پی ٹی آئی کا المیہ

پی ٹی آئی کا المیہ
پی ٹی آئی کا المیہ

  



نواز شریف کی لندن روانگی کے ساتھ ہی ملکی سیاست کا درجہ حرارت تیزی سے گرم ہو تا جا رہا ہے۔عمران خان نے ہزارہ موٹر وے کے افتتاح کے موقع پر کھل کر اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایااور دوسری طرف وہ اشاروں میں بھی بہت کچھ کہہ گئے۔ عمران خان کے اس خطاب سے ان کی شکست خوردگی کا اظہار ہو رہاتھا۔اس خطاب کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح کیا کہ ”طعنے نہ دیں، کسی کو با ہر جانے کی اجازت وزیر اعظم نے خود دی“۔ محترم چیف جسٹس کی اس وضاحت سے عمران خان اور پی ٹی آئی کے اس موقف کو بہت بڑا دھچکا لگا جو وہ اس سے پہلے اپنانے کی کوشش کر رہے تھے۔کوئی بھی شخص جوپا کستان کی تا ریخ، نظام، طبقاتی کردار، سیاسی حرکیات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے، اس کے لئے نواز شریف کا یوں با ہر چلے جانا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ پھر یہاں پر بنیادی سوال تو یہ پیدا ہو تا ہے کہ عمران خان اور ان کے کئی وزراء اس پر اپنی شکست خوردگی کا اظہار کیوں کر رہے ہیں؟عمران خان، پاکستان کے تما م معاشی، سماجی، اور سیاسی مسائل کا ذمہ دار دو سیاسی خاندانوں کو قرار دیتے آئے ہیں۔

ان کے موقف کے مطابق پا کستان میں تیس سال تک مسلم لیگ اور پیپلز پا رٹی کی حکومت رہی(حقائق کے اعتبار سے یہ درست نہیں، کیونکہ1999ء سے2008ء تک پر ویز مشرف ملک کے حکمران رہے)……اور ان دونوں جماعتوں نے ہی ملک کی تبا ہی کی۔پی ٹی آئی کے اس موقف کونئے ابھرتے ہوئے ایسے متوسط طبقات کی بھی بھر پور حمایت ملی جن کو پاکستان کے طبقاتی کردار، سیاسی و انتخابی حرکیات، اورسیاسی نظام سے اتنی زیادہ آگا ہی نہیں تھی۔ ایسے طبقے کو پا کستان کے تما م مسائل کے حل کے لئے عمران خان کی صورت میں ایک مسیحا نظر آنے لگا۔عمران خان انتخابات سے پہلے پا کستان کے تمام مسائل کے حل کے لئے آسان نسخے تجویز کرتے رہے،مگر وہ کھل کر اس با ت کا اعتراف نہ کرپائے کہ پا کستان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وہ جس اقتدار کے آرزو مند ہیں، اس تک پہنچنے کا راستہ مصالحتوں اور سمجھوتوں سے بھر ا ہو ا ہے۔وہ اپنے حامیوں کو یہ بھی بتانے میں ناکام رہے کہ پا کستان کے تمام مسائل کی ذمہ دار صر ف دو جما عتیں ہی نہیں، بلکہ اس ملک کا سیاسی اور طبقاتی نظام ہے۔

اس نظام کے تحت کسی بھی سیاسی جما عت کو اکثر یت حاصل کرنے کے لئے ذات پات، برادریوں، فرقوں، سرمایہ داروں، پیروں، سرداروں اور جا گیر داروں کو اپنے ساتھ ملا نا پڑتا ہے،اگر ان طبقات کو اپنے ساتھ نہیں ملا یا جا ئے گا تو قومی اسمبلی کی کل272 منتخب نشستوں میں اکثر یت حاصل کرنا تو بہت دور کی با ت،کو ئی سیاسی جماعت زور لگا کر 10نشستیں بھی حاصل نہیں کر پائے گی۔اس کی سب سے بڑی مثال خود ”پی ٹی آئی“ ہے۔ پی ٹی آئی کو1997ء،2002ء،اور2013ء کے انتخابات میں کوئی خاص کامیا بی نہیں مل پا ئی، مگر 2018ء کے انتخابات میں ان طبقات کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ہی پی ٹی آئی اس پوزیشن میں آئی کہ حکومت بنا سکے۔اب اگر کوئی بھی راہنما ایسے طبقات، جن کے سیاست میں آنے کا مقصد ہی کرپشن، اقربا پروری، تھانے کچہری کی سیاست اور اپنے معاشی مفا دات کا تحفظ ہو تا ہے، وہ ایسے طبقات کو اپنے ساتھ ملا کر کیسے حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے؟قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے پاس قومی اسمبلی کی کل 342 نشستوں میں سے 156نشستیں ہیں۔ سیاست کے کسی بھی طالب علم کے لئے اس با ت کی تحقیق کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ ان 156ارکان میں سے اکثرارکان ایسی سیاسی جماعتوں سے پی ٹی آئی میں آئے، جو سیاسی جما عتیں آج پا کستان کو اس حالت میں لانے کی ذمہ دار ہیں۔

مرکز میں حکومت بنانے کے لئے 172ارکان کی حمایت درکا ر ہو تی ہے، پی ٹی آئی نے یہ حمایت حاصل کرنے کے لئے ایسی سیاسی جما عتوں سے اتحاد کئے، جن کا اقتدار اور طا قت کے سوا کو ئی نظریہ ہی نہیں۔ پی ٹی آئی کے اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق)، جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور ”بلو چستان عوامی پا رٹی“کوئی نظریاتی، انقلابی یا اصولی جما عتیں نہیں، بلکہ مخصوص طبقات کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے بنائے گئے سیاسی پلیٹ فارم ہیں۔”نئے پا کستان“ کی کابینہ کو ہی دیکھ لیں، حکومت پا کستان کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں وفاقی وزراء کی تعداد 25 ہے۔ ان 25 میں سے15سے زیا دہ وفاقی وزراء ایسے ہیں،جن کا تعلق ماضی میں کسی ایسی سیاسی جماعت سے ہی رہا ہے، جو پا کستان کو اس مقام تک لانے کی ذمہ دار ہیں۔اب اس نظام کے ہوتے ہوئے اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ25جولائی 2018ء کے انتخا بات کے نتیجے میں ”نئے پا کستان“ نے جنم لیا تو اس کو سادہ لوحی بھی نہیں، بلکہ بے وقوفی سے ہی تعبیر کیا جا ئے گا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ وہ ایک کرپٹ نظام پر کھڑے ہوکر کرپشن کے خلاف جنگ کرنا چاہ رہے ہیں۔1996ء سے2018ء تک عمران خان اپوزیشن کی سیاست کرتے رہے۔ اپوزشن کی سیاست میں آئیڈل ازم یاآدرشوں کے لئے بہت زیادہ گنجا ئش ہوتی ہے، مگر اقتدار آئیڈل ازم سے زیادہ عملیت پسندی پر مبنی ہوتا ہے۔ عمران خان کو وزیراعظم بنے 13ماہ سے زیا دہ کا عرصہ ہو چکاہے۔اس عرصے کے دوران عمران خان کے اکثر،بلکہ تمام دعوے غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ معیشت کی بحالی، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی، نوکریاں، غریبوں کے لئے گھر،ان میں سے کو ئی بھی وعدہ نہ ابھی پورا ہواہے اور نہ ہی آگے پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت نے جب یہ دیکھا کہ وہ ان سب محاذوں پر نا کام ہوتی جا رہی ہے تو گز شتہ کچھ عرصے سے کرپشن کے خلاف بیانیے کو بھر پور طریقے سے پیش کیا جانے لگا۔حکومت اپنی نا کامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس بات کا پراپیگنڈہ کرنے لگی کہ وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑے گی، کسی کو این آر او نہیں ملے گا، کرپٹ افراد جیلوں میں جا ئیں گے،ملکی خزانہ لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

عمران خان اب سے کچھ روز پہلے تک اپنے اس عزم میں بہت زیادہ پُراعتماد دکھائی دیتے تھے،مگر اب نواز شریف کے معاملے پر ان کو جو قدم اٹھا نا پڑا، اس کے بعد تو ان پر اور ان کے حامیوں پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جانی چاہیے کہ سیاست، سماجی رویوں کے تابع ہوتی ہے۔حقیقی تبدیلی لانے کے لئے سماجی رویوں کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔نظام کو چیلنج کرنا پڑتا ہے،ناکہ اسی نظام سے مصالحت کرکے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے پروگرام اور منشور سے اصولی طور پر کوئی بھی حساس ذہن رکھنے والا پا کستانی انکار نہیں کر سکتا۔ کون سا ایماندار پا کستانی ایسا ہو گا،جو کرپشن کی لعنت سے نجات نہیں چاہے گا؟ کیا پا کستان کا قابل اور پڑھا لکھا نوجوان نہیں چا ہے گا کہ پا کستان سی لوٹی گئی دولت واپس لائی جائے اور نوجوانوں کو ان کی جائز صلا حیتوں کے مطابق پاکستان میں ہی رہ کر ترقی کرنے کا موقع ملے،عام لوگوں کو انصاف ملے اور غر یبوں کے گھر بنیں،مگر ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اس نظام کو تبدیل کرنا ضروری ہے، جس نظام کے باعث یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں، جبکہ اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے سماجی رویوں کو بدلنا ہو گا۔عوام کو تھانے کچہری اور ذات، برادری کی محدود سوچ سے اوپر اٹھ کر سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے،مگر صدیوں پر محیط ایسے سماجی رویوں کو بدلنے کے لئے تاحال ہمیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی۔

مزید : رائے /کالم