زرعی اراضی زبردستی لی گئی تو بھر پور احتجاج کرینگے،عمائدین

  زرعی اراضی زبردستی لی گئی تو بھر پور احتجاج کرینگے،عمائدین

  



نوشہرہ (رپورٹ) نوشہرہ میں سی پیک سٹی کی تعمیر کیلئے نندرک، میاں عیسیٰ، مغلکی، میشک، علی محمد سمیت دیگر محلقہ دیہاتوں کے عوام سے 84ہزارکنال زرعی ارا ضی حا صل کرنے کیلئے انتظامیہ کا زبردستی قبضہ لینے کا روش ترک نہ ہو سکا مکینوں کا زرعی اراضی نہ دینے کا فیصلہ اگر حکومت اور انتظامیہ نے قبضے کی حصول کیلئے طاقت کا استعمال کیا توآنے والے پولیو مہم سے مکمل بائیکاٹ اور خون خرابے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اعلیٰ عدلیہ میں کیس ٹرائل ہونے کے باوجود حکومت اور انتظامیہ زبردستی ہماری زرعی اراضی ہم قبضہ کرکے ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین رہی ہے یا تو حکومت اور نوشہرہ کی مقامی انتظامیہ یا تو ہماری زرعی اراضی چھینے سے بازآجائیں یا ہمیں ملک بدر کریں اس سلسلے میں نندرک، میاں عیسیٰ، مغلکی، میشک اور علی محمد سمیت کئی دیہاتوں کے عمائدین غلام خالق، حفیظ الرحمان، ظہیر الدین، طاہر زمان اور حاجی عنایت الرحمان نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی پیک سٹی پر حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے مکینوں کی زرعی اراضی پر زبردستی قبضے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مندرجہ بالا علاقوں کے عوام کے آمدنی کا سارا دار و مدار اسی زرعی اراضی پر ہے کیونکہ 84ہزار کنال اراضی پر حکومت زبردستی قبضہ کرکے سی پیک سٹی تعمیر کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اعلیٰ عدلیہ میں کیس ٹرائل ہونے کے باوجود حکومت طاقت کا استعمال کرکے ہم سے ہماری زمینیں قبضہ کرکے ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھینے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ ظلم ہے انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود اس زمینوں کا ایوارڈ کرانا انتظامیہ اور حکومت کی من مانی نہیں تو اور کیا ہے حکومتی عہدیدار منافقت کی زبان استعمال کر رہے ہیں ایک طرف مفاہمت تو دوسری طرف جھوٹی خبریں پھیلا کر رائے عامہ کو گمرا ہ کرکے یہ تاثر پیش کیا جا رہا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ نے سی پیک سٹی کے لئے زمینوں کا قبضہ حاصل کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں اور خود کو قربان کر دیں گے لیکن ان زمینوں کا قبضہ کسی صورت نہیں دیں گے یہ ہماری زندگی اور موت کا سوال ہے انہوں نے مزید کہا کہ اگر پھر بھی حکومت باز نہ آئی تو پولیو مہم سے بائیکاٹ کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر