تاریخ ساز آزادی مارچ نے حکومت کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں:متحدہ اپوزیشن

  تاریخ ساز آزادی مارچ نے حکومت کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں:متحدہ اپوزیشن

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ اپوزیشن کے صوبائی رہنماؤں نے کہا ہے کہ آر ٹی اے سسٹم کیسے اور کس نے فیل کروایا ہمیں بتایا جائے۔ہم فری اینڈ فئیر الیکشن چاہتے ہیں۔یہ کیسا نیب ہے جوایک صوبے کے کیسزز دوسرے صوبے میں چلارہا ہے۔ ایک کروڑ نوکری دینے کے بجائے لاکھوں لوگوں کو بے روز گار کردیا گیا،روز مرہ اشیا کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرہی ہیں مگر موجودہ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔سیاست کی شائستگی ختم ہوکرگالم گلوچ تک باقی رہ گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار جمعت علماء اسلام کے مولانا راشد سومرو، پاکستان پیپلز پارٹی کے وقار مہدی،عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید،پاکستان مسلم لیگ ن کے علی اکبر گجر، جے یوپی کے مفتی محمد غوث صابری،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے نذیر جان،جمعیت اہلحدیث کے مولانا محمد یوسف قصوری،نیشنل پارٹی کے محمد رمضان میمن، قومی وطن پارٹی کے عبدالقیوم ایڈووکیٹ ودیگر نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کل سندھ کی 9 سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں صوبائی سطح پر سندھ میں رہبرر کمیٹی تشکیل دی گئی۔9 سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس جے یو آئی کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو کی صدارت میں کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں نو اپوزیشن جماعتوں کے صوبائی قائدین نے شرکت کی۔ جس میں اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ دھاندلی کی بیساکھی پر قائم حکومت کی جڑیں تاریخ ساز آزادی مارچ نے ہلا کر رکھ دی ہیں اپوزیشن اتحاد نااہل حکومت کے خاتمے تک اس کا تعاقب جاری رکھے گی۔ کانفرنس میں آزادی مارچ پلان اے اور بی کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزادی مارچ پلان سی پر سندھ میں عمل درآمد کیا جائے گا اور 26 نومبر کو تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دوپہر 2 بجے کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے عوامی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا جائے گا۔ جس سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ 28 نومبر 2019 کو سکھر میں سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سکھر میں مشترکہ آزادی مارچ کانفرنس بیاد شہید اسلام منعقد کی جائے گی، جس سے اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی قائدین خطاب کریں گے۔اپوزیشن رہنماں نے اس موقع پر باہمی مشاورت سے سندھ رہبر کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ مولانا راشد محمود سومرو رہبر کمیٹی سندھ کے کنوینئر ہوں گے۔تمام اپوزیشن جماعتوں کے صوبائی صدور و جنرل سیکرٹریز رہبر کمیٹی سندھ کے ممبرز ہوں گے۔مولانا راشد سومرو نے کہا 25 جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات سے بننے والی حکومت جعلی ہے۔30 سالوں میں اتنا قرضہ نہیں لیا گیا جتنا کہ موجودہ حکومت نے 14ماہ میں لیا۔جب تک اس حکومت کو چلتا نہ کردے 9 سیاسی جماعتوں کا یہ جدو جہد جاری رکھا جائے گا۔عوام کے منڈییٹ کو چرا گیا ہے،ہم اسلام آباد دوبارہ بھی جاسکتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء وقار مہدی نے کہا کہ ایک کروڑ نوکری دینے کے بجائے لاکھوں لوگوں کو بے روز گار کردیا گیا،روز مرہ اشیا کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرہی ہیں مگر موجودہ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ 26 نومبر کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنماء علی اکبر گجر نے کہا70 سالہ تاریخ میں اتنے خراب صورت حال نہیں آئے جو اس وقت ہے۔موجودہ حکومت ہر معاملے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے،موجودہ حکومت سے اس قوم کو بچانا ہوگا۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید نے کہا کہ آر ٹی اے سسٹم کیسے اور کس نے فیل کروایا ہمیں بتایا جائے۔ہم فری اینڈ فئیر الیکشن چاہتے ہیں۔سیاست کی شائستگی ختم ہوکرگالم گلوچ تک باقی رہ گئی۔یہ کیسی نیب ہے جوایک صوبے کے کیسزز دوسرے صوبے میں چلارہی ہیں۔ہم متحدہ اپوزیشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔اگر اس ملک کی ترقی اور وقار ہمیں عزیز ہے تو اس حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنا ہوگا۔

مزید : صفحہ اول