کپتان نے قرضے لینے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے:اسفند یار ولی

کپتان نے قرضے لینے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے:اسفند یار ولی

  



چارسدہ(بیورورپورٹ)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ ملک کے مجموعی قرضوں سے متعلق حالیہ اعدادوشمار انتہائی خطرناک ہیں۔جتنا قرضہ پاکستان کے 71سالہ تاریخ میں لیا گیا، کپتان کی تیرہ مہینوں میں اس کا 35فیصد قرضہ لیا گیا ہے لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ کشکول توڑدیں گے،حقیقت تو یہ ہے کہ کپتان نے گذشتہ ادوار کے تمام ریکارڈز توڑدیے ہیں، ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک پر مجموعی قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے اور خدانخواستہ پانچ سال تک یہی حالت رہی تو ملک دیوالیہ ہوجائیگا۔ولی باغ چارسدہ سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ بیرونی قرضوں کے حجم میں گذشتہ تیرہ مہینوں کے دوران حالیہ اضافہ نہ صرف تشویشناک بلکہ ملکی بقا اور سالمیت کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔سٹیٹ بینک کے حالیہ اعدادوشمار کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں چلنے والے خبریں ظاہرکررہی ہے کہ کپتان معاشی طور پر مکمل ناکام ہوچکے ہیں، بہتر یہی ہوگا کہ وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرے۔اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ کشکول توڑنے والوں نے بیرونی امداد کیلئے چادر پھیلادی ہے،صرف 13مہینوں میں 71سالوں میں لیے گئے قرضوں کا 35فیصد قرضہ صرف کپتان اور اسکی ٹیم لے چکی ہے۔ رواں مالی سال قرضوں کا حجم 12سو ارب سے تجاوز کرگیا ہے پھر بھی جھوٹے وعدوں اور تسلیوں پر عوام کو ٹرخایا جارہا ہے۔اس سے اور خطرناک بات اور کیا ہوگی کہ رواں مالی سال کے پہلے تین مہینوں میں 1266ارب روپے قرضہ لیا گیا ہے۔ مافیا کا الزام لگانے والا کپتان خود جواب دے کہ اتنا قرضہ اب کن کی جیبوں میں جارہا ہے۔ اے این پی سربراہ نے کہا کہ پی پی و ن لیگ کے دور میں مجموعی قرضوں میں تقریباً23ہزارارب جبکہ نام نہاد صادق و امین کی ٹیم کی دوراقتدایعنی صرف 13مہینوں میں 10ہزار ارب کا اضافہ ہوچکا ہے۔جھوٹ بول کر اقتدار میں لایا جاننیوالا شخص صرف الزام تراشی ہی کرسکتا ہے، اپنی جھوٹ اور نااہلی کو چھپانے کیلئے کپتان آج بھی مخالفین پر صرف الزامات ہی لگارہا ہے لیکن ثابت کچھ نہ کرسکا۔اسفندیارولی خان نے کہا کہ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ مجھ سمیت جس جس پر کرپشن کا الزام لگایا گیا تھا،ایک پائی کرپشن ثابت کرے تو سزا کی بجائے سرعام پھانسی دی جائے۔ کرپشن کا الزام صرف اپوزیشن پر کیوں؟ احتساب کے نام پر بنائے گئے ادارے حکومتی اراکین کے خلاف کارروائی سے کیوں کترارہی ہے

مزید : صفحہ اول