پنجاب اسمبلی،مہنگائی پر عام بحث تلخی میں تبدیل،اپوزیشن او ر حکومتی ارکان میں بازیبا جملوں کا تبادلہ

پنجاب اسمبلی،مہنگائی پر عام بحث تلخی میں تبدیل،اپوزیشن او ر حکومتی ارکان ...

  



لاہور(این این آئی،آئی این پی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مہنگائی اور پرائس کنٹرول پر عام بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی اورصوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے متنازعہ ریمارکس پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدیداحتجاج کیا گیا،دونوں کی جانب سے اپنے الفاظ پر معذرت کر لی گئی،محکمہ زراعت کے افسران کی گیلری میں عدم موجودگی پر تمام سوالات ملتوی کر دئیے گئے جبکہ ڈپٹی سپیکر نے کہا ہے کہ جب صوبائی وزیر صبح اٹھ کر ایوان میں آ سکتے ہیں تو افسران کیوں نہیں یہاں پہنچ سکتے،سپیکر نے لیگی اراکین کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں اور قائد حزب اختلاف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کا چیئرمین بنانے کے معاملے پر اپنی سربراہی میں سات رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیدی جس کا پہلا باضابطہ اجلاس پیر کے روز طلب کر لیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روزبھی مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ40منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔اجلاس میں محکمہ زراعت کے بارے میں سوالوں کے جوابات دیئے جانے تھے تاہم (ن) لیگ کی خاتون رکن کنول لیاقت کے سوال کے دوران نشاندہی کی گئی کہ آفیسر گیلری میں متعلقہ محکمے کے سیکرٹری سمیت کوئی بھی ذمہ دار افسر موجود نہیں جس پر چیئر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے زراعت سے متعلقہ تمام سوالات ملتوی کرنے کی رولنگ دی اور کہا کہ اگر صوبائی وزیر صبح اٹھ کر ایوان میں آ سکتے ہیں تو سیکرٹری کیوں نہیں پہنچ سکتے۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں دوسرے روزبھی مہنگائی او رپر ائس کنٹرول پر عام بحث ہوئی۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے کہا کہ جن کو چور ڈاکو کہتے تھے انہوں نے بجلی سستی فراہم کی،اس حکومت نے ایک یونٹ بھی پیدا نہیں کیا بلکہ بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھادی،اسد عمر کہتے تھے کہ پیٹرول چالیس روپے لیٹر ملنا چاہیے لیکن آج پیٹرول 115روپے کا مل رہا ہے۔ایک نامعلوم شخص میڈیا پر آکر کہتا ہے پاکستان کی معیشت ٹھیک سمت جارہی ہے،وزیر اعظم ترجمانوں کو بلاکر کہتے ہیں کہ اپنی زبان اور سخت کرو،اسلام آباد میں اس حکومت کے لوگوں نے 126دن مجرے اور بھنگڑے ڈالے پھر انہی لوگوں نے اپنے حلقوں کی عوام سے ووٹ بھی لیے،حسن مرتضی کے ان الفاظ پر تحریک انصاف کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج شروع کر دیا جس پر سپیکر نے الفاظ کارروائی سے حذف کر دا دئیے اورحسن مرتضی نے بھی معذرت کرلی۔اسی طرح حکومتی رکن اعظمی کاردار کی جانب سے بھی حسن مرتضی پر جملہ کسا گیا تاہم انہوں نے بھی معذرت کرلی۔چیئرمین کی جانب سے حکومتی اراکین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی لیکن اس کے باوجود خواتین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کرتی رہیں۔وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ مجرے کا لفظ انتہائی گھٹیا ہے،اگر معزز رکن کھڑے ہوکر معافی نہیں مانگتے تو حکومتی ارکان واک آؤٹ کریں گے،اسی دوران حکومتی خواتین سپیکر ڈائس کے سامنے آگئیں جس پرحسن مرتضی نے باضابطہ معذرت کرلی اور کہا کہ میں نے اپنے الفاظ واپس لے لئے۔ جیسے ہی حسن مرتضی نے دوبارہ تقریر شروع کی تو حکومتی اراکین نے ایک بار پھر آوازیں لگانا شروع کردیں۔حسن مرتضی نے چیئر سے مطالبہ کیا کہ اب ان سے بھی معافی منگوائیں۔اسی دوران رکن عظمیٰ کاردارنے حسن مرتضی کے لئے غیرمناسب الفاظ استعمال کئے جس پرحسن مرتضی نے ایوان سے احتجاجاًایوان سے واک آؤٹ کیا۔بعدازراں صوبائی وزیر اعجاز عالم کے منانے پر حسن مرتضی ایوان میں دوبارہ واپس آگئے۔صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں ویسے ہی الفاظ کا استعمال کیا اور کہا کہ یہاں ایک جماعت کا لیڈر انگلیاں ہلاکر اور کمر مٹکا کر بھنگڑے ڈالتا ہے اور خود کو خادم اعلیٰ کہلواتا ہے،یہی لوگ دس برسوں میں 96ارب ڈالر کا ملک کو مقروض کرگئے ہیں جس پر اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا۔اس دورنا لیگی رکن جعفر علی ہوچہ اور فیاض الحسن چوہان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایسے لیڈر بھی ہیں جو بات کریں تو لگتا ہے مجرہ کرتے ہیں ایسے لیڈر بھی ہیں جو تھی کو تھا کہتے ہیں۔فیاض الحسن چوہان کے متنازعہ ریمارکس پر اپوزیشن اراکین نے بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور کہاکہ ایوان میں گالیاں دی جارہی ہیں اوریہ مناسب نہیں کہ ایوان میں گالیاں نکالی جائیں۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب وہ بات کرتے ہاتھوں کا اشارہ کرتے تو ایسے لگتے مجرا کررہے ہیں،عمران خان تو 70 سال کے جوان ہیں لیکن ان کے لیڈر کے 28 سال کے ہونے کے باوجود جوان ہونے پر شک لگتا ہے۔اس دوران اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان گرما گرمی سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتارہا۔ اجلاس کے دوران لیگی رکن ملک وحید اور فیاض الحسن چوہان کے درمیان بھی تلخ کلامی ہوئی۔ تاہم بعد ازاں فیاض الحسن چوہان نے ایوان سے معافی مانگ لی جس پر سید حسن مرتضی نے کہا کہ میں بھی مراد سعید سے اپنے الفاظ پر معافی مانگ لیتا ہوں۔ پرائس کنٹرول بحث میں لیگی رکن خلیل طاہر سندھو اور پارلیمانی سیکرٹری ندیم قریشی نے بھی حصہ لیا۔اجلاس 25نومبر سوموارکی سہ پہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر