”آدابِ اختلاف“

”آدابِ اختلاف“
”آدابِ اختلاف“

  



”مولوی حضرات“ سے مجھے ڈرلگتا ہے اور بدقسمتی سے قدم قدم پر کوئی نہ کوئی ”مولوی“ مل بھی جاتا ہے۔ ہم صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ”مولوی“ صرف مذہبی یا مسلکی ہوتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام مکاتب فکر اور شعبے میں ”مولوی حضرات“ موجود نظر آتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر طرح کے بگاڑ کے ذمہ دار یہی مولوی ہیں۔گویا ہم انہی مولوی حضرات کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ انہی مولوی حضرات نے پورے معاشرے کو دبوچ رکھا ہے۔انہی مولوی حضرات کے دم سے جگہ جگہ کوئی نہ کوئی شرارت نظرآتی ہے۔ آپ کسی سیاست دان کے بارے میں بات کر کے دیکھ لیں، کوئی نہ کوئی ”سیاسی مولوی“ آپ کا گریبان پکڑ لے گا۔ آپ سماجی معاملات سدھارنے کی کوشش کریں، کوئی نہ کوئی سماجی مولوی آپ کے راستے کی دیوار بن جائے گا۔آپ شعر وادب کی طرف نکل جائیں، وہاں بھی کوئی نہ کوئی مولوی آپ کو مل جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ ان مولوی صاحبان سے ملنے جلنے میں مجھے پریشانی ہوتی ہے،کیونکہ یہ لوگ کسی علمی بنیاد پر نہیں، اپنے روایتی اور کم علمی پر مبنی رویے کی وجہ سے ہر جگہ اُلجھتے، اور لڑتے بھڑتے نظر آتے ہیں۔ بدقسمتی سے خود کو ہر معاملے میں ایکسپرٹ یا عالم بھی کہتے ہیں۔ پاکستان رائٹر کونسل کے چیئرمین مرزا یٰسین بیگ نے جن کی تنظیم ماشاء اللہ پورے پاکستان میں اپنی خدمات کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے،اور ہر مذہب اور مسلک کے علاوہ زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق لوگ اس تنظیم کی خدمات سے نہ صرف آگاہ ہیں،بلکہ ان کی تقریبات میں شرکت کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں،اس تنظیم سے وابستہ تمام اراکین اور عہدیدار نوجوان ہیں اور اپنی تقریبات کے لئے تمام تر اخراجات اپنی جیب سے کرتے ہیں۔کوئی سرکاری عہدیدار یا کوئی شخص دعویٰ نہیں کر سکتا کہ انہوں نے تنظیم کو کبھی کوئی چندہ یا فنڈ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے پاکستان میں اس تنظیم کا اعتماد اور وقار نمایاں ہے۔ تنظیم کے چیئرمین مرزا یٰسین بیگ نے جب مجھے دانشور اور دینی شخصیت جناب ڈاکٹر اختر حسین عزمی کی کتاب ”آداب اختلاف“ کی تقریب رونمائی کی نظامت کے لئے کہا تو مَیں نے تقریب کے شرکاء کے نام پڑھنے کے بعد انکار کر دیا اور کہا کہ اس تقریب میں تو سبھی ”مولوی حضرات“ ”تشریف لائیں گے اور مَیں ”مولوی حضرات“ سے زیادہ میل جول پسند نہیں کرتا…… ایک عام دُنیا دار آدمی ہوں، ان لوگوں کے درمیان مجھ ایسے آدمی کا کیا کام؟…… لہٰذا مجھے بھی شرمندگی سے بچاؤ اور خود بھی شرمندگی سے بچو،بہتر یہی ہے کہ کسی ”مولوی“ نما بندے کو نظامت ِ تقریب دو۔

میری اس بات پر مرزا صاحب نے کہا…… نہیں آپ کو نظامت کرنا ہو گی، کیونکہ مَیں آپ کے ذہن میں موجود ”مولوی“ کے خوف کو ختم کرنا چاہتا ہوں اور اس تقریب کی نظامت کر کے آپ کم از کم مذہبی اور مسلکی اعتبار سے اپنے ذہن میں موجود خوف سے آزاد ہو جائیں گے، سو ان کے اصرار پر مَیں نے نظامت کا فیصلہ کر لیا۔اس تقریب کی صدارت جناب مجیب الرحمن شامی کے ذمے تھی، گویا ”مولوی“ حضرات کے اس اجتماع کی ”سرداری“ کی پگ …… شامی صاحب کے سر پر تھی…… جناب مجیب الرحمن شامی کی موجودگی میرے لئے حوصلہ افزاء ثابت ہوئی اور سوچا کہ کسی گڑ بڑ کی صورت میں شامی صاحب آگے بڑھ کر مجھے بچا لیں گے،مگر حیرت انگیز طور پر تقریب جوں جوں آگے بڑھنے لگی، مجھے ”مولوی“ اور عالم کے فرق کا علم ہونے لگا۔مجھے پہلی بار ایسا لگا…… کہ مَیں ایسے ”عالموں“ کے درمیان ہوں جو انسانی اور ایمانی حوالے سے تکبر اور ضد سے بہت دور ہیں۔

