آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  



دو ننھے بچے مارک اور ٹونی بہت شرارتی تھے۔ اتنے شرارتی کہ اڑوس پڑوس میں بھی کوئی شرارت ہوجاتی تو سب کو یقین ہوتا کہ ان دونوں نے ہی کی ہوگی۔ ان کی شرارتوں کیوجہ سے انکی ماں بہت پریشان رہتی تھی۔ ایک دن وہ محلے کے چرچ میں گئی اور پادری سے اپنی پریشانی بیان کی۔ پادری نے اسے تسلی دی اور کہا کہ کل ایک بچے کو لے کر چرچ آ جانا۔ عورت اگلے دن ایک بچے کو لے کر چرچ پہنچ گئی۔

پادری نے چہرے پر غصہ طاری کرتے ہوئے بچے سے رعب دار آواز میں پوچھا۔

”کیوں بچے! کیا تم جانتے ہو گاڈ (خدا) کہاں ہے؟“

ننھا مارک سہم گیا اور خاموشی سے پادری کی طرف دیکھتا رہا۔ پادری نے سوچا بچہ میرے رعب میں آرہا ہے۔ لہذا پھر اور اونچی آواز میں پوچھا۔

“ بچے! جلدی بتاؤ تم گاڈ (خدا) کے بارے میں کیا جانتے ہو؟؟“

ننھا مارک خوفزدہ ہوگیا اور چرچ سے لپک کر باہر نکلا اور گھر کو دوڑ لگا دی۔

ہانپتا ہانپتا گھر پہنچا تو دوسرے شرارتی بھائی ٹونی نے بے تابی سے پوچھا کہ بتاؤ چرچ میں کیا ہوا؟؟؟

“یار ٹونی بھائی! اب کے ہم دونوں بہت برے پھنس گئے?“ مارک کے تشویش سے کہا

“ کیوں؟ آخر ہوا کیا چرچ میں؟“ ٹونی کا تجسس اور پریشانی بڑھ گئی۔

“یار کیا بتاؤں۔ پادری کا گاڈ گم ہوگیا اور وہ ہم پر شک کررہا ہے“ مارک نے وضاحت کی

مزید : ایڈیشن 1