کیا کشمیریوں کا خون سستا ہے؟

کیا کشمیریوں کا خون سستا ہے؟

  



”یہ کھاؤ، مزیدار ہیں!“ نعمان نے سلمان کے سامنے سیب رکھتے ہوئے کہا اور پلیٹ سے سیب کی ایک پھانک منہ میں ڈال لی۔

”جی، مجھے بھی پتہ ہے، سیب مزیدار ہی ہوتے ہیں۔“ سلمان مسکراتے ہوئے بولا۔

”اچھا جی…… اتنا ذہین ہے میرا بھائی کہ اسے یہ بھی پتہ ہے کہ سیب مزے کے ہوتے ہیں!“ نعمان بھی مسکرایا۔ اور مصنوعی حیرانی بھی دکھا دی۔

”ارے میرے بھائی! اس میں اتنا حیران ہونے والی کون سی بات ہے؟ میں تو شروع ہی سے ذہین و فطین ہوں اور سیب مزیدار ہوتے ہیں!“ سلمان نے دانت دکھاتے ہوئے کہا۔

”واہ میرے بھائی! بڑے ذہین و فطین ہو؟“ نعمان ہنسا۔

”اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ……“ سلمان نے پھانک اٹھا کر منہ میں ڈالی ”ہا ہا ہا……!“ نعمان مزید ہنسا۔

سلمان یکدم سنجیدہ ہو گیا، اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی، لگتا تھا جیسے دنیا بھر کا غم اس کے دل میں سما گیا ہو اور وہ ”غم“ اس کے چہرے پر صاف نظر آ رہا تھا۔

”سلمان! مذاق کرتے کرتے اور مسکراتے مسکراتے تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہارے چہرے پر دکھ کی پرچھائیاں نظر آ رہی ہیں!“ نعمان نے بھی سنجیدگی اختیار کر لی تھی۔

”ہم یہاں ہنس رہے ہیں اور کشمیری وہاں رو رہے ہیں! ہمیں ابھی کسی مصیبت کا سامنا نہیں ہے جبکہ کشمیری کئی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں!“

اپنوں کی جدائی کا درد اپنوں کے قربان ہونے کا دکھ، بھوک کی تکلیف، غلامی کی مصیبت! ہم یہاں مزے سے سیب اور دوسری اشیاء کے مزے اڑائے جا رہے ہیں جبکہ وہاں ان کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہم آزادی اور خوشی سے جی رہے ہیں، وہ غلامی اور غم سے مر رہے ہیں۔ ہم آزادی اور مزے سے گھوم پھر رہے ہیں جبکہ وہ وہاں اپنے ہی گھروں میں قیدی بنے بیٹھے ہیں ……!“ سلمان کا لہجہ غم اور دکھ میں ڈوبا ہوا تھا۔

”واقعی! یہ دکھ کی بات ہے ہمارے کشمیری بہن بھائیوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے، بھارتی فوجی بڑے بے دردی سے ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں ……!“ نعمان کا لہجہ بھی غم اور دکھ سے چور تھا ”کیا کشمیریوں کا خون سستا ہے؟ کیا کشمیریوں کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے؟ کیا کشمیریوں کا خون اسی طرح بہایا جاتا رہے گا؟ کیا کشمیریوں کو اسی طرح ظلم و بربریت کا سامنا رہے گا؟ کیا کشمیریوں کو اسی طرح کاٹا جاتا رہے گا؟ کیا کشمیریوں سے اسی طرح ان کی آزادی، مرضی اور خوشیاں چھنتی رہیں گی؟ کیا کشمیریوں کو اسی طرح کاٹا جاتا رہے گا؟ قسمت کی کتاب میں صرف اور صرف دکھ، عذاب، غم، پریشانیاں مشکلات، مصیبتیں، آفتیں، درد لکھے ہیں؟ کیا کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ کبھی ختم بھی ہوگا……! سلمان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے دکھ، درد کو سمجھ رہا تھا اور اسے لفظوں میں بیان بھی کر رہا تھا۔

”نہیں کشمیریوں کا خون سستا نہیں ہے، مہنگا ہے۔ کشمیریوں کے خون کی قدر و قیمت بالکل ہے۔ کشمیریوں کا خون اسی طرح نہیں بہایا جاتا رہے گا، کبھی نہ کبھی دنیا کو کشمیریوں کے خون کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو جائے گا۔ کشمیری اسی طرح ظلم کا سامنا نہیں کریں گے، کبھی نہ کبھی ان پر ظلم ختم ہو جائیں گے۔ اور انہیں مظالم کی جگہ خوشیوں کا سامنا ہوگا۔ کشمیری اپنی آزادی، اپنا اختیار، اپنی خوشیاں حاصل کر کے رہیں گے۔“ کشمیریوں کو ان کے حقوق حاصل ہوں گے۔ کشمیری جئیں گے، انہیں جینے کا مکمل حق ملے گا۔ کشمیریوں کو آزادی کی نعمت سے نوازا جائے گا۔ کشمیریوں کا مقدر کھوٹا نہیں ہے۔ کشمیریوں کی قسمت کی کتاب میں مسرتیں اور خوشیاں بھی لکھی ہیں، جو ان شاء اللہ بہت جلد ان کو ملیں گی۔ بہت جلد کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ یاد رکھنا جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے…… نعمان کے پاس سلمان کے سوالوں کے تمام جوابات تھے۔

”مگر ابھی تو بھارتی فوجی ظلم و ستم کر کے کشمیریوں کو مٹا رہے ہیں، ظلم نہیں مٹ رہا، کشمیری مٹ رہے ہیں ……!“ سلمان نے دکھ اور آنسوؤں میں ڈوبے لہجے میں کہا۔

”ظلم ختم ہوگا، ظلم مٹے گا، تم مسلمان ہو، مسلمان تو اپنے رب پر سچا بھروسہ رکھتا ہے۔ کہاں گیا تمہارا رب پر بھروسہ؟“ نعمان نے تسلی دے کر پوچھا۔

”رب پر بھروسہ ابھی بھی ہے، بھروسہ کہیں گیا نہیں ہے، بس ذرا ڈگمگا گیا تھا۔“

”سلمان! اب کبھی بھروسہ ڈگمگانے مت دینا، پتہ ہے؟ جوڈ گمگاتا ہے وہ کھو جاتا ہے۔ اپنا بھروسہ کبھی مت کھونا!“نعمان بولا۔

”کبھی نہیں ……“ اور سلمان نے رب پر بھروسہ جو رکھا تھا، وہ کھو جانے سے بھی بچا لیا اور اس یقین کو بھی مرنے سے بچا لیا کہ کشمیر جلد پاکستان کا حصہ بنے گا! اس نے اس خیال کو مار دیا کہ کشمیر آزاد نہیں ہو پائے گا! (خدا نخواستہ) اور سلمان بلکہ تمام مسلمانوں کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کا خون سستا نہیں ہے۔ قیمتی ہے بہت قیمتی……!

مزید : ایڈیشن 1