پاکستان افغانستان کے درمیان نفرت اور دشمنی کبھی بھی نہیں رہی، (ر) میجر محمد عامر

      پاکستان افغانستان کے درمیان نفرت اور دشمنی کبھی بھی نہیں رہی، (ر) میجر ...

  



صوابی(بیورورپورٹ)ممتاز قومی شخصیت اور آئی ایس آئی کے سابق سر براہ میجر (ر) محمد عامر نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے در میان ناراضگی ضرور رہی ہے لیکن نفرت اور دشمنی کبھی نہیں رہی ان خیالات کااظہار انہوں نے یونیورسٹی آف صوابی میں افغانستان انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا جس سے ایران کے سابق سفیر علی رضا کے علاوہ معروف صحافی و تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی اور سلیم صافی کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔ میجر عامر نے کہا کہ افغانستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ ان کی سر زمین ہمیشہ غیروں نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کی قیام پاکستان سے پہلے روس اور بر طانیہ نے اسے اکھاڑا بنائے رکھا جب کہ قیام پاکستان کے بعد بھارت نے پہلے روس اور بعد میں امریکہ کے ساتھ مل کر اسے پاکستان مخالف کیمپ میں بدل دیا۔ سردار داود سے لے کر حفیظ اللہ امین تک جس نے بھی پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی اسے قتل کیا گیا انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان نے بھی ایک نہیں بے شمار غلطیاں کیں۔یہاں تک کہ ہمارا وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر دو درجن غیر ملکی سفیروں کو بغیر ویزہ افغانستان لے گیا ادھر افغانستان نے بھی ڈیورنڈ لائن جیسے نان ایشو کو درد سر بنایا ہوا ہے حقیقت یہ ہے کہ اپنے اپنے موجودہ جغرافیائی حدود کے اندر پاکستان اور افغانستان آزاد اور خود مختار ملک ہے صرف پختون نہیں اس ریجن میں پنجابی، سندھی، بلوچی، بنگالی اور تاجک سمیت کئی قوتیں مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر وہاں کے شہری بن چکے ہیں اگر افغانستان کا پختون ازبک، تاجک اور ہزارہ کے ساتھ مل کر افغانی بن سکتا ہے تو پاکستان کا پختون پنجابی، بلوچی اور سندھ کے ساتھ مل کر پاکستانی کیوں نہیں بن سکتا میجر عامر نے کہا کہ پنجاب کے خلاف زہر اگلنے والے نہیں جانتے کہ اس وقت صرف لاہور نے پچیس لاکھ پختونوں کو اپنے سینے سے لگا رکھا ہے پنجاب کا کونسا شہر ہے جس میں بڑی تعداد میں پختون رہائش پذیر نہیں انہوں نے کہا کہ گلہ تو ہم پاکستانی پختونوں کا بنتا ہے کہ امیر عبدالرحمن نے ہمیں صرف چھ لاکھ روپے کے عوض انگریزوں کو بھیج دیا تھا جن سے ہم نے خود لڑ کر آزادی لی اور اپنا الگ وطن حاصل کیا۔ ڈیورنڈ لائن میں تو پورا کنڑ صوبہ افغانستان کو دے دیا گیا تھا کیا ہم اسے افغانستان سے واپس کرنے کا ناجائز مطالبہ کر سکتے ہیں وقت آچکا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کی چالوں کو سمجھیں قریب آنے کے راستے تلاش کریں مل کر اپنے عوام کی حالت بدلے الزام تراشیوں کا کھیل ختم کریں دونوں کی خوشحالی دوری میں نہیں قربت سے وابستہ ہے انہوں نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر وائس چانسلر ڈاکٹر امتیاز علی اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیاکانفرنس سے دیگر مقررین نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سر زمین پر عالمی قوتوں نے اپنے مفاد کے لئے دہائیوں سے جنگ مسلط کی ہوئی ہے اگر امریکہ امن کا معائدہ کر تا ہے اگر اس میں افغان گروپوں کے آپس میں اتفاق نہ ہو تو افغانستان میں امن نہیں آسکتا ہے افغانستان میں پائیدار امن سے پڑوس ممالک سمیت پورے خطے میں امن آئیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر