دفتری اوقات میں سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی

دفتری اوقات میں سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی
دفتری اوقات میں سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی

  



سوشل میڈیا کے ذریعے ”جعلی اور من گھڑت“خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حکومت ِ پاکستان نے فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام کے ساتھ رابطہ کر لیا ہے، تاکہ اس منفی رجحان کو روکنے کے لئے لائحہ عمل / طریقہ کار طے کیا جائے۔کہا گیا ہے کہ ایسا سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) ترتیب دیا جائے جس سے ایسے منفی رجحان کی بیخ کنی کی جا سکے۔ اس حوالے سے سرکاری حکام کے ان سوشل میڈیا سائٹس کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے کئی ادوار بھی ہو چکے ہیں اور معاملات آگے بھی بڑھ رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ پر قابو پانے کے لئے آن لائن پے منٹ گیٹ وے کے قیام کے منصوبے پر بھی کام کیا جارہا ہے،اس کے لئے بڑی رقم بھی مختص کی جا چکی ہے۔ حکومت ِ پاکستان ایک اور تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جس کے مطابق سرکاری دفاتر میں سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ سرکاری معلومات کی چوری روکنے کے لئے دفاتر میں یو ایس بی لانے اور اس کے استعمال پر پابندی کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے قومی انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB)نے تجاویز پر مشتمل مسودہ حکومت کو پیش کر دیا ہے جس میں یہ ساری باتیں شامل ہیں۔ سرکاری معلومات کے افشا اور مواد کی چوری کو روکنے کے لئے ایک سرکاری ایپ متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاکہ سرکاری افسران و اہلکار اسی ایپ کے ذریعے سرکاری کمیونیکیشن کر سکیں اور سرکاری راز/ معلومات نہ تو افشا ہو ں اور نہ ہی چوری ہو سکیں۔بظاہر یہ تجاویز بے ضرر سی نظر آتی ہیں،کیونکہ سوشل میڈیا کے آلات اور اووزار کارِ سرکار کی ادائیگی میں کوئی سہولت کاری نہیں کرتے۔ کار سرکار کو بہتر بنانے میں بھی ان کا کوئی خاص کردار نہیں ہوتا۔ہاں یہ فضولیات کے لئے استعمال ضرور ہوتے ہیں، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا حکومت سرکاری ملازمین کے ردعمل کو برداشت کر پا ئے گئی؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کے ایسے اقدامات کے نتیجے میں کیا فی الحقیقت وہ نتائج حاصل ہو پا ئیں گے، جن کے لئے حکومت یہ سب کچھ کرنے جا رہی ہے؟

بادی ا لنظر میں یہ ایک اچھا کام ہے، لیکن اچھا کام اگر حکمت سے نہ کیا جائے تو اس کے اچھے نتائج نہیں نکلتے۔ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے بہتر حکمت عملی ضروری ہوتی ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ حکومت نے اس حوالے سے مطلوبہ ہوم ورک کیا ہے یا نہیں؟ نئی پالیسی کی تشکیل کے لئے ضروری تحقیق کی گئی ہے یا نہیں؟ ممکنہ ردعمل کے بارے میں بھی سوچ و بچار کی ہے یا نہیں اور پھر اس سے نمٹنے کی حکمت ِ عملی پر بھی غور وفکر کیا گیا ہے یا نہیں؟ پاکستان کے حالات اس وقت موافق نہیں ہیں، معاشرے کے مختلف طبقات میں مختلف وجوہات کے باعث حکومت کے معاملات بہت زیادہ اچھے نظر نہیں آرہے ہیں۔ سرکاری محکموں کی کارکردگی اور بھی مایوس کن ہے،ایسے حالات میں سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے دروازے بند کرناکس قدر نتیجہ خیز ثابت ہوگا، اس بارے میں بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا شاید درست نہیں ہوگا۔سوشل میڈیا لاریب مادر پدر آزاد ہے، سرکاری اہلکا ر بھی اسے استعمال کرنے میں مادر پدر آزاد ہیں۔ سوشل میڈیا کی آزادی سلب کرنا مممکن نہیں ہے، لیکن وفاقی سرکاری اہلکاروں کی سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کی مادر پدر آزادی تو سلب کی جا سکتی ہے، سو حکومت وہ کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔ نتیجہ نکلے یا نہ نکلے۔

جنگ عظیم اوّل (1914-18ء) کے بعد استعماری قوتیں کمزور ہونا شروع ہوگئیں، سلطنت ِ عثمانیہ کا شیرازہ بکھر گیا، شرق و غرب میں چلنے والی آزادی کی تحریکیں زور پکڑنے لگیں اورنظر آنے لگا کہ ایک نیا عالمی نظام ضروری ہو گیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم (1939-45ء) کے دوران عالمی توازنِ طاقت الٹ پلٹ ہوگیا۔ برطانیہ عظمٰی سمٹ گیا اور عالمی سنگھاسن پر امریکہ براجمان ہوگیا۔ مسلمانوں کا قبلہ اوّل بھی جنگ عظیم او ّ ل کے دوران ان کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا، دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد عالمی نظام سیاست نے انگڑائی لی اور امریکہ وسوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوا۔میڈیا اور کمیونیکیشن بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگا۔مشرق وسطیٰ میں استعماری قوتوں نے جابرانہ حکومتیں قائم کیں۔ ریاست اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی یہاں جبروقہر اور تشدد کا ایک ایسا دور شروع ہوا جو ہنوز جا ری ہے۔

مصر، شام اور عراق کے علاوہ لبنانی مسلمان بھی صیہونی ریاست کے خلاف نبردآزمارہے، لیکن تباہی بربادی کے سوا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ حیران کن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ عرب حکمرانوں نے اپنے عوام پر یہودیوں سے زیادہ ظلم و ستم روارکھے۔شخصی آزادیاں سلب کی گئیں۔ آزادیء اظہار و گفتار کے علاوہ سچ جاننے کا حق نہیں دیا گیا۔ بعث ازم کے فروغ کے ذریعے عرب قومیت کو مضبوط بنانے کی منظم کاوشیں کی گئیں، جبکہ اخوان المسلمین کی عوامی پذیرائی کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کے لئے خوفناک جبرو تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ مصر، شام اور عراق میں بعث ازم کے پرچار ک مسلط ہوئے اور انہوں نے عرب نیشنل ازم کو فروغ دیا اور اسلامی تحریک کو کچلا۔

اسی دور 70,60 کی دہائی کی ایک جھلک ایک مصری صحافی احمد رائف نے اپنی کتاب ”روداد ِ ابتلاء“ میں دکھائی ہے، یہ صحافی کسی قانون شکنی پر جیل گیا، وہاں اس نے اخوان المسلمون کے مرد و خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم کو قلمبند کیا جو اس دور کی ایک مستند دستاویز ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اتنے ظلم و ستم تو یہودیوں نے بھی فلسطینی مسلمانوں اور عربوں پر نہیں توڑے، جس قدر عرب حکمرانوں نے اپنے ہی عوام پر توڑے ہیں، ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے کمر بستہ ہے۔ اس کی جغرافیائی سرحدیں بھی پھیل رہی ہیں اور وہ اپنے نظریاتی محل بھی تعمیر کرتا چلا جا رہا ہے۔ گریٹر اسرائیل کی تعمیر کے انتظامات تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ عرب حکمرانوں نے عرب مسلمانوں کی حقیقی نمائندہ قوت اخوان المسلمون کو کچل کر رکھ دیا ہے۔

حکمرانوں کی ایسی کاوشوں میں امریکی صیہونی، اشتراکی روسی اور اسرائیلی یہودی سب شامل رہے ہیں۔ یہ قوتیں جابر عرب حکمرانوں کو حوصلہ دیتی اور ان کی مدد کرتی رہی رہیں، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کے حقیقی دشمن اخوان ہیں، جنہیں عرب عوام کی تائید حاصل ہے۔ انہیں جابر عرب حکمرانوں سے کسی قسم کا خوف نہیں تھا اور نہ ہے۔ ذراعالم عرب کو دیکھ لیں آج وہاں وہی حکمران برسراقتدار ہیں جو نصف صدی اور اس سے پہلے حکمران تھے، اخوان کی موجودگی میں اسرائیل کو یروشلم پر قبضہ کرنے کی جراٗت نہیں تھی، امریکہ اسرائیل کا حامی ضرور تھا،لیکن اسے اسرائیل کے غیر انسانی اقدامات کی اس بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ حمایت کرنے کی ایسی جراٗت نہیں تھی، جیسی اسے آج کل حاصل ہے۔

حکمرانوں کے جبرو استبداد کے باعث عرب ریاستیں اور معاشرہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ دو درجن سے زائد عرب ریاستوں کی پرکاہ کے برابر حیثیت نہیں ہے۔ ذرا عرب بہار کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں، سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے نوجوانوں نے جابر حکمرانوں کے خلاف رائے عامہ کو نہ صرف منظم کیا، بلکہ متحرک کیا اور ظلم و جبرپر قائم تاج و تخت اڑادئیے۔ جو کا م اخوان جیسی منظم اور متحرک قوت نہ کر سکی، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے عام نوجوانوں نے کر دکھایا ……معلومات تک رسائی ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ رائے کا اظہار بھی عوام کا آئینی حق ہے،سوشل میڈیا کا استعمال بھی اسی زمر ے میں آتا ہے،سرکاری ملازمین بھی اس ملک کے شہری ہیں، ان کے بھی وہی آئینی حقوق ہیں جو عام شہری کے ہیں۔ حکومت جو کچھ کرنے جارہی ہے یا کچھ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے تو اسے ان امور پر بھی غور کرنا چاہئے جن کا تعلق فرد کی آزادی کے ساتھ ہے، شہری کے آئینی حقوق کے ساتھ ہے، کیونکہ حکومت کو کارسرکار کی بہتری کے بارے میں پالیسی سازی کا بھی حق ہے اور اسے نافذالعمل کرنے کا بھی، لیکن شہریوں کے آئینی حقوق غضب کئے بغیر۔

مزید : رائے /کالم