متبادل وقابل تجدید توانائی کی متفقہ پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا: وزارت پانی وبجلی 

متبادل وقابل تجدید توانائی کی متفقہ پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا: وزارت ...

  



اسلام آباد (این این آئی)وزرات بجلی کے ترجمان نے کہا ہے متبادل و قابل تجدید توانائی پالیسی کا مسودہ تمام صوبوں اور متعلقہ فریقین کی(بقیہ نمبر30صفحہ 7پر)

 مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، پالیسی کی تیاری کے عمل میں سندھ سمیت تمام صوبوں سے ہر قدم پر مشاورت کی گئی، اے ای ڈی بی نے سند ھ کے محکمہ توانائی کے بعض سوالات اور وضاحتوں کا بھی جواب دیا، سندھ کے سیکرٹری توانائی نے وفاقی وزیر بجلی کی موجودگی میں اے ای ڈی بی بورڈ کے منٹس کی تین مرتبہ توثیق کی، منصوبوں کی نشاندہی اور عملدرآمد کیلئے تمام صوبوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں، وفاقی حکومت نے بجلی کی پیداوار میں متبادل توانائی کا حصہ 2025ء تک 20 فیصد اور 2030ء تک 30 فیصد لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے، وفاقی کابینہ کے بعد متبادل توانائی پالیسی کا مسودہ منظوری کیلئے اب مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو سندھ کے وزیر توانائی کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کیا جس میں صوبائی وزیر توانائی نے مبینہ طور پر کہا تھا متبادل توانائی و قابل تجدید توانائی پالیسی 2019ء کا مسودہ سندھ کی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا۔ صوبہ سندھ سمیت تمام صوبوں کو پالیسی کی تیاری کے عمل کی تیاری کے دوران ہر کارروائی سے متعلق نہ صرف مشاورت کی گئی بلکہ اس بات کو یقینی بنایا گیا مستقبل میں بھی منظوری کے تمام عوامل میں صوبوں کے کردار کو یقینی بنایا جا سکے۔ متبادل توانائی کے منصوبوں پر عملدرآمد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ترجمان نے متبادل توانائی پالیسی 2019ء کی تیاری کے عمل کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا حکومت ملکی اور ماحول کے لحاظ سے صاف توانائی کی پیداوار کے وسائل کے استعمال پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور متبادل اور قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مارچ میں متبادل توانائی پالیسی 2006ء ختم ہونے کے بعد مارچ 2018ء میں متبادل توانائی کی ترقی کے بورڈ نے نئی متبادل و قابل تجدید پالیسی 2019ء کی تیاری کے عمل کا آغاز کیا جس کا مقصد پاکستان میں متبادل توانائی کے شعبہ کی پائیدار ترقی کیلئے ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا تھا۔ متبادل توانائی پالیسی 2019ء  کے مسودہ پر تمام متعلقہ سرکاری اداروں، توانائی کے صوبائی محکموں، تمام بڑے کثیر طرفہ اور ڈی ایف آئیز (عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یو ایس ایڈ، کے ایف ڈبلیو، آئی ایف سی، یو این آئی ڈی او، جی آئی زیڈ) شمسی، ونڈ، بائیو ماس کے کاروبار سے منسلک بڑی تجارتی ایسوسی ایشنز، دانشوروں، قانونی فرمز، بینکاروں اور بجلی کے شعبہ کے مشیروں جیسے مشہور پیشہ وارانہ مہارت کے حامل افراد سے مشاورت کی گئی۔ ترجمان نے کہا اس پالیسی کا مقصد مسابقت کی بنیاد پر نئے منصوبوں کیلئے خریداری کے شفاف عمل کو یقینی بنانا ہے تاکہ صاف اور سستی توانائی عوام کو فراہم کی جا سکے۔

ترجمان وزارت بجلی

 اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان نے نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی ہے،(بقیہ نمبر31صفحہ7پر)

پالیسی کی منظوری صوبوں کے ساتھ اتفاق رائے سے دی گئی،عالمی سطح پر کلین اور گرین انرجی کے فروغ میں ڈنمارک کا اہم کردار ہے۔ ان خیالات کا اظہار  انہوں نے  ڈنمارک کے سفیر سے  ملاقات میں کیا ۔عمر ایوب  نے کہا پاکستان بھی ملک میں قابل تجدید توانائی کے مواقع سے فائدہ اٹھائے گا،نئی قابل تجدید توانائی پالیسی جلد حتمی منظوری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کو پیش کی جائے گی،دوہزار پچیس تک قابل تجدیدذرائع سے بجلی پیداوار کو موجودہ چار فیصد سے بڑھا کر 20فیصد پر لائیں گے۔ عمر ایوب  نے کہا دوہزار تیس تک بجلی میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 30فیصد تک بڑھائیں گے،دوہزار تیس تک متبادل سستے ذرائع سے 20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف ہے،سستی لاگت پر لگنے والے منصوبوں سے بجلی مرحلہ وار سستی ہو گی،ملک میں قابل تجدید توانائی منصوبوں سے روزگار کے کافی مواقع پیدا ہونگے۔ وفاقی وزیر نے کہا نئی قابل تجدید پالیسی کے تحت بجلی منصوبے  شفاف انداز میں مسابقتی بولی پر لگیں گے۔ انہوں   نے  ڈنمارک کی کمپنیو ں کو پاکستان میں سولر پینلزاور ونڈ ٹربائنز کی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی  اس موقع پر  سفیر ڈنمارک نے متبادل توانائی کے فروغ کیلئے حکومتی عزم کو سراہا  اور کہا کہ ڈنمارک قابل تجدید توانائی کے فروغ کیلئے  پاکستانی ماہرین کی مدد کو تیار ہے،ڈنمارک کی کمپنیا ں پاکستان میں متبادل توانائی منصوبے لگانے کیکئے مسابقتی بولی میں حصہ لینے کیلئے تیار  ہیں۔

عمر ایوب

مزید : ملتان صفحہ آخر