ریچھ سے نجات

ریچھ سے نجات

  



ایک جنگل میں گلہریوں کا جوڑا اپنے ننھے بچے کے ساتھ رہتا تھا۔ گلہریوں کا جوڑا اپنے اکلوتے بچے سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ ضرورت کی ہر شے اسے مہیا کر دیتے تھے۔ جب گلہریوں کے بچے نے ذرا ہوش سنبھالا تو اس کے والدین نے اسے خوراک کے حصول، درختوں پر چڑھنا اور دشمن سے حفاظت کے گر سیکھلا دیئے۔

بہار کی ایک خوشگوار صبح کو گلہریوں کے جوڑے نے اپنے بچے کو ساتھ لیا اور جنگل کی سیر کو چل دیئے۔ گلہریوں کا بچہ اس سیر سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہا تھا اور ہرے بھرے جنگل کے درختوں پودوں، پھولوں، ندیوں، بلند و بالا پہاڑوں اور خوبصورت پرندوں کو دیکھ دیکھ کر بہت خوش ہو رہا تھا اور کھیلتا کودتا اور سبز سبز گھاس پر لوٹتا ہوا خوب لطف اٹھا رہا تھا۔ اچانک جنگل کے تاریک حصہ سے ایک کالا ریچھ نکل آیا۔ اس ریچھ کی شہرت جنگل میں بہت خراب تھی۔ ہر چھوٹا جانور اس سے کترا کر رہتا۔ اگر کہیں یہ آ دھمکتا تو چھوٹے جانورں کو وہاں سے بھاگنا پڑتا کیونکہ وہ اپنے علاقہ میں کسی کی مداخلت پسند نہ کرتا تھا اور کسی کو خوش دیکھنا تو اسے ہرگز گوارا نہ تھا جنگل کے تمام چھوٹے جانور اس کے رویہ سے نالاں تھے جب وہ ریچھ گلہریوں کے جوڑے کو نظر آیا تو اس کا رنگ فق ہو گیا انہوں نے اپنے بچے کو اشارہ کیا اور سب خوفزدہ ہو کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ریچھ نے جب انہیں یوں بے تحاشہ دوڑتے ہوئے دیکھا تو سوچا کہ وہ تو سب سے زیادہ طاقتور ہے اسے تو جنگل کا سردار ہونا چاہئے وہ زور زور سے قہقہے لگانے لگا جیسے چھوٹے جانوروں کو وہاں سے بھگا کر کوئی انوکھا کارنامہ سر انجام دیا ہو۔

