پنڈی والوں کیساتھ حکومتی عشق،محبت کا رومانٹک دور گزر چکا:سراج الحق

پنڈی والوں کیساتھ حکومتی عشق،محبت کا رومانٹک دور گزر چکا:سراج الحق

  



لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے پنڈی والوں کیساتھ حکومت کے عشق ومحبت کا رومانٹک دور گزر چکا۔ اب مصنوعی مسکراہٹوں اور جذباتی تقاریر کی مارکیٹ نہیں رہی۔حکمرانوں کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ان کو لانے والوں کا امیج بھی متاثر ہوا ہے۔حکمران ٹرمپ سے رابطے کررہے ہیں مگر اب امریکہ بھی انہیں بچا نہیں سکے گا۔کشمیر سے بیوفائی کرنیوالوں کا انجام دنیا جانتی ہے۔اگر حکمرانوں نے خاموشی نہ توڑی اور کشمیرپر جلد کسی لائحہ عمل کا اعلان نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب موجودہ وزیر اعظم بھی کہتے پھریں گے ''مجھے کیوں نکالا ''حکمرانوں کی ناکامیاں بتا رہی ہیں ان کا مستقبل بھی اڈیالہ اور کوٹ لکھپت ہے۔دنیا کا واحد وزیر اعظم ہے جو ہر بیرونی دورے پر عالمی میڈیا کے سامنے کہتا ہے میری قوم کرپٹ ہے۔ملک پر خالی کھوپڑی والے حکمران مسلط ہیں۔ان حکمرانوں نے 15 ماہ میں ایک سو پندرہ یوٹرن لئے۔ملک پر عملاًآئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی حکمرانی ہے۔خزانے اور سٹیٹ بنک کی چابیاں آئی ایم ایف کے ملازموں کو دیدی گئی ہیں اور عوام کو مہنگائی اور بیروز گاری کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔ قوم اپنی بہادر افواج کی طرف دیکھ رہی ہے، ان کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ہے کشمیر کے حوالے سے ان کا کیا لائحہ عمل اور روڈ میپ ہے۔وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے۔ کشمیر پر بھارت اپنے قبضہ کومضبوط کررہا ہے اگر جلد کوئی فیصلہ نہ کیا گیاتو آنیوالی نسلوں کو پچھتانا پڑے گا۔اگر کشمیر کی تحریک آزادی ناکام ہوئی تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔حکومت کشمیرپر ہونیوالے لاہور،شملہ اور تاشقند معاہدوں کو فوری ختم کرنے کا اعلان کرے۔بھارت نے ان معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بلڈوز کرتے ہوئے کشمیرکو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں ڈیرہ غازی خان میں کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بارش و شدید سردی کے باوجود کشمیر مارچ میں ہزاروں لوگوں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا وزیر اعظم خود بھی کنفیوژن کاشکار ہیں اور قوم کو بھی پریشا ن کررکھا ہے۔ حکمرانوں کی خاموشی بتارہی ہے وہ کشمیر کا سودا کرچکے ہیں اور اب مسئلہ کشمیر کو دفنانا چاہتے ہیں۔اگر حکمرانوں نے قوم کو اعتماد میں لیکر جلد کوئی فیصلہ نہ کیا تو عوام ان حکمرانوں کو گریبانوں سے پکڑ کر ایوانوں سے باہر نکالے گی۔ اسلام آباد کے سنگ مرمر کے قبرستان میں بیٹھے حکمران اپنی ذات کے سحر میں مبتلا ہیں اور اقتدا رکو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔حکمران صبح و شام قوم کو بھارت کی قوت سے ڈرا رہے ہیں۔ان بزدلوں کو پتہ نہیں سوویت یونین بھارت سے کہیں زیادہ طاقتور تھامگر نہتے افغانوں نے اس کا غرور خاک میں ملایا اور آج وہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔افغانستان نیٹو کے تکبر کا بھی قبرستان بنا۔ بھارت کا تکبر بھی بہت جلد خاک میں ملنے والا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا۔حکمرانوں نے مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگا یالیکن اس کا مذاق اڑایااور قوم کو دھوکہ دیا،اگر حکمران کچھ کرنہیں سکتے تھے تو مدینہ جیسی اسلامی ریاست کو نام لیکر قوم کو دھوکہ دینے کی کیا ضرورت تھی۔

سراج الحق 

مزید : صفحہ آخر