کھچڑی کی دیگ

کھچڑی کی دیگ
کھچڑی کی دیگ

  



کسی زمانے میں کھچڑی دیگچی میں پکتی تھی، اب تو پوری دیگ چڑھی ہوئی ہے۔ بریانی اور حلوے کا زمانہ گیا، اب تو کھچڑی کا دور ہے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہو کیا رہا ہے۔ حکومت جا رہی ہے یا قائم ہے؟ تبدیلی آ رہی ہے یا آ چکی ہے؟ جب سے وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس آصف سعید خان کھو سہ کے درمیان جواب آں غزل ہوا ہے، کھچڑی کچھ زیادہ ہی تیز آنچ پر پکنے لگی ہے۔ اس آنچ کو تیز کرنے میں چیف الیکشن کمشنر کے اس فیصلے نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے کہ وہ فارن فنڈنگ کیس کی 26نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے اور اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے،جو 5دسمبر کو ہے، فیصلہ سنا دیں گے۔ اب آزادی مارچ اور دھرنوں سے مایوس ہونے والوں نے چیف الیکشن کمشنر سے امید باندھ لی ہے کہ وہ حکومت کو چلتا کریں گے۔ اس طرح کھچڑی کی دیگ گویا شب دیگ جیسے سماں میں ڈھل گئی ہے۔

بظاہر وزیراعظم عمران خان اس کھچڑی میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، وہ مطمئن و مسرور اپنی دنیا میں مگن مختلف فیصلے کئے جا رہے ہیں۔وزیر و مشیر اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن پر جو بجلیاں گرانی ہیں، گرا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی آنکھ سے دیکھیں تو حکومت گھر جا چکی ہے۔ بس صرف اعلان کی ضرورت ہے، جبکہ حکومت کو دیکھنے سے دور دور تک نہیں لگتا کہ اسے کچھ ہونے والا ہے۔ عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں کہہ دیا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم سب ثبوت پہلے ہی دے چکے ہیں۔ اپوزیشن کا یہ خیال ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی حکومت سے مخاصمت چل رہی ہے، اس لئے ان سے فیصلہ کرایا جائے تو خاصا افاقہ ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن تو یہ مطالبہ بھی کر چکے ہیں کہ انہیں مدتِ ملازمت میں توسیع دی جائے۔ علم نہیں انہوں نے یہ مطالبہ کس سے کیا ہے؟ کیونکہ عمران خان تو انہیں ایک گھنٹے کی توسیع دینے کے حق میں نہیں۔

اس وقت کھچڑی پکانے میں مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن پیش پیش ہیں۔ دونوں کے اپنے دکھ اور مسائل ہیں، دونوں یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کیا جائے، کیونکہ وقت گزرتا گیا تو انہیں گھر بھیجنا مشکل ہو جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) بغضِ عمران میں دشمن کی حمایت کرنے کو بھی تیار ہے اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنے کے لئے پرویز الٰہی کو کھلے طور پر آفر کر چکی ہے کہ وہ صوبے کے وزیراعلیٰ بننے کو تیار ہوں تو مسلم لیگ (ن) اپنے ووٹ دینے کو تیار ہے۔ پیشکش تو بہت اچھی ہے، مگر چودھریوں نے بھی دھوپ میں بال سفید نہیں کئے، وہ جانتے ہیں کہ اس پیشکش کا مقصد چودھری پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ بنانا نہیں، عمران خان کی چھٹی کرانا ہے۔ پھر انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اقتدار کے لئے عمران خان سے بے وفائی کا داغ اپنے ماتھے پر لگایا تو یہ داغ اس سے بھی زیادہ بدنما ہو گا جو ان کے ماتھے پر اس وقت لگا تھا، جب انہوں نے شریف برادران سے بے وفائی کرکے مسلم لیگ (ق) بنائی تھی۔

چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی شدید خواہش تو رکھتے ہیں، لیکن اتنے دیوانے نہیں ہوئے کہ اپنے نفع و نقصان کی تمیز نہ کر سکیں۔ ان کے لئے آئیڈیل صورت حال یہ ہو گی کہ وزیراعظم عمران خان انہیں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لئے منتخب کر لیں، مگر شریف برادران سے مل کر عمران خان کی پیٹھ پر چھرا گھونپنے سے ان کی سیاست منظور وٹو جیسی رہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان گرما گرم خبروں کے دوران چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی، جس میں دوٹوک اعلان کیا گیا کہ حکومت اور اتحادیوں کے درمیان ہر قسم کی سازشی تھیوری کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ چودھری پرویز الٰہی نے کھل کر کہہ دیا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔

مولانا فضل الرحمن بھی آج کل دلچسپ لطیفے سنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ دھرنا ناکام بنانے کے لئے انہیں حکومت کی طرف لاتعداد پیشکشیں کی گئیں۔ چیئرمین سینٹ، بلوچستان کی حکومت، قومی اسمبلی کی رکنیت، کشمیر کمیٹی کی سربراہی، جیسی پیشکشیں انہوں نے ٹھکرا دیں۔ حیرت ہے ایک طرف وہ پیشکشیں ٹھکرا رہے تھے اور دوسری طرف دھرنا ختم کرکے چلتے بنے۔لگتا یہی ہے کہ صرف کھچڑی پکانے کی نیت سے انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ تو اس وقت باوزن ہوتا جب انہوں نے پلان اے، بی،سی میں کوئی کامیابی حاصل کی ہوتی، وہ تو ہر پلان میں پسپائی اختیار کرتے چلے گئے، پھر حکومت کو کیا پڑی تھی کہ وہ ان کے پیچھے پیشکش لے کر دوڑتی۔ اب تو وہ خود بھی وزیراعظم کا استعفا مانگنے کی بجائے تین ماہ میں انتخابات کرانے کے مطالبے پر آ گئے ہیں، ایسے میں انہیں اتنے عہدوں کی پیشکش، ایک بڑی حکومتی حمایت ہی کہی جا سکتی ہے۔ مولانا نے ایک ماحول ضرور بنایا، لیکن وہ ایک مرتبہ پھر استعمال ہو گئے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے انہیں دھوکہ دیا، دھرنے کے موقع پر اگر یہ دونوں جماعتیں اِدھر اُدھر نہ ہوتیں اور شمولیت کا اعلان کر دیتیں تو شاید مولانا کی مراد بر آتی، مگر ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“ مولانا کو تنہا چھوڑ دیا گیا، حتیٰ کہ اخراجات کے ضمن میں بھی تعاون سے گریز کی پالیسی اختیار کی گئی، ان حالات میں مولانا فضل الرحمن دھرنے سے کوچ کا اعلان نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔

حیرت ہے کہ جس رہبر کمیٹی سے مولانا فضل الرحمن نے دھرنا ختم کرنے اور پلان بی یا سی پر مشاورت نہیں کی، وہی رہبر کمیٹی چیف الیکشن کمشنر کو یہ درخواست دینے پہنچ گئی کہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی جائے۔ یہ معاملہ جو خالصتاً تکنیکی بنیاد پر چل رہا تھا، اب واضح طور پر ایک سیاسی معاملہ ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف اب مطمئن ہے کہ اسے ایک سیاسی کیس کہہ سکے گی، جو چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے دباؤ پر سننا چاہ رہے ہیں، وگرنہ اخلاقی طور پر انہیں اپنے آخری دنوں میں ایسا کیس سننا ہی نہیں چاہیے جو اس وقت سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

فوج کے ساتھ حکومت کے تعلقات پر کھچڑی پکانے کی فی الوقت کوئی کوشش کامیاب نظر نہیں آتی۔ نومبر میں جو کچھ آرمی کے حوالے سے ہونا تھا، وہ خوش اسلوبی سے طے ہو گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر جنرل ندیم رضا کی تقرری کر دی ہے، جبکہ وزیراعظم آفس سے یہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو عہدے میں توسیع پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ جو ندیم رضا کے عہدہ سنبھالنے کے ایک روز بعد اپنی نئی مدت کا آغاز کریں گے۔

بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ سول و آرمی کے درمیان حالات خوش اسلوبی سے چل رہے ہیں،لیکن جو کھچڑی کی دیگ پکا رہے ہیں، ان کے نزدیک معاملات انتہائی نازک دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ اگلے دو برسوں کے لئے قومی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کس نے کیا ہے؟ کیا اسے عمران خان کی حمایت حاصل ہے؟ کیا وزیراعظم سے اسمبلی تڑوائی جائے گی یا استعفا لیا جائے گا؟ کیا وہ استعفا دینے پر رضامند ہوں گے یا زبردستی یہ کام کرایا جائے گا؟……مگر کسی کے پاس بھی ان سوالات کا حتمی جواب موجود نہیں، لیکن کھچڑی بدستور دیگ میں پک رہی ہے۔ اب چھڑی گھما کر ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا زمانہ تو رہا نہیں۔

فارن فنڈنگ کیس بھی کوئی ایسی فوری چھڑی تو ہے نہیں کہ اس کا فیصلہ آنے پر سب کچھ تہس نہس ہو جائے۔ اس کے بعد اپیلوں کا مرحلہ ہے جو برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ رہی بات ان ہاؤس تبدیلی کی تو اس میں تبدیلی آ بھی جائے، تب بھی قومی حکومت بننے کا تو کوئی امکان نہیں۔ سو معاملہ خاصا الجھا ہوا ہے، لیکن جنہوں نے کھچڑی کی دیگ چڑھا رکھی ہے، وہ تو خاموش بیٹھنے والے نہیں۔ انہیں تو اس بات کی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ نوازشریف اور شہبازشریف طویل عرصے کے لئے ملک سے کیوں چلے گئے ہیں، مریم نواز کیوں جلد سے جلد لندن جانا چاہتی ہیں؟ یہ سب کچھ ملک کے اندر موجودہ سیٹ اَپ میں کسی بڑی تبدیلی نہ آنے کی نشاندہی کر رہا ہے، تاہم لہو گرم رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے اور کچھ نہیں توکھچڑی کی دیگ تو بآسانی پکائی جا سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم