سینیٹ قائمہ کمیٹی کا وزیر پٹرولیم کی اجلاس میں عدم شرکت پر اظہار برہمی

  سینیٹ قائمہ کمیٹی کا وزیر پٹرولیم کی اجلاس میں عدم شرکت پر اظہار برہمی

  



اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے وزیر پٹرولیم کی عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی وزیر کی کمیٹی اجلاس میں عدم حاضری پر چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کیا جائے گا۔ گزشتہ روزسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت ہوا۔ڈی جی پٹرولیم کنسیشنز نے کہاکہ اس وقت ملک میں 133 فعال تیل و گیس بلاکس ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلاکس سے تیل و گیس کی تلاش کیلئے 5 سال کا وقت مختص کیا جاتا۔سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ ہر بلاک کی کلیرنس وزارت دفاع کرتی ہے،آف شور کے 12 بلاکس اور 12 بلاکس آن شور سیکورٹی کلیئرنس کے باعث رکے ہوئے ہیں۔ ڈی جی پٹرولیم کنسیشنز نے کہاکہ سیکیورٹی کلیئرنس چھ ماہ سے رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تیل و گیس کی تلاش کا اندازہ ہو تو 25 سال کی لیز دی جاتی ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ آئندہ مشترکہ مفادات کونسل میں فاٹا علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے فرنٹیئر زون کی منظوری مانگنی گئی ہے،اس کیلئے خصوصی ٹیرف رکھا جائے گا۔حکام نے بتایاکہ آف شور میں پہلے پانچ سال کوئی رائلٹی نہیں رکھی گئی، تیل و گیس کی تلاش کے دوران کمپنیاں 30 ہزار ڈالر سالانہ سی ایس آر کا فنڈ دیتی ہیں۔حکام نے بتایا کہ اگر تیل و گیس کی تلاش ہو جائے تو پھر 37 ہزار سے 50 ہزار ڈالر سالانہ تک رقم دینا ہوتی ہے۔حکام نے بتایاکہ ساری رقم مقامی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں جاتی ہے۔ سینیٹر یعقوب خان ناصر نے کہاکہ بلوچستان میں ایسا کوئی نظام نظر نہیں آتا،مجھے تو آج تک معلوم نہیں ہوا کہ میرا علاقے میں ایسا فنڈ کہاں استعمال ہوا۔چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ منتخب رکن اسمبلی اور سینٹر کو سکیموں پر مشاورت اور آگاہ رکھا جائے۔ حکام وزارت پٹرولیم نے کہاکہ وزارت پیٹرولیم نے کمیٹی والا نظام 2015 سے شروع کیا۔حکام وزارت پٹر ولیم نے کہاکہ کمپنیوں کی طرف سے رقوم 2015 سے ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں جا رہی ہیں۔حکام بتایا کہ اس کا استعمال رکن قومی اسمبلی اور ضلع کے ڈی سی اور ضلعی کمیٹی کی مشاورت سے کرنا ہے۔ حکام وزارت پٹرولیم نے کہاکہ ہماری اطلاعات ہیں کہ فنڈ موجود ہیں مگر استعمال نہیں کیے جا رہے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ قومی اسمبلی کی پیٹرولیم کمیٹی کو معاملہ حل کرنے کیلئے سفارش کریں گے۔سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ عمر ایوب خان جب سے وزیر بننے ہیں کبھی کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آئے۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ وفاقی وزیر کی کمیٹی اجلاس میں عدم حاضری پر چیئرمین سینٹ کو آگاہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دور ان حکام نے بتایاکہ سوشل ویلفیئر کی کمیٹی وفاقی حکومت نے اور پروڈکشن بونس کی کمیٹی صوبائی حکومتوں نے بنانی ہے،سندھ حکومت نے کمیٹیاں مشترکہ مفادات کونسل کی گائیڈ لائنز کے خلاف بنائی ہے۔حکام نے بتایاکہ گورنر سندھ نے کمیٹیوں کیخلاف وفاقی حکومت کو خط لکھا ہے،او جی ڈی سی ایل آئندہ ماہ پہلا شیل ویل ڈرل کرے گی۔

قائمہ کمیٹی

مزید : علاقائی