بی آرٹی بارے متعلقہ حکام کا حالیہ اجلاس پریشان کن ہے، ایمل ولی

بی آرٹی بارے متعلقہ حکام کا حالیہ اجلاس پریشان کن ہے، ایمل ولی

  



پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ بی آر ٹی کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی زیر صدارت ہونے والا حالیہ میٹنگ حیران کن اور پریشان کن ہے لیکن اس کے باوجود بھی نہ چیئرمین نیب کی آنکھیں کھل رہی ہے کہ وہ بی آر ٹی منصوبے میں ہونے والے کرپشن اور اقراباء پروری کا نوٹس لیں اور نہ ہی کسی اور ادارے کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ تبدیلی سرکار سے پوچھیں کہ کیوں خیبرپختونخوا کے وسائل کو اتنی بیدردی سے اُڑایا گیا ہے۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل میں بلا جواز تاخیر‘ غیر معیاری کام اور اس میں ہونے والی کرپشن کا حساب پی ٹی آئی کو دیناہوگا‘ گزشتہ6 ماہ کے دوران منصوبے پرصرف 6 فیصد غیرمعیاری کام صوبائی حکومت کی لاپرواہی اورغفلت کا عکاس ہے‘منصوبے کے چیف انجینئر نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ منصوبے پر کام مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں‘ ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت جان بوجھ کر ذیلی ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں نہیں کررہی جس کی وجہ سے منصوبہ سست روی کا شکار ہے اور 6 ماہ کے دوران رپیڈ بس منصوبے پر ایک فیصد ماہوار کام ہوا ہے، اگریہی صورت حال جاری رہی تو یہ منصوبہ آنے والے دس سالوں میں بھی مکمل نہیں ہوپائے گا کیونکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ابھی تک ریچ ٹو میں سائیکل ٹریک کی منظوری نہیں دی گئی جبکہ ریچ تھری میں 14 بس سٹیشنوں پر اشاروں کی منظوری کا انتظار ہے۔اے این پی کے صوبائی صدر نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث ٹھیکیدار‘ کنسلٹنٹ اورانجینئرمیں باہمی ہم آہنگی کا فقدان ہے جس سے نہ صرف منصوبہ طول پکڑ رہا ہے بلکہ اس پر لاگت بھی بڑھ رہی ہے‘ انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں عوام رل رہے ہیں اور ان کی مشکلات میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی کہ اس منصوبے کے حوالے سے از خود نوٹس لیں کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے اس منصوبے پر صوبے کے وسائل بے دردی سے اُڑائے جارہے ہیں اور کسی میں بھی یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ اس منصوبے کا آڈٹ کرکے ذمہ داران سے پوچھ سکیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر