ہم عرض کریں گے تو…………

ہم عرض کریں گے تو…………
ہم عرض کریں گے تو…………

  



ایک روز قبل وفاقی وزیر پاور عمر ایوب نے ایک تفصیلی بات کی۔ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت بجلی کی قیمت بھی کم کرے گی کہ سابقہ حکومتوں نے مہنگی بجلی پیدا کی اور ہم سستی بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے جا رہے ہیں جو پانی اور ہوا سے ہو گی اور سستی پڑے گی۔ وزیر موصوف نے 2025ء تک کا منصوبہ بتا دیا، ابھی ان کے الفاظ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ نیپرا نے عوام پر پھر ایک بجلی بم گرا دیااور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں ایک روپے 82پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ ستمبر کے مہینے میں فیول کے نرخوں کی وجہ سے کیا گیا اور دسمبر کے بلوں میں صارفین سے وصول کیا جائے گا اس سے حکومتی خزانے میں پھر سے اربوں روپے جائیں گے اور شہریوں کی جیب سے نکلیں گے۔

لکھنا تو سیاست ہی کے حوالے سے ہے لیکن صبح ہی صبح یہ خبر نظر سے گزری اس لئے اس پر بھی بات کر لیتے ہیں۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا مطلب یہ ہے کہ ستمبر کے مہینے میں تیل کے نرخوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے پیداوار پر بوجھ پڑا اس سے بڑی غلط بیانی (معاف کیجئے گا،جھوٹ غیر پارلیمانی ہے، اس لئے گریز کیا) کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ قارئین اور صارفین آپ سب کو یاد ہو گا کہ گزشتہ تین چار مہینے سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی ہو رہی ہے اور گزشتہ دو ماہ کے لئے تو اوگرا کی طرف سے پٹرولیم کے نرخ کم کرنے کی تجویز دی گئی لیکن وزارت خزانہ نے اسے تسلیم نہ کیا اور رعائت کو محترم اسحاق ڈار کے دور کی طرح اپنے کھاتے میں ڈال لیا اور پٹرولیم کے نرخ جوں کے توں رہے۔ ایسا دوبار کیا گیا اور ہر دو ماہ کے لئے نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر بجلی مہنگی کی اور بوجھ عوام پر منتقل کیا۔

حالانکہ ان مہینوں میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات سستی ہونا چاہیے تھیں بلکہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے طور پر عوام کو رعایت ملنا چاہیے تھی۔ یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور خواہ مخوا بوجھ شہریوں پر منتقل کیا گیا ہے، اس سے عام لوگوں پر تو اثر پڑے گا لیکن اشیاء صرف کے نرخ بھی متاثر ہوں گے، مانا کہ آپ ٹیکس ریکوری کا ہدف پورا نہیں کر پا رہے اور آئی ایم ایف والوں نے آپ پر دباؤ بڑھایا ہے تو اس کا مطلب یہ کہاں سے نکلا کہ آپ ایسے چور راستوں سے ہدف میں کمی کرنے کی کوشش کریں۔

وزیراعظم محترم ٹماٹروں، پیاز اور سبزیوں کے نرخوں میں اضافے کو اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہیں، لیکن ان عوامل پر غور نہیں کرتے کہ سرکاری پالیسیوں اور آئی ایم ایف کے احکام کی تعمیل کے باعث پوری معیشت بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ اگر کوئی شہری یہ تقاہل کرے کہ سابقہ ادوار میں پٹرولیم کے نرخ کیا تھے۔ ڈالر اور روپے کی قدر میں کتنا فرق تھا تو آپ ناراض ہو جاتے ہیں اور اب تو لوگ آٹے، چینی اور سبزیوں کے نرخوں کا موازنہ بھی کر رہے ہیں، اے صاحبان اقتدار! آپ عوام کو بے وقوف سمجھنا چھوڑ دیں، مہنگائی، بے روزگاری اور صحت کی سہولتوں میں فقدان نے لوگوں کو آپ سے مایوس کر دیا اور اب تو دعاؤں کی جگہ بددعاؤں نے لے لی اور عوام اور مظلوم کی آہ سے تو آسمان بھی ہل جاتا ہے، اپنی اداؤں پر خود ہی غور کیجئے۔

ہم نے کئی ہفتوں پہلے انہی سطور میں ایک سے زیادہ مرتبہ ان حالات کا نقشہ کھینچا اور بعض ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ نومبر سے شروع ہونے والے معاملات اول تو فروری ورنہ مارچ میں مکمل ہو جائیں گے۔ اس وقت ہمارے بعض دوستوں اور ساتھیوں نے بھی توجہ نہیں دی تھی اور اب تو برسراقتدار حضرات کے خیر خواہ بھی کچھ اور ہی کہنے لگے ہیں، ایک برادر نے تو فیصلہ سنا دیا، جبکہ ایک ثقہ لکھنے والے نے کپتان کی ٹیم کے حوالے سے بہت کچھ کہا البتہ اس کے ساتھ ہی چھپنے والے کالم کے مصنف نے بڑی رعایت کی کہ مشورہ دے ڈالا ”ڈُلے بیراں دا کُج نئیں وگڑیا“ مطلب یہ کہ ابھی بھی وقت ہے کہ گورننس کو درست کر لیا جائے اور اس کے لئے لازم ہے کہ خوراک اور ادویات ہی سستی نہ ہوں بلکہ روپے کی قدرکو مزید مضبوط تر کرکے پٹرولیم مصنوعات بھی سستی کی جائیں، آپ نے معیشت کو مضبوط بنانے کے نام پر آئی ایم ایف کی ہدایات پر جس طرح عمل کیا ہے اس نے بقول اسد عمر عوام کی نہ صرف چیخیں نکلوا دی ہیں بلکہ اب تو ان کے پیٹ بھی خراب ہو چکے ہیں۔

ہم نے کبھی شیخی نہیں بگاری کہ ہم ذاتی طور پر اعتدال پسند ہیں اور تنقید بھی برائے اصلاح کے لئے کرتے ہیں لیکن جو پاکستان کے شہریوں کے ساتھ ہو چکا اور ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سے خود آپ کے دوست اور خیر خواہ ہی اب کشتی سے چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہم نے ایم کیو ایم کے بارے میں یاد دہانی کرائی تھی کہ جب ان کے مقاصد پورے ہو جائیں تو وہ تحفظات ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے، حیرت کی بات کی بلدیہ والی فیکٹری کے بڑے ملزم کو بیرون ملک سے پکڑ کر لایا گیا اور وہ پہلے ہی عدالت سے بری ہو گیا، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ اگر یہ مرکزی ملزم بے گناہ نکل آیا تو بے چارے متحدہ کے عہدیداروں کاکیا ”قصور“ ہے، اسی طرح مسلسل خبر آتی ہے کہ ٹارگٹ کلر پکڑ لیا، اس کے بعد پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا ہوا؟ اکثر تو خاموشی سے بری ہو جاتے ہیں۔

ہماری تو گزارش ہے کہ ہم کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔ اپنے خول سے باہر آیئے اور غور کیجئے کہ رات ختم ہو تو اجالا ہوتا ہے اور رات طویل بھی ہو تو ختم ہو ہی جاتی ہے۔

مزید : رائے /کالم