چائے کی پیالی میں طوفان

چائے کی پیالی میں طوفان
چائے کی پیالی میں طوفان

  



وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں اپنے خطاب میں کہا ”سپریم کورٹ کو یہ تاثر ختم کرنا ہو گا کہ ملک میں امیر کے لئے الگ اور غریب کے لئے الگ قانون ہے“ جناب رسول اللہؐ کا واضح فرمان ہے کہ ”گزشتہ قومیں اس لئے ہلاک کی گئیں کہ ان میں صاحب ثروت اور بااثر لوگوں کیلئے الگ اور مفلوک و نادار افراد کیلئے انصاف کا معیار الگ تھا“ نوازشریف کی علاج کے لئے بیرون ملک روانگی نے اس تاثر کو مزید گہرا کر دیا ہے اور یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا مملکت خداداد میں واقعی امیر اور غریب کیلئے الگ قانون اور انصاف کا دہرا معیار ہے۔ نوازشریف کو کیا اور کون سی بیماریاں لاحق ہیں، اس بارے اللہ رب العزت جانتے یا نوازشریف کے معالجین کو پتہ ہے۔ تاثر یہی تھا کہ وہ سخت علیل ہیں ان کے اپنے اور حکومتی ڈاکٹرز یہاں تک کہ شوکت خانم کے سب سے بڑے ڈاکٹر بھی ان کو ایک نہیں کئی کئی بیماریوں کا پتہ دے رہے تھے جس کے بعد ان کا علاج جہاں ہونا تھا وہ وہاں پہنچ چکے ہیں۔ مگر دوسری طرف ان کی موجودہ موصول شدہ تصاویر اس کے برعکس نشاندہی کر رہی ہیں۔ ایک سازشی تھیوری یہ ہے کہ نواز شریف کی صحت تشویشناک تھی نہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے، وہ شاداں فرحاں، مسکراتے چہرے کے ساتھ اپنے قدموں پر چل کر ہر جگہ جاتے رہے ان کے چہرے نے بھی دل کی آئینہ داری نہ کی، اس کے باوجود ان کو دنوں میں علاج کے لئے لندن بھجوا دیا گیا، طرفہ تماشا یہ ہوا کہ نوازشریف طویل سفر طے کرنے کے باوجود سیدھے ہسپتال جانے کے بجائے بیٹے کے گھر گئے، حالانکہ طویل سفر کے بعد صحت مند انسان بھی تکان سے بیمار پڑ جاتا ہے مگر بیمار نوازشریف شاید لندن کی فضا میں سانس لیتے ہی صحت یاب ہو گئے۔

وزیر اعظم کے سپریم کورٹ بارے سوالات کے بعد جواب آں غزل کے طور پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھی لب کشائی کرنا پڑی، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہمیں طاقتور کا طعنہ نہ دیا جائے ہمارے لئے کوئی طاقتور نہیں، عدلیہ نے ایک وزیراعظم کو برطرف ایک کو نااہل قرار دیا، ایک آرمی چیف کے کیس بارے فیصلہ آنے والا ہے، جس شخص کو بیرون ملک بھیجے جانے کا الزام ہمیں دیا جا رہا اسے وزیراعظم نے خود باہر جانے کی اجازت اور ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کا کہا، ہم بغیر اضافی وسائل کے عدلیہ میں خاموش انقلاب لائے، تین ہزار ججوں نے 36 لاکھ مقدمات نبٹائے جن میں سے 25 سال پرانے کیس بھی شامل ہیں۔ جواب شکوہ کے طور پر وزیراعظم نے کہا نوازشریف کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور عدالتی فیصلہ پر لندن جانے کی اجازت دی گئی۔

اب یار لوگ دور کی کوڑی لائیں گے اور حکومت، عدلیہ میں اختلافات کا تاثر دیا جائے گا جیسے کچھ روز قبل حکومت اور فوج میں اختلافات کی افواہ سوشل میڈیا پر اڑائی گئی جس کی وضاحت ترجمان آئی ایس پی آر نے پیش کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا فوج اور حکومت میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں ایک پیج پر ہیں۔یہ بھی کہا گیا کہ سپہ سالار کو توسیع دینے کا نوٹیفیکشین روک دیا گیا ہے۔ حالانکہ جب صدر مملکت نے وزیر اعظم کی طرف سے سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری پر دستخط کر دیئے تھے تو یہ بحث ہی لاحاصل تھی مگر دوست اس پر بھی بے پر کی اڑاتے رہے۔ اسی طرح چیف جسٹس کے الفاظ کو بھی کوئی دوسرے معنی نہیں دیئے جا سکتے، یہ محض ایک وضاحت تھی جو موجودہ سیاسی تناظر میں ضروری تھی، اس سے ن لیگ کے اس الزام کی بھی نفی ہو گئی کہ وزیراعظم، کابینہ نے نوازشریف کے لندن جانے میں رکاوٹ ڈالی۔

سوال یہ نہیں کہ نوازشریف کو کیا بیماری لاحق ہے، صاف اور سیدھی بات ہے کہ وہ اپنے بیمار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمارے یا کسی دوسرے کے پاس اسے حقیقت سمجھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے ان کو بیمار قرار دیا ہے جو ان کی بیماری پر مہر تصدیق ہے، اس سے بھی اہم سوال سابق صدر آصف علی زرداری کی علالت کے حوالے سے ہے، کیا یہ بات انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں کہ پنجاب کے سابق وزیراعظم کو ذاتی معالجین کی سہولت دی گئی، انہیں جیل سے ہسپتال پھر گھر منتقل کیا گیا آخر کار علاج کے لئے لندن بھجوا دیا گیا، وفاقی حکومت کے اس اعتراض کہ لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کیس کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتی، ہائیکورٹ نے جواب میں کہا نوازشریف لاہور کے رہائشی ہیں ان کی درخواست سننے کا ہمیں اختیار حاصل ہے، مگر سندھ کے رہائشی آصف زرداری کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

ذاتی معالجین کو رسائی نہیں دی جا رہی، اس حوالے سے حکومت کا دعویٰ ہے زرداری دررخواست دیں غور کیا جائے گا جبکہ زرداری اپنے مقدمات سندھ منتقل کرنے کا متعدد بار مطالبہ کر چکے ہیں جسے مسترد کر دیا گیا، عدالت نے بھی ان کی درخواست رد کر دی، مریض کے ساتھ انسانی ہمدردی کا جو رویہ نوازشریف کے حوالے سے روا رکھا گیا وہ زرداری کے بارے میں کیوں نہیں، حکومت انہیں بھی انسانی بنیاد پر علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر سکتی ہے اور اس سے بہت اچھا تاثر جائے گا ان کے مقدمات سندھ منتقل کر کے ذاتی معالجین تک رسائی دے کر سیاسی رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے، حقیقت یہ کہ نوازشریف کی نسبت زرداری کی طبیعت زیادہ ناساز ہے۔

مزید : رائے /کالم