے ہوئے فرمایا ’’حجت پوری ہوچکی۔ اب تو کسی کو کوئی شکایت نہ ہوگی۔‘‘

لوگ آپ کی باتوں کو سمجھ نہ سکے اور آپ کا مذاق اڑانے لگے۔ حضرت خاموشی سے مسجد کے دروازے پر آکھڑے ہوئے۔ اتنے میں حاکم بھی آگیا۔ جیسے ہی وہ مسجد میں داخل ہوا۔ سب اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔

مخدوم پاکؒ نے ایک آہ بھرتے ہوئے فرمایا ’’افسوس، یہ لوگ خدا سے زیادہ آدمی کا احترام کرتے ہیں۔‘‘

خطبہ کے بعد نماز شروع ہوئی اور جب امام کے ساتھ دوسرے نمازی سجدے میں گئے تو آپ نے مسجد کے میناروں کی جانب دیکھتے ہوئے فرمایا ’’تمام عالم اپنی بندگی کا اظہار کررہا ہے پھر تم کیوں سجدہ نہیں کرتے؟‘‘

ابھی آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہی ہوئے تھے کہ مسجد گرگئی اور حاکم کے ساتھ تمام نمازی بھی دب کر مرگئے۔

سرائے کی مالکن کا بیٹا بھی نماز پڑھنے آیا ہوا تھا۔ وہ واقعہ سن کر دوڑی ہوئی پہنچی اس نے آپ سے کہا کہ اس کا بیٹا آپ ہی کی وجہ سے مرا ہے۔

آپ نے فرمایا ’’میں نے پہلے ہی تجھے منع کردیا تھا۔ پھر بھی اگر میری وجہ سے تیرا بیٹا ہلاک ہوا تو اینٹوں اور پتھروں کے ڈھیروں میں سے اسے تلاش کرلے۔‘‘

بڑھیا بے قرار ہوکر ملبہ کی طرف دوڑی، جب اس نے ملبہ ہٹایا تو اس کا بیٹا زندہ تھا۔ اس مسجد کے کھنڈرآج بھی کلیر شریف بھی موجود ہیں۔

***

حضرت سمنون محؓؒ نے سفر حج سے واپسی پر اہل فید کے اصرار پر وعظ فرمایا لیکن عوام آپ کے وعظ سے متاثر نہ ہوئی اور نہ ہی کسی نے کوئی اثر قبول کیا اس پر آپ نے قندیلوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’اب میں تمہیں محبت کا مفہوم سمجھاتا ہوں۔‘‘ اور جب آپ نے مفہوم بیان کرنا شروع کیا تو قندیلوں پر ایسا وجد طاری ہوا کہ باہم ٹکراکر پاش پاش ہوگئیں۔

***

حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ روم کے گردونواح میں مَیں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک شخص کو شکنجہ میں کس کر مار پیٹ کررہے ہیں اور وہ ایک شخص دور کھڑا کہہ رہا ہے کہ اس کو اچھی طرح مارو، ورنہ بڑا بت خفا ہوجائے گا اور جب میں نے پٹنے والے سے پوچھا کہ یہ لوگ تجھے کیوں ماررہے ہیں تو اس نے کہا ’’ہمارا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ گناہوں یس پاک ہوئے بغیر بڑے بت کا نام زبان سے نہیں نکال سکتے اور اس کے ڈر سے میں گریہ وزاری بھی نہیں کرسکتا۔‘‘

یہ سن کر آپ نے فرمایا ’’خدا کا احسان عظیم ہے کہ اس نے مجھے وہ دین عطا کیا جس میں خدا کا نام لیتے ہی بندہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے اور جب اس کی معرفت حاصل کرتا ہے تو سکوت اختیار کرلیتا ہے۔ جیسا کہ خدا کا ارشاد ہے کہ خدا کی شناخت کرنے والوں کی زبان گنگ ہوجاتی ہے۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 54 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اللہ والوں کے قصے -