حکومت آن لائن ادائیگیوں کا نظام چلانے ولای کمپنی”پے پال“ کو پاکستان لانے میں ناکام

  حکومت آن لائن ادائیگیوں کا نظام چلانے ولای کمپنی”پے پال“ کو پاکستان لانے ...

  



واشنگٹن(آئی این پی)پاکستانی حکومت کی طرف سے امریکہ جا کر آن لائن ادائیگیوں کا نظام چلانے والی بین الاقوامی کمپنی پے پال کو پاکستان آمد پر راضی کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اعلی حکومتی حکام نے میڈیا سے بات چیت کے دوران  بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک وفد کمپنی کے ذمہ داروں سے مذاکرات کرنے امریکہ گیا تھا تاکہ کمپنی کو قائل کیا جا سکے کہ وہ اپنی خدمات پاکستان میں فراہم کرے تاہم مذاکرات میں امریکی کمپنی نے حتمی طور پر وفد کو بتایا کہ اس کے تین سالہ روڈ میپ میں پاکستان کا ذکر نہیں ہے کیونکہ ملک میں کاروباری مواقع ناکافی ہیں۔پاکستانی وفد نے پے پال حکام کو سٹیٹ بینک اور دیگر اداروں کی طرف سے مالی معاملات کی شفافیت اور سکیورٹی سے متعلق کیے گئے اقدامات سے آگاہ کر کے انہیں پاکستان میں مکمل سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔پاکستان کے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سربراہ شباہت علی شاہ نے بتایا کہ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ پے پال پاکستان آئے اپنی سروسز کو یہاں رجسٹر کرائے تاکہ جو پاکستانی باہر سے اپنی آمدن حاصل کرتے ہیں انہیں رقوم منگوانے میں آسانی ہو تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ان کا کہنا تھا کہ پے پال ہر سال اپنے روڈ میپ کا جائزہ لیتی ہے اور مستقبل میں کبھی پاکستان آنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے مگر فی الحال ایسا نہیں ہو پایا۔فری لانسر اور ای کامرس سے وابستہ افراد کا طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ پے پال کو پاکستان لایا جائے۔نیشنل آئی ٹی بورڈ کے سربراہ نے بتایا کہ پے پال کے انکار کے بعد بھی حکومت مایوس نہیں ہے اور اس وقت حکام پاکستان میں انٹرنیشنل پے منٹ گیٹ وے کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں جو پے پال، ماسٹر کارڈ، علی پے اور ویزا کے ساتھ منسلک ہوگا۔شباہت علی شاہ پرامید ہیں کہ فروری تک گیٹ وے کا قیام عمل میں آجائے گا جس کے بعد بیرون ملک سے پے پال کے پاکستان آئے بغیر بھی پاکستان میں ادائیگیاں ممکن ہو سکیں گی۔ماہرین کے خیال میں پے پال اگر پاکستان آنے پر رضامند ہو جاتی تو اس سے ایک تجارتی اور کاروباری انقلاب آنے کے امکانات تھے کیونکہ ملک کے طول و عرض میں کاروباری شخصیات اور اجناس فروخت کرنے والے افراد براہ راست بین الاقوامی منڈی سے منسلک ہو جاتے اور زرمبادلہ بھی آنا شروع ہو جاتا۔

پے پال/ ناکام 

مزید : صفحہ اول