خیبرپختونخوا پولیس میں گریڈ 18اور 19کے افسروں کی کمی،قبائلی اضلاع میں ڈی پی اوز کی تعیناتی تاخیر کا شکار

خیبرپختونخوا پولیس میں گریڈ 18اور 19کے افسروں کی کمی،قبائلی اضلاع میں ڈی پی ...

  



لاہور (نعیم مصطفےٰ سے) خیبرپختونخوا پولیس میں پی ایس پی افسروں کی کمی کے باعث امن و امان کے قیام اور انتظامی امور کی انجام دہی میں خاصی مشکلات درپیش ہیں اور نئے انضمام شدہ قبائلی اضلاع میں ڈی پی اوز کی تعیناتی بھی تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، جس پر خیبر پولیس نے صوبائی حکومت کو اعلیٰ افسران کی کمی فوری طورپر پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔  آئی جی  پولیس کے پی کے ڈاکٹر محمد نعیم خان کی ہدایت پر ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر محمد کریم خان کی جانب سے صوبائی سیکرٹری داخلہ کو اس حوالے سے ایک مراسلہ نمبر CPO/E-1/1417 ارسال کیا گیا ہے جس میں تحریرکیا گیا ہے کہ طویل عرصے سے محکمہ پولیس میں گریڈ 18اور 19 کے افسران کی خاصی کمی کا سامنا ہے، جبکہ نئے قبائلی اضلاع صوبے میں شامل کئے جانے کے بعد اس کمی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور امن و امان یا انتظامی امور کی انجام دہی میں خاصی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں گریڈ 18کی منظور شدہ آسامیاں 56ہیں جبکہ ان عہدوں کے صرف 32افسران کام کر رہے ہیں، گریڈ 19کی 42منظور شدہ سیٹوں پر صرف 19افسران تعینات ہیں، یوں مجموعی طور پر 47افسروں کی کمی کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جس قدر جلدی ممکن ہو یہ کمی دور کی جائے کیونکہ ڈی پی اوز کی تعیناتی کیلئے بھی پی ایس پی افسران میسر نہیں۔ اس حوالے سے جب پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ قبل ازیں خیبرپختونخوا کے 23اضلاع تھے اب 32 ہو گئے ہیں، ہر ضلع میں ایک ایک ڈی پی او تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم پوسٹوں پر  11پی ایس پی افسران بھی لگائے جاتے ہیں، جن میں سی پی او، اسٹیبشلمنٹ، ایف آر بی، ایلیٹ، سی ٹی ڈی، تین پولیس ریکروٹس ٹریننگ سکولز،  سپیشلائزڈ سکول، پولیس ٹریننگ کالج، ٹریفک اور دیگر اہم پوسٹیں بھی شامل ہیں۔ آج کل ویسے بھی خیبرپولیس مختلف مافیاز کے خلاف سرگرم عمل ہے، لینڈ مافیا، ڈرگ مافیااور سود مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اس میں بھی پی ایس پی افسران کی کمی کامعاملہ درپیش ہے۔  ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ پی ایس پی افسران کی کمی کے باعث صوبائی پولیس کے سربراہ کو قابل اور فرض شناس افسروں کے انتخاب میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔  اس حوالے سے صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام کا موقف ہے کہ پی ایس پی افسران کی کمی وفاقی حکومت نے پوری کرنی ہے اور یہ افسران وفاق کی طرف سے ہی صوبے کو بھجوائے جاتے ہیں ہم اس حوالے سے کئی بار وفاقی وزارت داخلہ کو مطلع کر چکے ہیں، دوسری جانب انتظامی امور کے ماہر اعلیٰ افسروں نے رابطہ کرنے پر ”پاکستان“ کو بتایا کہ اس معاملے میں سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ پی ایس پی افسران کی اکثریت اسلام آباد اور پنجاب میں پوسٹنگز چھوڑنے یا کسی دوسرے صوبے میں جانے کو تیار ہی نہیں،  وہ اس حوالے سے مختلف بہانے بھی تراش لیتے ہیں، اس لئے باامر مجبوری مذکورہ دونوں مقامات کے سوا دیگر مقامات پر پی ایس پی افسران کی کمی محسوس کی جارہی ہے، اس حوالے سے جو سیٹ پالیسی  ہے اس کی بھی خلاف ورزی تواتر کے ساتھ ہو رہی ہے، ہم اس معاملے میں مجبور ہیں۔ جہاں تک خیبر پختونخوا پولیس کی شکایت یا مطالبہ ہے وہ سوفیصد درست ہے، نئے اضلاع کے بعد تو اس کمی کے احساس میں زیادہ اضافہ ہوا ہے جسے فوری طور پر دور کرنے کی ضرورت ہے۔

افسران کمی

مزید : صفحہ اول