ریلوے کی زمین پر غیر قانونی قبضوں میں ملوث افسروں کیخلاف کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ

 ریلوے کی زمین پر غیر قانونی قبضوں میں ملوث افسروں کیخلاف کیس ایف آئی اے کو ...

  



اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ریلوے کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف کیا گیاہے کہ پاکستان ریلوے انتظامیہ اپنی زمینوں پرتجاوزات ہٹوانے میں تاحال ناکام ہے،ریلوئے کی 200 ایکڑ زمین پرملی بھگت سے ناجائز قبضہ کیا گیا،ریلوے میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے خصوصی سیل موجود نہیں ہے جبکہ کمیٹی نے تجاوزات اور ٖ ریلوے کی زمین پرغیر قانونی قبضوں میں ملوث افسران کے کیسز ایف آئی اے کو بھیجنے اور ریلوے میں انسداد تجاوزات سیل بنانے کی بھی ہدایت کردی۔ریلوے حکام نے انکشاف کیا کہ 200 ایکڑ ریلوے کی زمین پرقابضین قابض ہیں،کچی آبادیوں میں 46 فیصد اور کمرشل 47 فیصد زمین زیر قبضہ ہے، 269 ایکڑ زمین گزشتہ سال واگزار کروائی گئی۔رکن کمیٹی امجد علی خان نے کہا کہ کمرشل زمینوں پر قبضہ کیوں ختم نہیں کروایا گیا؟آئی جی ریلوئے پولیس واجد ضیاء نے بتایا کہ جن تجاوزات پر امن وامان کی صورتحال پیدا نہیں ہوتی وہاں ریلوے پولیس از خود تجاوزات ختم کرتی ہے،ریلوے میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے الگ سیل نہیں۔ آئی جی ریلویز نے کہا کہ نفری کم ہے،الگ سیل نہیں بنا سکتے،ریلوے پولیس میں 2 ہزار پوسٹیں خالی ہیں، ریلوے میں آسامیوں کو پر کرنے کیلئے منظوری دی جائے۔کنوینرکمیٹی رمیش لال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار ریلوے کمیٹی سے غلط بیانی کی جاتی ہے،2001 سے ریلوے نے تجاوزات خاتمے کے خاتمے کیلئے کیا کیا،ریلوے میں اندھیر نگری ہے، سب ملی بھگت سے ہورہا ہے، ڈی ایس سکھر نے کبھی شداد کوٹ کا وزٹ نہیں کیا، کیا ڈی ایس کو اے سی روم میں بیٹھنے کی تنخواہ ملتی ہے، ریلوے  پٹڑیوں پر گھر اور اراضی پر رائس ملز بن رہی ہیں، ریلوے غریب سے قبضہ لیتا ہے، بڑے مافیا کو ہاتھ نہیں ڈالتا۔ریلوے حکام نے بتایا کہ ہماری لیبر کدال اور بیلچے سے تجاوزات مٹاتی ہے،تجاوزات کیخلاف آپریشن میں مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے،عدالتی کیسز کی وجہ سے بھی آپریشن نہیں کرسکتے،ملتان میں 199 غیر قانونی کچی آبادیاں ہیں،غیر قانونی کچی آبادیوں میں سب سے زیادہ کمرشل سرگرمیاں ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ریلوے میں انسداد تجاوزات سیل بنانے کی ہدایت کردی۔رکن کمیٹی آفتاب جہانگیر نے تجویز دی کہ کچی آبادیوں کی جگہ کثیر المنزلہ عمارتیں بنا کر مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔جس پر ریلوے حکام نے کہا کہ رہائشی لیزنگ کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، سپریم کورٹ نے پانچ سال سے زیادہ کمرشل لیز سے بھی روک دیاہے،لوگوں کی دوبارہ آباد کاری صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے،ریلوے کو تجاوزات کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت کی مدد چاہیے ہوتی ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ تجاوزات میں ملوث افسران کے کیسز ایف آئی اے کو بھیجے جائیں۔

قائمہ کمیٹی ریلوے

مزید : صفحہ آخر