صدر ٹرمپ اور مسئلہ کشمیر

صدر ٹرمپ اور مسئلہ کشمیر

  



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کے جاری عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جناب صدر مقبوضہ ریاست جموں اور کشمیر کے تنازع کے حل کے لئے بہرطور اپنی مساعی جاری رکھیں۔اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں صدر مقامات پر متعلقہ حکام نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ ایک اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کا محور افغان امن پراسیس ہی تھا۔ یاد رہے گزشتہ ہفتے کے دوران طالبان کے تین اہم رہنماؤں کے تبادلے میں دو مغربی پروفیسروں کو رہائی نصیب ہوئی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اسے افغانستان میں گزشتہ چالیس سال سے جاری کشت و خون کو سیاسی مفاہمت تک پہنچانے کے لئے ایک امید افزا اقدام قرار دیا تھا اور اس توقع کا ظہار کیا تھا کہ انتہائی خوفناک اور مہنگا جنگی تنازع انجام کو پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان نے اس سال کے آغاز میں امریکہ سے افغان امن مذاکرات کو بڑھاوا دینے کے لئے بڑی ٹھوس معاونت کی تھی اور اپنی قید سے طالبان کے انتہائی سینئر رہنماؤں کو رہا کرکے دوحہ (قطر) پہنچانے کا اہتمام کیا تھا جہاں مذاکرات کی بساط بچھی ہوئی تھی۔ ستمبر کے مبینے میں فریقین معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے کہ صدر ٹرمپ نے اچانک مداخلت کرتے ہوئے بات چیت کا دروازہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ افغانستان میں طالبان نے ایک بڑا حملہ کرکے نیٹو کے فوجی اہل کاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ صدر ٹرمپ اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے سے انکاری ہو گئے۔ بتایا گیا تھا کہ کیمپ ڈیوڈ میں افغان صدر اشرف غنی اور طالبان رہنما پہنچ کر ایک معاہدے پر دستخظ کرنے کے لئے تیار تھے کہ میز ہی کو الٹا دیا گیا، لیکن گزشتہ ہفتے کے دوران قیدیوں کے تبادلے نے امید کے نئے چراغ جلا دیئے ہیں۔ افغان حکومت نے اپنی قید سے تین سینئر طالبان رہنماؤں کو رہا کیا، جن میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے بھائی بھی شامل تھے، اس کے عوض کابل یونیورسٹی کے دو غیر ملکی پروفیسروں کو طالبان نے رہا کر دیا۔ ٹرمپ، عمران رابطے سے پتہ چلتا ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر دلچسپی واپس آ چکی ہے اور نتیجے میں اس منزل تک پہنچا جا سکتا ہے جس کا خواب برسوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

اخباری رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں حکام طالبان کی قید سے مزید کئی مغربی قیدیوں کو رہائی دلوانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے پاکستانی مساعی کا اعتراف کیا اور ان کا (باقاعدہ) شکریہ بھی ادا کیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں محصور شہریوں کی حالت زار کی طرف توجہ دلائی کہ 100دن سے زیادہ گزر جانے کے باوجود ان کے مصائب میں کمی نہیں آئی۔ معمولات زندگی بحال نہیں ہونے دیئے جا رہے۔ اپنا وطن اور اپنا گھر ہر کشمیری کے لئے قید خانہ بنایا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس یقین دہانی کرالی، اس بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس حوالے سے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ضرور کیا۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لئے کوئی عملی اقدام تو ابھی تک نہیں کر پائے، لیکن انہوں نے متعدد مواقع پر دلچسپی کا اظہار ضرور کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب واشنگٹن گئے تھے، ان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر صاحب نے ثالثی کی پیش کش کی تھی، انہوں نے وزیراعظم مودی سے اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ مودی بھی اس حوالے سے بات کر چکے ہیں۔ لیکن بھارت نے اس پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ستمبر کے مہینے میں وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے نیویارک پہنچے تو صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران پھر تنازعہ کشمیر زیر بحث آیا تو صدر ٹرمپ نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان اور بھارت کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں، لیکن بدقسمتی سے بھارت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

افغانستان میں امن قائم کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ یہ دونوں ممالک جغرافیائی اور ثقافتی طور پر آپس میں اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک کے حالات دوسرے کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ افغانستان میں سوویت فوجوں کے داخلے کے بعد سے تو پاکستان افغان مسئلے کا ایک براہ راست فریق بن چکا ہے۔ لاکھوں افراد نے یہاں پناہ لی اور مجاہدین نے بھی یہیں امان پائی۔ پاکستان نے سوویت فوجوں کے خلاف افغان مزاحمت کا جس طرح دیوانہ وار اور مردانہ وار ساتھ دیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ امریکہ چین اور دنیا کے بہت سے بڑے اور چھوٹے ممالک افغان مجاہدین کی پشت پر کھڑے ہو گئے اور ایک طرح سے پاکستان کے اتحادی سمجھے جانے لگے۔ سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ایک طویل کہانی ہے جس میں کئی نشیب و فراز آئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ امریکہ اور نیٹو افواج نے باقاعدہ حملہ کرکے طالبان حکومت کو ختم کر دیا۔ وہ دن جائے آج کا آئے، امن قائم نہیں ہو سکا۔ پاکستان اس سے بھی براہ راست متاثر ہوا۔ امریکی اور نیٹو افواج کی معاونت کی اسے انتہائی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، اس کی معیشت پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے اور ہزاروں افراد جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے جن میں مسلح فوج کے افسروں اور جوانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ ہزاروں عام شہری بھی شامل تھے۔ کم و بیش دو عشروں پر پھیلا ہوا کشت و خون کا یہ سلسلہ اگر ختم ہوتا ہے تو اہلِ پاکستان دنیا کے سب سے مسرور اور مطمئن لوگ ہوں گے …… لیکن صرف افغان مسئلے کے حل ہونے سے پاکستان کے تمام خارجی مسائل حل نہیں ہوتے۔ پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔ ان کی بحالی میں سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ بھارت اس معاملے میں اپنی بین الاقوامی کمٹ منٹس پوری کرنے کو تیار نہیں۔برسوں پہلے اقوام متحدہ کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کر چکی، سیکیورٹی کونسل وہاں استصواب رائے کے لئے لائحہ عمل بھی دے چکی۔ بھارت اسے تسلیم بھی کر چکا۔ اس کے باوجود بات آگے بڑھ رہی ہے نہ بن رہی ہے۔وزیراعظم پاکستان بار بار بین الاقوامی رہنماؤں اور اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کرا رہے ہیں۔ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان تناؤ کے نقصانات کا بھی ذکر کررہے ہیں، لیکن بھارتی رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں آ پا رہی۔ پاکستانی قوم توقع رکھتی ہے کہ صدر ڈونلڈٹرمپ اس انسانی مسئلے کی طرف بھی توجہ دیں گے کہ امریکہ جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کا علمبردار ہے، اسے دنیا بھر میں ان کے تحفظ کا دعویٰ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مجبور و محصور کشمیریوں کی طرف پھر نگاہ التفات کیوں نہیں اٹھ رہی؟ یہ سوال ہر کشمیری کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کی زبان پر بھی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