تھیٹر کی بقاء کے لئے رقص کی بجائے سکرپٹ پر توجہ مرکوز دیناہوگی

  تھیٹر کی بقاء کے لئے رقص کی بجائے سکرپٹ پر توجہ مرکوز دیناہوگی

  



لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ تھیٹر کی بقاء کے لئے رقص کی بجائے سکرپٹ پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی،اچھالکھنے والوں کے ساتھ سینئر اداکاروں کو دوبارہ تھیٹر پر آنا ہو گا تبھی نتائج حاصل ہو سکیں گے۔ شوبز شخصیات نے کہا کہ ایک دو ڈرامے کرنے سے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے بلکہ سینئر اداکاروں اور ڈائریکٹرز کے مسلسل کام کرنے سے سٹیج ڈرامے میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔سٹیج ڈرامے کو بچانے کے لئے کسی نہ کسی کو لازمی آگے آنا ہو گا ورنہ جس تیزی کے ساتھ سٹیج ڈرامہ اپنی اصل شناخت کھو رہا ہے مستقبل میں یہ بھی فلم انڈسٹری کی طرح زوالی کا شکار ہو جائے گا۔شاہد حمید،شان،معمر رانا،شاہدہ منی،میگھا،ماہ نور،مسعود بٹ،اچھی خان،جرار رضوی،نادیہ علی،ہانی بلوچ،مایا سونو خان،عامر راجہ،آغا قیصر عباس،سہراب افگن،حاجی عبد الرزاق،یار محمد شمسی صابری،بینا سحر،ثناء بٹ،سدرہ نور،بی جی، عباس باجوہ،ندا چوہدری،ہنی شہزادی،اسد نذیر،نادیہ جمیل،عقیل حیدر،گلفام،طاہر انجم،طاہر نوشاد،ڈاکٹر اجمل ملک،ملک طارق،ارشد چوہدری،ڈیشی راج،آفرین خان،آشا چوہدری،احسن خان،نیلم منیر،رزکمالی،وہاج خان،اسد مکھڑا،گڈوکمال،جہانزیب علی،صوبیہ خان،ثمینہ بٹ،ناصر چنیوٹی،تابندہ علی،بابرہ علی،قیصر لطیف،ذیشان جانو،سلیم بزمی، لاڈا،ظفر عباس کھچی،مومنہ بتول،عائشہ جاوید،عارف بٹ،عاصم جمیلِ،آغا حیدر اور رضی خان نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ڈرامہ دیکھنے آنے والے رقص دیکھنا چاہتے ہیں،لیکن ایک بڑی تعداد جو اچھا ڈرامہ دیکھنا چاہتی ہے ان کا کسی کو خیال نہیں اس پر بھی سوچ بچار کرنی چاہیے۔اس وقت سٹیج مانیٹرنگ ٹیمیں بھی باتوں تک اصلاح کا کام کررہی ہیں اس کے علاوہ وہ کوئی اور کام نہیں کررہیں وہ ڈرامہ سنسر کرنے آتی ہیں اور صرف چائے،پانی پینا اور ڈانس دیکھنے کی سوا ان کو کچھ مطلب نہیں ہوتا مانیٹرنگ ٹیموں کی لاپرواہی کی وجہ سے تھیٹر تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

مزید : کلچر