پنجاب کی بگڑتی صورتحال ، وزیراعلیٰ کی چند گھنٹوں کی مصروفیات، صوبائی بیوروکریسی کی ’خوشی‘ کی وجہ کیا ہے؟ سینئر صحافی نے سب بتادیا

پنجاب کی بگڑتی صورتحال ، وزیراعلیٰ کی چند گھنٹوں کی مصروفیات، صوبائی ...
پنجاب کی بگڑتی صورتحال ، وزیراعلیٰ کی چند گھنٹوں کی مصروفیات، صوبائی بیوروکریسی کی ’خوشی‘ کی وجہ کیا ہے؟ سینئر صحافی نے سب بتادیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب کی بگڑتی صورتحال ، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی دفتر آمد اور اس کے بعد ان کی مصروفیات اور صوبائی بیوروکریسی کی ’خوشی‘ کے حوالے سے سینئر صحافی محمد مالک نے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں اور بتایا ہے کہ پنجاب میں پس پردہ ہوکیا رہا ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد مالک نے کہا وزیراعلیٰ عثمان گیارہ بجے دفتر آتے ہیں ڈھائی بجے تک دفتر میں رہتے ہیں ایک دو میٹنگز کرتے ہیں۔پھر اس کے بعد چار ساڑھے چار بعد گورنر ہاوس میں واک اور سوئمنگ کرتے ہیں۔جو تھوڑا بہت دن رہ جاتا ہے وہ گزارتے ہیں۔ڈی جی خان سے متعلق میٹنگز میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔باقی کوئی نہیں۔تیس ایسے وزرا ہیں جن سے ان کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔آفیسرز کی لسٹ کے مطابق مرکزی پانچ سے چھ وزارتوں میں پندرہ ماہ میں پانچ سے چھ بار سیکرٹریز بدل چکے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔

مالک کے مطابق اس ساری صورتحال پر بیوروکریسی بہت خوش ہے۔ آف دی ریکارڈ کہاجاتا ہے کہ وہ وہ پرسکون انداز سے دن گزارتے ہیں کیونکہ کوئی پوچھ گچھ نہیںہے۔نہ ہی کوئی ڈانٹتا ہے اور اگر کوئی کام کرنا بھی پڑے تو نیب کا رونا رودیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کو تبدیل کرنے کیلئے ایک سمری بھی تیار کی گئی جس میں تین لوگوں کا نام لیا گیا۔ان تین لوگوں میں سلیم راجہ ، کیپٹن سجاد اعجاز احمد خان جعفراور حبیب گیلانی کا نام لیا جا رہا تھا لیکن سمری کے اوپر وفاق سے کافی ردعمل آیا جس کی وجہ سے سمری روک دی گئی ہے۔

اسی بات میں اضادفہ کرتے ہوئے عامر متین نے کہا یہ سب صرف سیکرٹریز لیول پر ہی نہیںہو رہا بلکہ پولیس اور دیگر شعبوں میں بھی ایسی صورتحال ہے۔

مزید : قومی