وہ ایک دوسرے کی گفتگو سن رہے ہیں، اختلافی گفتگو کو مسکراتے ہوئے سن رہے ہیں، پھر اپنی اپنی باری پر بولتے ہوئے اختلافات میں سے ”خیر“ کی نوید سنا رہے ہیں۔ احادیث، روایات اور اقوال زریں کے ذریعے انسانوں کے کردار کو بلند کر رہے ہیں۔ بتا رہے ہیں کہ مسلمان سے پہلے کی منزل انسان ہے، جب تک انسان کے اندر انسانیت جنم نہیں لیتی، وہ ایک مسلمان اور مومن نہیں ہو سکتا، سو مسلمان اور مومن بننے کے لئے انسانی کردار کو بلند کرنا ہو گا۔ اختلافی امور کو علمی سطح پر دیکھنا ہو گا…… اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہوتا…… کہ آپ ایک دوسرے کی ”ضد“ بن جائیں۔ اختلاف کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی بھی مسئلے میں حقیقی ”خیر“ تک پہنچا جائے، اور ”شر“ جس شکل میں بھی نظر آئے، اسے ”علم خیر“ سے دور کیا جائے۔ نماز سے لے کر جہادتک کے معاملات کو علمی نظر سے دیکھاجائے، کسی بھی سٹیج، منبر،

کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ صرف اختلافی مسائل کو اپنی گفتگو کا موضوع بنائے، ہر شخص پر لازم ہے کہ سب سے پہلے اس حوالے سے بات کرے، کہ جس سے اُمت، قوم یا عوام کے درمیان اتحاد کی بات ہو…… تفرقہ بندی، گروہ بندی…… اور ایک دوسرے پر الزامات اور گالی گلوچ سے گریز کیا جائے۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خالص علمی مسائل کو چوک چوراہے پر کھڑے ہو کر بیان کرے،اس کے لئے علماء آپس میں مل بیٹھ کر گفتگو کریں، اور یہ ناممکن نہیں ہے، کہ ”علوم کے ماہر“ عالم کسی بھی مسئلے پر آپس میں بیٹھ کر حل تلاش کریں اور حل نہ نکلے۔

تقریب میں ڈاکٹر حماد لکھوی، ڈاکٹر سعد صدیقی، عطاء الرحمن سینئر صحافی…… اینکرکالم نگار اوریا مقبول جان، پیر محمد ضیاء الحق نقشبندی، علی اکبر عباس،مرزا یٰسین بیگ نے اپنی اپنی جگہ خوبصورت گفتگو کی۔ جناب مجیب الرحمن شامی صاحب نے صاحب ِ کتاب ڈاکٹر اختر حسین عزمی کی کتاب ”آداب اختلاف“ کی تعریف کرتے ہوئے کہا، کہ انہوں نے کتاب کے ذریعے اُمت کی ہی نہیں،ہر میدان کے لوگوں کی بہترین رہنمائی کی ہے۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہر شخص کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ مذہب اور مسلک کے درمیان بڑے بڑے اختلافات کے باوجود ہمارے بزرگ کس طرح ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ صحابہء کرام ؓسے لے کر اولیائے کرام تک اور اب تک کے بڑے بڑے بزرگ علماء کس طرح ایک دوسرے کی علمی اہمیت کے قائل تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ شدید اختلاف کے باوجود، ملنے ملانے۔ ایک دوسرے کی امامت میں نماز پڑھنے تک سے گریز نہیں کرتے تھے، انہیں نہ تو اپنے ایمان میں کوئی کمی نظر آتی تھی اور نہ دوسرے کے ایمان کو کم جانتے تھے۔

باہمی احترام کے ساتھ اختلاف کرتے تھے،پھر اتفاق و اعتماد کی فضا بناتے تھے۔ اس تقریب میں شریک ہو کر میرے اندر چھپا ”مولوی“ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔ مجھے پہلی بار معلوم ہوا ہے،کہ اگر ہم ”علماء“ کے ساتھ گفتگو کریں،ان کی گفتگو سنیں تو ہمارے اندر کے بے شمار خوف اپنی موت آپ مر جائیں گے،ہم روشنی کی طرف پلٹ جائیں گے۔ وہ اندھیرے جو ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں،ان اندھیروں سے نجات کے لئے ہمیں ”علماء“ کی جانب رجوع کرنا چاہئے، کیونکہ یہی علما درحقیقت روشنی ہیں، محبت ہیں اور ہمارے رہبر ہیں۔رہبر سے مجھے یاد آیا کہ آپ بھی ڈاکٹر اختر حسین عزمی کی کتاب ”آداب اختلاف“ کا مطالعہ ضرور کریں۔ یہ مطالعہ آپ کو زندگی میں نفاست اور آداب کا سلیقہ عطا کرے گا۔آپ ایک دوسرے کے لئے ”خیر“ بن جائیں گے۔”شر“ آپ کی زندگی سے نکل جائے گا۔

یہ کتاب صرف مذہبی، مسلکی ہی نہیں، سماجی، معاشی، ثقافتی، حلقوں کو بھی پڑھنی چاہئے، خاص طور پر ہمارے وزیراعظم کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے تاکہ انہوں معلوم ہو کہ ریاست ِ مدینہ میں ہر طرح کے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے احترام اور زبان و بیان کا کیا انداز تھا۔یہ ایک رہنما کتاب ہے، اور کتاب کو پڑھنے کے بعد خاص ذہن ہی نہیں، ایک عام ذہن بھی بدل سکتا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ ہمیں اس وقت ذہن بدلنے کی ضرورت ہے۔ منفی خیالات اور عادات کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔علماء کے ساتھ رابطہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اُمت کا درد رکھنے والے لوگوں کے نزدیک ہونے کی ضرورت ہے۔مَیں ذاتی طور پر ”مولوی“ کے خوف سے آزاد ہو چکا ہوں۔علماء کی محبت نے مجھے بہت فیض یاب کیا ہے اور میرے اندر ان کے لئے خیرکے جذبات پیدا ہوئے ہیں، جزاک اللہ خیر۔

مزید : رائے /کالم