خداداد کالونی: غریبوں کو بے گھرکرنیکا منصوبہ انتظامیہ، تیار متاثرین کا خودکشیوں کا اعلان

خداداد کالونی: غریبوں کو بے گھرکرنیکا منصوبہ انتظامیہ، تیار متاثرین کا ...

  



ملتان(نمائندہ خصوصی)تحریک انصاف کی حکومت وزیرخارجہ کے حلقہ کے3سے5مرلہ کے40سال سے زائدعرصہ سے آبادغریب ووٹرزکو بے گھرکرنے پرکمربستہ ہوگئی(بقیہ نمبر36صفحہ12پر)

ہے۔علاقہ میں موجودٹاوٹ مافیااورگورنمنٹ گرلزہائی سکول خدادکالونی موضع بھکرعاربی کی انتظامیہ نے وزیراعظم پاکستان اوروزیرخارجہ پاکستان کوحقائق کے برعکس بھجوائی گئی درخواستوں پرکالونی برانچ کے کلرکوں کی ملی بھگت سے غریب اورمزدورطبقہ کے کچے پکے گھروں کومسمارکرنے کی مکمل تیاری کرلی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیوآغاظہیرعباس شیرازی کوکالونی برانچ کے کلریکل مافیانے حلقہ پٹواری کی مفصل رپورٹ کی بجائے من مرضی کے نکات پیش کرکے غریبوں کے گھرمسمارکروانے کے احکامات جاری کروادیئے کچے پکے گھروں میں رہائش پذیرمردوخواتین اوربچوں نے شدیدسردی میں اپنے گھرمسمارکئے جانے کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اورعلاقہ کے ممبرقومی اسمبلی وزیرخارجہ پاکستان مخدوم شاہ محمودقریشی سے مطالبہ کیاہے وہ اپنے حلقہ کے غریبوں پررحم کھائیں اورانہیں بے گھرنہ کریں۔اہل علاقہ وحیداحمد،فاروق احمد،محمدعظیم،واثق روف،محمدکلیم،محمدجاویداختر،محمدشاہد،وقاراحمدرانا،خدابخش،حامدایوب،محمدمعظم،محمدامین ودیگرخواتین اورمعصوم بچوں کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ تمام افرادغریب اورمزدورطبقہ پرمشتمل ہیں جنھوں نے قومی انتخابات میں تبدیلی کے لئے تحریک انصاف کوووٹ دیاتھاغریبوں نے دن رات مزدوری کرکے40سال پہلے موضع بھکرعاربی کھیوٹ نمبر598کھتونی نمبر785تا787میں 3سے5مرلہ تک کے پلاٹ خریدکئے حلقہ پٹواری کی رپورٹ کے مطابق گنجان آبادی والی مذکورہ کھیوٹ پانچ عددخسران جس میں ملکیتی اورسرکاری خسران مکس ہیں پرمشتمل ہے جوپٹیوں کی صورت موجودہیں جس میں خسرہ نمبر60جوریلوے کے زیرقبضہ ہے اس پرریلوے لائن موجودہے۔خسرہ نمبر59مالکان کی ملکیت ہے اس پرشاہراہ عام ہے ریلوے اورگورنمنٹ گرلزہائی سکول نے بھی قبضہ کیاہواہے۔خسرہ نمبر58صوبائی حکومت کی ملکیت ہے اس پرشاہراہ عام ہے اورگورنمنٹ گرلزہائی سکول نے قبضہ کیاہواہے۔خسرہ نمبر57مالکان کی ملکیت ہے اس پربھی شاہراہ عام ہے اورلوگوں کے ملکیتی اس خسرہ پربھی گورنمنٹ گرلزہائی سکول نے قبضہ کررکھاہے اسی طرح سب سے زیادہ9کنال پرمشتمل خسرہ نمبر56ہے جس پرشیرشاہ روڈ کی طرف سے سکول کی سمت آنے والی شاہراہ عام موجودہے یہ رقبہ صوبائی حکومت کی ملکیت ہے تاہم محکمہ مال کے خانہ کاشت میں ضلع کونسل حساس ادارہ کانام ہے۔پٹواری رپورٹ سے واضح پتہ لگتاہے کہ مذکورہ کھیوٹ کے ان خسران میں لوگوں کے ملکیتی خسران پرریلوے،گورنمنٹ گرلزہائی سکول نے قبضہ کیاہواہے جبکہ اس پرشاہراہ عام بھی موجودہے۔اس صورت حال میں جب سرکارلوگوں کے خسران پرقابض ہوگئی تولوگوں نے سرکاری خسران کوخالی دیکھتے ہوئے اپنی ملکیتی رجسٹری کے مطابق اپنے گھرتعمیرکرلئے جبکہ صوبائی حکومت کا9کنا ل کاخسارہ نمبر56شاہراہ عام کی صورت میں موجودہے۔ٹاوٹ مافیااورسرکاری سکول کی انتظامیہ نے کالونی برانچ کے کلریکل سٹاف سے ملی بھگت کرکے وزیراعظم پاکستان کویہ توبتادیاکہ مذکورہ کھیوٹ میں 13کنال سرکاری رقبہ موجودہے تاہم یہ نہیں بتایاکہ یہ سرکاری رقبہ کا3کنال19مر لہ والاخسرہ اور اور9کنال والاشاہراہ عام کی صورت میں خسرہ باہم متصل نہ ہیں جبکہ دیگرلوگوں کے ملکتی خسروں پر بھی ایک شاہراہ عام ہے جوسکول کوگنجان آبادی سے بالکل علیحدہ کردیتی ہے۔لوگوں کاکہناہے کہ پہلے سرکارنے ریلوے اورسرکاری سکول کی صورت میں ان کے ملکیتی خسران پرقبضہ کیااس کے بعدلوگوں نے اپنی رجسٹریوں کے مطابق پیمائش کرکرکے 3سے5مرلے کے اپنے گھرتعمیرکرلئے۔اب اگرٹاوٹ مافیااورسکول انتظامیہ کی درخواست پرضلعی انتظامیہ لوگوں کوبے گھرکربھی دیتی ہے توسرکاری خسرہ پرشاہراہ عام کی موجودگی اوردوسراسرکاری خسرہ متصل نہ ہونے کی وجہ سے سکول کوزیادہ سے زیادہ 30فٹ کی ایک گلی تومل سکتی ہے اس کے سواکچھ نہیں اس گلی کے حصول کے لئے بھی سرکارکوسکول سے اورریلوے سے لوگوں کاملکیتی خسرہ واگزارکرواکردیناپڑے گا۔اہل علاقہ کاکہناہے کہ پہلے سرکارنے لوگوں کی زمین پرقبضہ کیااورلوگ کے لئے رہائشی جگہ نہیں چھوڑی بعدمیں لوگوں نے اپنے گھرتعمیرکئے۔اہل علاقہ نے وزیراعظم پاکستان،وزیرخارجہ اورایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیو سے مطالبہ کیاہے کہ حلقہ پٹواری کی 13نومبرکوپیش کی گئی رپورٹ کوحقائق کے برعکس پیش کرنے والے کلریکل مافیااورٹاوٹ مافیاکہ خلاف تادیبی کاروائی کی جائے اورلوگوں کوبے گھرنہ کیاجائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر