عمران خان لاڈلے نہیں رہے

عمران خان لاڈلے نہیں رہے
عمران خان لاڈلے نہیں رہے

  



نواز شریف کے ملک سے باہر جانے پر جب سے پی ٹی آئی کی جانب سے کرپشن کے خلاف احتساب کا نعرہ ٹھس ہوا ہے اور گڈ گورنینس کے محاذ پر وزیر اعظم عمران خان کی کارکردگی زیرو ہوئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ عمران خان ان حلقوں کے بھی لاڈلے نہیں رہے جن کے کبھی تصور جاتے تھے۔ ہم اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں سے تسلسل کے ساتھ گزارش کرتے آرہے ہیں کہ ملک میں سسٹم کی مثال اس بھینس کی ہوتی ہے جو ہر وقت جوہڑ میں گھسنے کے لئے بے تاب رہتی ہے، ادھر آپ اسے نہلا دھلا کر کھڑا کرتے ہیں ادھر وہ اپنے ہی گند سے لت پت ہو جاتی ہے۔ اب اگر سارا زور اس کو نہلانے دھلانے اور چمکانے پر لگادیا جائے (جیسا کہ عمران خان گزشتہ ایک سال سے سسٹم کے ساتھ کر رہے ہیں) اور بھینس کا دودھ نہ نکالا جائے تو بھوک سے بلکتے بچے (یعنی) عوام تنگ آکر آپ کو کھانے کو دوڑتے ہیں۔ چنانچہ عقلمندی یہی ہوتی ہے کہ بھینس کے تھنوں کو صاف پانی سے دھو کر دودھ لے لیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے سسٹم کو کرپشن سے پاک کرنے کے چکر میں بھینس سے دودھ نہیں لیا ہے اور اب عوام ان کو کھانے کو دوڑ رہے ہیں جبکہ خود بھینس (یعنی سسٹم) کا حال یہ ہوگیا ہے کہ اس نے دودھ اوپر چڑھالیا ہے اور اس کے باوجود کہ معاشی اشاریے بہتری کی طرف گامزن ہیں، سسٹم ڈیلیور نہیں کر رہا ہے۔

اس پر پی ٹی آئی کے دوست بتاتے ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے عمران خان کرپٹ مافیا کے خلاف کھڑا ہے اور اس نے کہہ دیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا، خواہ اکیلا رہ جائے اور یہ کہ کرکٹ نے انہیں مقابلہ کرنے کا ڈھنگ سکھادیا ہے اور وہ مقابلہ کریں گے۔ ہم ان دوستوں سے کہتے ہیں کہ جس طرح ایک پہلوان کرکٹ نہیں کھیل سکتا اسی طرح اگر خان صاحب کو اکھاڑے میں اتاردیا جائے تو وہ انتہائی بودے پہلوان ثابت ہوں گے کیونکہ انہیں کشتی کے داؤ پیچ نہیں آتے ہیں۔ کرکٹ میں تو ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی ایک کھلاڑی پوری ٹیم کو جتوانے کا سامان کردے، یعنی اچھی باؤلنگ کرکے چھ وکٹیں لے لے یا اچھی بیٹنگ کرکے سنچری ماردے یا اچھے کیچ پکڑ کر مخالف ٹیم کو بحرانی کیفیت سے دوچار کردے لیکن سیاست میں ایسا نہیں ہوتا ہے، یہاں اکیلے لڑنے کا تصور نہیں ہوتا بلکہ مشاورت سے سیاسی شطرنج کی چالیں چلی جاتی ہیں اور عوام کو باور کروایا جاتا ہے کہ آپ کو فلاں کی بھی حمایت حاصل ہے اورفلاں کی بھی حاصل ہے، جس طرح خود پی ٹی آئی آغاز میں ’ایک پیج پر‘ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی تھی اور آزاد امیدواروں نے اس کی چھتر چھایا میں الیکشن لڑنے کو ترجیح دی تھی۔ اس لئے جب خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ اکیلے ہی لڑیں گے تو یہ دعویٰ کرکٹ کے میدان میں تو کیا جا سکتا ہے لیکن سیاست کے میدان میں اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ سسٹم آپ کے خلاف ہوجاگیا ہے اور آپ اکیلے ہو گئے ہیں!وہی کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن، کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی والی کیفیت!

قاف لیگ کے چودھریوں، جی ڈی اے کے پیر پگاڑہ اور ایم کیو ایم کے بڑوں نے جس طرح نواز شریف کے معاملے پر حکومتی حلیف ہونے کے باوجود لائن لی اس سے عمران خان مجبور ہو گئے کہ وہ کام کریں جس کا انہوں نے خواب میں بھی تصور نہ کیا ہوگا۔ اب نواز شریف رو بصحت ہوں یا نہ ہوں، پاکستانی عوام یہ ماننے کو تیار نہ ہوں گے کہ پاکستان میں بے لاگ احتساب ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب خود پی ٹی آئی کے چودہ مہینوں کے احتساب کی بات ہونے لگی ہے کیونکہ اداروں کو اپنی ساکھ بھی بچانی ہے، وہ ایسی کشتی میں بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں جس میں چھید ہوچکا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اپوزیشن کی نو جماعتوں نے ہاتھی کا شکار کرکے اسے نیچے گرالیا ہے۔ اس ہاتھی کا ساتھی، یعنی سانڈ دو قدم پیچھے ہٹ گیا ہے۔ ہانپتے کانپتے ہاتھی کو بچاؤ کی تدبیر خود ہی کرنا ہوگی اوروزیر اعظم عمران خان کو اپنے سیاسی تدبر پر انحصار کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ نواز شریف جا چکا ہے، انہیں ڈیل بھی مل گئی ہے اور ڈھیل بھی مل گئی ہے! ستم یہ ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم کے طعنے کا جواب کیا آیا ہے، میڈیا کا موضوع سخن نواز شریف کی بجائے خود عمران خان بن گئے ہیں، پی ٹی آئی دفاعی پوزیشن پر چلی گئی ہے، اس کا جارح پن ہوا ہوگیا ہے، حالانکہ یہ حال تو نون لیگ کا ہونا چاہئے تھا۔ اب نون لیگئے اور مولانا کے لوگ ہنس رہے ہیں اور پی ٹی آئی والے بلبلا رہے ہیں، ان کے حامیوں کو چپ لگی ہوئی ہے۔ عمران خان لاڈلے نہیں رہے ہیں!

مزید : رائے /کالم