لاہور ہائیکورٹ،مال روڈ پر دھرنا دینے ولے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ملازمین کیخلاف کارروائی کا حکم

لاہور ہائیکورٹ،مال روڈ پر دھرنا دینے ولے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ملازمین ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے مال روڈ پر دھرنا دینے اوراحتجاج کرنے والے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا،مسٹر جسٹس جواد حسن نے مال روڈ پر دھرنے کے خلاف دائر درخواست پرمحکمہ داخلہ کو ریڈ زون ایکٹ کا مسودہ بھی عدالت میں پیش کرنے کاحکم دے دیا،عدالت نے پیمرا کواس احتجاج کی الیکٹرانک میڈیا پر کوریج روکنے کے لئے اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی۔فاضل جج نے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر کو طلب کرکے انہیں حکم دیا کہ احتجاجی ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرکے آئندہ تاریخ سماعت پررپورٹ پیش کی جائے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت25نومبر پر ملتوی کرتے ہوئے قراردیا کہ مال روڈ پر دھرنوں اوراحتجاج پر پابندی کے 2012 ء کے نوٹیفکیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا پولیس اورمحکمہ داخلہ کی ذمہ داری ہے۔فاضل جج نے مزید ریمارکس دیئے کہ یہ لوگ ناصر باغ اور عتیق سٹیڈیم میں احتجاج کیوں نہیں کرتے؟سرکاری ملازمین کااحتجاج متعلقہ محکمے کے سیکرٹری کی ناکامی کی وجہ سے ہوتا ہے، اس طرح کے حالات میں بیرونی ممالک سے کیسے سرمایہ کاری آئے گی؟موجودہ حکومت کا مال روڈ کوریڈ زون قراردینے کاقانون بنانے کا اقدام اچھا ہے، یہ حکومت قانون سازی کے حوالے سے اچھے کام کررہی ہے، 13 دن سے جاری اس احتجاج کی وجہ سے شہریوں کے نقل و حرکت کے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج نے ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان جو ایس پی ٹریفک حماد رضاکے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تھے سے مخاطب ہوکر کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگوں کو خدمات فراہم کرنے کی بجائے ملازمین دھرنا دئیے بیٹھے ہیں،آپ نے کیا کیا ہے ڈی آئی جی صاحب؟مال روڈلاہور کا ریڈ زون ہے،اسے کیوں بلاک کیا گیا ہے؟ڈی آئی جی نے کہامال روڈپر مظاہرین کی بات جلد سنی جاتی ہے اس لئے وہاں احتجاج کرتے ہیں، فاضل جج نے کہا کہ متعلقہ سیکرٹری کو ابھی حکم دیتا ہوں کہ مظاہرین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کریں،پیمرا والے کدھر ہیں،آپ کیوں کوریج کی اجازت دے رہے ہیں،پیمرا فوری طور پر الیکٹرانک میڈیا پران کی کوریج رکوائے،ریڈ زون میں لوگوں کے کاروبار اور کام متاثر ہورہے ہیں،اس موقع پرفاضل جج نے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر کوفوری نوٹس پر طلب کرتے ہوئے سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کردی،وقفہ کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج کے استفسار پر ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اضافہ کیلئے احتجاج کررہے ہیں، مظاہرین اراضی ریکارڈ سنٹرز میں کام کرتے ہیں، یہ سنٹرزسپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے، فاضل جج نے کہا ڈیوٹی پر نہ آنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی،اتھارٹی ان احتجاجی ملازمین کے کنٹریکٹ کی روشنی میں کارروائی کرے، فاضل جج نے کہا کہ پولیس نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ متعلقہ اتھارٹی مظاہرین سے مذاکرات کررہی ہے اور پولیس اتھارٹی کے فیصلے کے بعد مظاہرین کے خلاف کارروائی کرے گی، مال روڈ پر احتجاج پر پابندی کے 2012 ء کے نوٹیفکیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا پولیس اور محکمہ داخلہ کی ذمہ داری ہے۔عدالت نے رجسٹرارآفس کواسی نوعیت کی تمام درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 25نومبر پر ملتوی کردی۔عدالت نے متعلقہ حکام کو عدالتی ہدایات پرعمل درآمد کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔درخواست گزار جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ مال روڈ پر مظاہروں اور دھرنوں پر 2012ء سے پابندی ہے،آئین کے آرٹیکل 5کے تحت قانون پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین کے دھرنے سے لوگوں کی نقل وحرکت اور کاروبار کے حقوق متاثر ہورہے ہیں۔

لینڈ ریکارڈ اتھارٹی 

مزید : صفحہ آخر