ایک سردیوں کی صبح جب وہ گلہریوں کا بچہ نیند سے جاگا تو موسم خوشگوار دیکھ کر اس کے دل میں جنگل کی سیر کو مچلا اس نے اپنے والدین کی طرف دیکھا تو وہ گہری نیند سو رہے تھے اس لئے اس نے اکیلے ہی جنگل کی سیر کا پروگرام بنایا اور اپنے گھر سے چل کھڑا ہوا۔ ہرے بھرے اور خوبصورت جنگل سے وہ اتنا لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ اپنے گھر سے بہت دور نکل آیا ہے اور خوشی سے ناچنا شروع کر دیا، اپنی دھن میں مگن رقص کرتے کرتے وہ انجانے میں ریچھ کے بدن پر چڑھ گیا نرم ملائم ریشمی بالوں اور گداز جسم پر چڑھ کر اسے بڑا مزہ آ رہا تھا اور اس نے خوشی سے وہاں اچھلنا کودنا شروع کر دیا ریچھ نے جب دیکھا کہ گلہریوں کا بچہ اس کے آرام میں خلل ڈال رہا ہے تو اس کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ اس نے گلہری کے بچہ کو دبوچنے کے لئے جھپٹا مارا مگر گلہریوں کا بچہ جو خبردار پہلے ہی ہو چکا تھا، ریچھ کے بدن سے پھدک کر وہاں سے دور چلا گیا۔ اب ریچھ اور گلہریوں کے بچے کے درمیان کچھ فاصلہ موجود تھا ریچھ نے گلہریوں کے بچے کو للکارا اور اسے پکڑنے کے لئے تاکہ اس کی ہڈی پسلی ایک کر دے اس پر چھلانگ لگا دی مگر گلہریوں کا بچہ تیزی سے ایک جانب ہٹ گیا۔ ریچھ کا وار خطا گیا اور وہ تیزی سے زمین سے ٹکرایا۔ ریچھ ہانپتا ہوا دوبارہ زمین سے اٹھ کھڑا ہوا اور تیزی سے گلہریوں کے بچے کی طرف بھاگا۔ گلہریوں کا بچہ دوڑ کر ایک قریبی درخت پر چڑھ گیا۔ ریچھ زمین پر پاؤں پٹخ کر رہ گیا پھر وہ گلہریوں کے بچے کے پیچھے پیچھے درخت پر چڑھتے لگا، گلہریوں کا بچہ نے جب ریچھ کو درخت پر چڑھتے دیکھا تو وہ مزید اوپر چڑھ گیا۔ ریچھ مسلسل اس کا تعاقب کئے ہوئے تھا جب ریچھ کچھ اوپر چڑھتا تو گلہریوں کا بچہ مزید اوپر کو ہو جاتا۔ یہاں تک کہ وہ آدھے سے زیادہ درخت پر چڑھ گیا۔ وہاں اس نے سوچا کہ اگر ریچھ اسی طرح اس کا پیچھا کرتا رہا تو ضرور اس تک پہنچ جائے گا آخر اس نے اپنی جان بچانے کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔ وہ زیادہ سے زیادہ ریچھ سے فاصلے پر رہنا چاہتا تھا۔ جب بچہ کو احساس ہوتا کہ وہ اب ریچھ سے کم فاصلے پر رہ گیا ہے تو وہ تیزی سے اوپر کی طرف چلا جاتا۔ پھر جب ریچھ اور گلہریوں کے بچے کے درمیان کم سے کم فاصلہ رہ گیا تو اس کو ایک سوراخ نظر آیا وہ دوڑ کر اس میں چھپ گیا جب ریچھ نے دیکھا کہ وہ سوراخ میں پناہ لے چکا ہے تو اس کے لئے اب بچے کو پکڑنا ممکن نہ رہا کیونکہ سوراخ اتنا چوڑا نہ تھا کہ ریچھ اس میں سما سکے ریچھ اب تھکاوٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ کچھ دیر درخت پر بیٹھا رہنے سے اس کی قوت برداشت بھی جواب دے گئی اور وہ آہستہ آہستہ درخت سے نیچے اترنے لگا اور درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیا گلہریوں کے بچے نے سوراخ سے باہر جھانک کر ریچھ کو نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا تو اسے ہر صورت اپنی جان جانے کا یقین ہو گیا۔ پھر اسے درخت کی سب سے اونچی نازک شاخ پر شہد کی مکھیوں کا چھتہ نظر آیا تو اس نے شہد کی مکھیوں سے مدد کی درخواست کی، مکھیوں کو اس پر رحم آ گیا۔وہ بڑی تعداد میں اڑ کر ریچھ پر حملہ آور ہوئیں اور اس کے جسم کو کاٹنے لگیں کئی،اس کے کانوں، آنکھوں اور ناک میں گھس گئیں سینکڑوں سوئیاں تھیں کہ ریچھ کے بدن میں اتر گئیں اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے بے تحاشا وہاں سے بھاگا۔مکھیوں نے اس کا تعاقب جاری رکھا۔ ریچھ درد کی شدت سے چیختا چلاتا بھاگتا رہا یہاں تک کہ وہ جنگل چھوڑ کر دوسرے جنگل میں پناہ لے لی۔اب شہد کی مکھیاں واپس اپنے ٹھکانے پر آ گئیں، کچھ ہی دیر بعد گلہریوں کا جوڑا اپنے بچے کو تلاش کرتا ہوا وہاں آ گیاا ور بچے کو اپنے ساتھ واپس گھر لے گیا۔ ریچھ اس کے بعد دوبارہ جنگل میں نہ آیا۔

مزید : ایڈیشن 1