وزیر اعلیٰ کی محنت سے سندھ میں بجلی کے 12منصوبے منظور ہو گئے ہیں:امتیاز شیخ

وزیر اعلیٰ کی محنت سے سندھ میں بجلی کے 12منصوبے منظور ہو گئے ہیں:امتیاز شیخ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ ہوا سے بجلی کے 12منصوبے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی دلچسپی اور محنت کے باعث منظور ہوگئے ہیں جلد ان سے بھی بجلی حاصل کریں گے، انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے صدر نے مداخلت کی تو وفاقی حکومت نے ونڈ پاور منصوبوں کی منظوری دی لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کو سستی بجلی کی تیاری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔وہ جمعہ کو سندھ اسمبلی میں محکمہ توانائی سے متعلق وفقہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ سستی بجلی صرف ہوا سے حاصل کی جاسکتی ہے اسلام آباد کے بابو سستی بجلی خریدنا نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے حوالے سے وفاق نہ تو صوبے کو اعتماد میں لیتا ہے نہ اس میں ہمیں شامل کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سولر کا پروگرام تیار اور آخری مرحلے میں ہے سستی بجلی چاہیئے تو صوبے کے اپوزیشن لیڈر بھی سندھ حکومت کی مدد کریں۔سندھ میں شگرملز کی جانب سے بجلی پیدا کی پیداوار سے متعلق جی ڈی اے کے عارف جتوئی کے ایک سوال کے جواب میں امتیاز شیخ نے بتایا کہ 9 شگرملز بجلی پیدا کرتے ہیں یہ بجلی وہ خود استعمال کرتے ہیں اور ن اضافی بجلی نیپرا کو نیشنل گرڈ میں دی جاتی ہے۔عارف جتوئی نے کہا کہ اگر یہ معاملہ نیپرا دیکھتا ہے تو سندھ حکومت نے جواب کیوں دیا؟ وزیر توانائی نے کہا کہ آپ کو معلومات نہیں اس لئے آپ کو معلومات دی جارہی ہے۔ جی ڈی اے کے رکن رزاق راہموں نے دریافت کیا کہ مرزا  شوگر مل سمیت چار شگرملز بند کیوں ہیں؟ جس پر امتیاز شیخ نے کہا کہ ان شگرملز کا تعلق وفاق سے ہے ہمارے پاس نہیں،مگر آبادگاروں کے بقایاجات سمیت لوگوں کی رقوم کے مسائل پر احتجاج چل رہا تھا تاہم اس جواب یا تو مالکان اور یا پھر وفاق دے سکتا ہے۔ عارف جتوئی نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس ٹی ڈی سی سندھ حکومت کی کمپنی ہے۔100 ایم ڈبلیو گیس ٹربائن پاور پلانٹ اسی ٹی ڈی سی کے ذریعے بجلی فراہم کررہا ہے۔امتیاز شیخ نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا مجھے نہیں پتا نہ ہی یہ آسمانی صحیفہ ہے۔بجلی بنتی ہے تو ہوامیں منتقل نہیں ہوجاتی جو لائن بچھائی ہے کے ای اس کی خریدار ہے اور اس کام کے لئے لائن بچھانا پڑتی ہے۔عارف جتوئی نے الزام لگایا کہ آپ نے تو بجلی منصوبہ بھی بغیر پی سی ون بنایاہے۔جس کے جواب میں امتیاز شیخ نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ منصوبہ بغیر پلان بنایا جائے حکومت کاہر منصوبہ پلان کے تحت بنایا جاتا ہے۔عارف مصطفی جتوئی نے کہا کہ پرائیویٹ کمپنی کا نام کیا ہے۔ امتیاز شیخ نے کہا کہ سندھ ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی گورنمنٹ اونڈ کمپنی اور نوری آباد پاور پلانٹ کمپنی پبلک پرائیویٹ پاور کمپنی ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی بھرپور مخالفت کے باوجود صوبائی حکومت کو گرڈ بنانے کا لائسنس ملا ہے،ہم عوام کو مبارکباد دیتے ہیں صوبے کے عوام کے لئے جلد گرڈ کام شروع کردے گی بزنس پلان بھی دیں گے۔ امتیاز شیخ نے کہا کہ صوبے کا محکمہ بجلی آگے ہے لوگوں کو سستی بجلی بھی ہم دیں گے۔قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کیا بات ہے جو کام صحیح ہوتو وہ سندھ حکومت کرتی ہے خراب ہو تو وفاق کرتا ہے یہ  تضاد بیانی کیوں ہے؟  اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کے ای سے آپ کا کیا رشتہ ہے۔امتیاز شیخ نے کہا کہ اس حکومت سے اب اتحادی بھی تنگ ہیں وہ بھی  اب انکے  خلاف بولنے لگے ہیں اور اس حکومت کی تو کوئی پالیسی نہیں۔ امتیاز شیخ نے کہا کہ ٹماٹر دیکھو مہنگا، بجلی دیکھو 70 پیسے بڑھ گئی ہر طرح سے وہ ناکام ہورہے ہیں۔وزیر توانائی نے کہا کہکے ای سے ہماری وہی رشتہ داری  ہے جو ایک صارف اور فروخت کرنے والے کی ہوسکتی ہے،کراچی میں صرف ایک ہی کمپنی ہے تو ہم اسے بجلی دیتے ہیں۔یوٹیلٹی اداروں کے ساتھ خریدار اور بیچنے والے کا ہی رشتہ ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ سندھ کے آف گرڈ ایریاز کے دس اضلاع میں دو لاکھ گھروں کو شمسی توانائی پر منتقل کررہے ہیں اور اس ضمن میں عالمی بینک تعاون کررہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مانجھند میں 50میگاواٹ کا سولر پارک بنایاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت آئین کے تحت وفاق سے رجوع کرتی ہے۔

مزید : صفحہ اول