سورج گرہن کیوں ہوتا ہے؟

سورج گرہن کیوں ہوتا ہے؟

  



آمنہ اقبال

سورج گرہن آج بھی مشرقی معاشروں کے لیے کسی عجوبے سے کم نہیں ہے۔اس سے متعلق لوگوں میں طرح طرح کے خوف اور عجیب وغریب تصورات پائے جاتے ہیں۔اکثر معاشروں میں یہ خیال عام ہے کہ گرہن اس وقت لگتا ہے جب سورج کو بلائیں یا خوفناک جانور نگل لیتے ہیں۔بھارت میں سال کے پہلے ہونے والے سورج گرہن کو خاصی اہمیت دی گئی ہے۔ہندو عقائد کے مطابق اس گرہن کے اچھے اور برے اثرات قسمت کے ستاروں پربھی پڑتے ہیں،جس کے سبب سورج گرہن کو دیکھنے والوں کی تعدادلاکھوں میں ہوتی ہے۔بھارت کے متعد د شہروں میں سورج گرہن اہتمام کے ساتھ دیکھا جاتاہے۔

بچوٖٖ!سورج گرہن کی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ گرہن اس وقت لگتا ہے جب چانداپنے مدار پرگردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے،جس کی وجہ سے اس کا سایہ زمین پرپڑتا ہے۔چاند کی طرح ہمارے نظام شمسی کے دوسرے سیارے مثلا مریخ اور زہرہ بھی اپنی گردش کے دوران زمین اور سورج کے درمیان آجاتے ہیں،لیکن چونکہ وہ زمین سے کروڑوں میل کی مسافت پرہیں اس لیے ان کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا۔دوسری جانب چاند،سورج کی نسبت زمین سے 400 گنازیادہ قریب ہے اس لیے سورج کے مقابلے میں بے پناہ چھوٹا ہونے کے باو جودوہ تقریبا سورج جتناہی دکھائی دیتاہے۔چنانچہ جب وہ زمین اور سورج کے دومیان آتا ہے تو زمین کے کچھ حصوں پراس کا اس کا سایہ پڑتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1