چینی کی غیر حقیقی قیمت کا حکومتی فیصلہ نامنظور: کاروباری طبقہ 

چینی کی غیر حقیقی قیمت کا حکومتی فیصلہ نامنظور: کاروباری طبقہ 

  



لاہور (پ ر)گزشتہ دنوں میں حکومت کی طرف سے دُکانوں پر چینی کی فی کلو قیمت 70 روپے مختص کی گئی،  اس غیر منصفانہ ریٹ کا اطلاق نا ممکن تھا۔ مگر پنجاب میں ضلعی انتظامیہ نے دوکاندارون کو حراساں کر کے اس قیمت پر چینی بیچنے پرمجبور کیا اور یہاں تک کہ دکانداروں کو حراست میں لیا۔  یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ شوگر ملوں سے باہمی مشاورت کے بنا ہی طے کر لیا گیا اور حکومت نے ہر گز یہ ضروری نہ سمجھا کہ شوگر ملوں کو بھی اس معاملے میں شریک رکھے۔ اس یکطرفہ حکومتی فیصلے کے پیشِ نظر تمام مارکیٹ شدید اضطراب کا شکار ہے  اور پرچون فروش بھی وا ویلہ مچا رہے ہیں۔ اس بگڑتی ہوئی صورت حال کی کلیدی وجہ حکومت کی مارکیٹ کے بنیادی حقائق سے لا علمی ہے جس کا خمیازہ ملز مالکان دوکاندار اور غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے نتیجہ ملک میں چینی کا مارکیٹوں سے غائب ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت سے اپیل ہے کہ ملز مالکان، دوکاندار اور غریب عوام کو در پیش مسائل کو مدِ نظر رکھے اور اسے احسن اقدامات اور باہمی مشاورت کے ساتھ حل کرے۔ 

مزید : کامرس