سابق خاتون جج کی 5ویں بار امتحان دینے کی درخواست مسترد

سابق خاتون جج کی 5ویں بار امتحان دینے کی درخواست مسترد

  



 اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ نے سابق خاتون جج کی پانچویں بار امتحان کا موقع دینے کی درخواست مسترد کردی،جسٹس گلزارنے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو پانچواں موقع کیسے دے دیں ہمارے سامنے تو کچھ ہے ہی نہیں۔ تفصیلات کے مطابق  سپریم کورٹ میں سابق خاتون ایڈیشنل سیشن جج کی محکمانہ امتحان کا پانچویں بارموقع دینے سے متعلق جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔سماعت کے دوران وکیل درخواست گزارنے کہا کہ خاتون کو2013 میں ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا گیا، لاہورہائی کورٹ کے حکم پر محکمانہ امتحان ہوا۔ ریحانہ نوازچاربارمحکمانہ امتحان دینے کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکیں، پہلے پرچے میں ریحانہ نوازکسی ایک پرچے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکیں، دوسری کوشش میں یہ چارپرچوں میں فیل اور تین میں کامیاب ہوئیں، تیسری باردوبارہ یہ تمام پرچوں میں فیل ہوگئیں جب کہ چوتھی اورآخری بارریحانہ نواز نے سوائے ایک کے تمام پرچے پاس کرلیے اورقانون کے مطابق ان امتحانات کو دو سال کے اندر ہوناتھا جبکہ یہ 13 ماہ کے اندر لیے گئے۔وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ریحانہ نوازنے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کومعاملہ خود سننے کی استدعا کی جو مسترد ہوگئی، انہیں ملازمت اختیارکرنے کے چارسال بعد 2017 میں نوکری سے نکال دیا گیا، درخواست گزارنے لاہورہائی کورٹ میں درخواست دی تاہم لاہورہائی کورٹ نے امتحان کے لیے پانچواں موقع دینے کی درخواست خارج کردی۔جسٹس گلزاراحمد نے استفسارکیا کہ اب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں، جس پروکیل نے کہا کہ پہلے امتحان سے ایک روز قبل ریحانہ نواز کے والد کا انتقال ہوگیا، دوسرے امتحان کے وقت یہ خود حاملہ تھیں، تیسرے امتحان کے وقت ان کی والدہ بیمارتھیں جب کہ چوتھے امتحان سے قبل ان کے سسر کا انتقال ہوگیا  تھا۔جسٹس گلزارنے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو پانچواں موقع کیسے دے دیں ہمارے سامنے تو کچھ ہے ہی نہیں، جس کے بعد عدالت نے پانچویں امتحان کا موقع دینے کی درخواست مسترد کردی۔

مزید : علاقائی