سموگ اور مصنوعی بارش!

سموگ اور مصنوعی بارش!

  



گزشتہ دو روز سے پنجاب کے مختلف شہر سموگ (فضائی آلودگی) کی زد میں ہیں۔ جمعرات کو ہوائی اڈے کے اردگرد اتنی زیادہ آلودگی تھی کہ بیرون ملک سے آنے والی پروازیں بھی لینڈ نہ کر سکیں اور ان کو اسلام آباد کی طرف روانہ کر دیا گیا، گزشتہ روز(22نومبر) کو تو لاہور کے تعلیمی ادارے بھی بند کر دیئے گئے کہ آلودگی کا تناسب 4سو سے بھی بڑھ گیا تھا۔ درمیان میں کچھ دیر کے لئے ہوا چلنے سے سموگ میں معمولی کمی واقع ہوئی تاہم صحت مند ماحول پھر بھی نہ بن سکا، ایک خبر کے مطابق کمشنر لاہور ڈویژن نے ماہرین کی تجویز کے مطابق سموگ سے نجات کے لئے صوبائی حکومت کو سمری ارسال کی ہے کہ مصنوعی بارش کے لئے رقم مختص کی جائے۔ ماہرین کے مطابق یہ بھی ایک طریقہ ہے جس سے سموگ ختم ہو سکتی ہے کہ قدرتی بارش نہیں ہو پا رہی، حالانکہ آسمان پر بادل موجود ہیں لیکن دھوئیں اور دھند کی وجہ سے برس نہیں پا رہے، مصنوعی بارش کے لئے پچاس کروڑ روپے طلب کئے گئے ہیں کہ صرف لاہور ہی نہیں یہ عمل دوسرے متاثرہ شہروں میں بھی دہرایا جائے گا۔سموگ کی وجوہات اور اس سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور اب یہ تجویز کہ مصنوعی بارش برسا کر نجات حاصل کی جائے پیش کی گئی، اگر یہ درست اور ممکن ہے تو اس میں یہ تاخیر مناسب نہیں تھی، بہتر ہوتا کہ پہلے ہی انتظام کر لیا جاتا، دیر آید درست آید اب بھی اس عمل میں جلدی کی جانا ہی بہتر ہو گا کہ انسانی صحت کا سوال ہے۔ وزارت خزانہ کو اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے بلکہ خود وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو فوری طور پر منظوری دے کر رقم دے دینا چاہیے تاکہ جتنی جلد ممکن ہو یہ پریشانی ختم ہو، اب تو بچوں کی تعلیم کا بھی حرج ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس لئے کوئی کلرکانہ رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