امریکی الزامات مسترد لیکن دراصل سی پیک سے کتنے پاکستانیوں کو روزگار ملا؟ خبرآگئی

امریکی الزامات مسترد لیکن دراصل سی پیک سے کتنے پاکستانیوں کو روزگار ملا؟ ...
امریکی الزامات مسترد لیکن دراصل سی پیک سے کتنے پاکستانیوں کو روزگار ملا؟ خبرآگئی

  



کراچی، اسلام آباد (ویب ڈیسک) چین نے امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کے سی پیک سے متعلق الزامات اور اعتراضات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جنگ نے کہا کہ سی پیک سے 75ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملا ، چین پاکستان سے مغربی ممالک اور آئی ایم ایف کی طرح قرض ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرے گا، پاکستان مشکل میں ہوا تو مقررہ وقت میں قرض ادائیگی کا تقاضہ نہیں کریں گے ، امریکا مخلص ہے تو آگے آئے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرے ،پاکستان بشمول سی پیک میں امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے، سی پیک میں کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، امریکا بدعنوانی کا ثبوت دے، بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک مشترکہ فائدے کا منصوبہ ہے، 170 ممالک اس کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سی پیک سے دونوں دوست ممالک کو یکساں فائدہ ہوگا اور اس میں دونوں کی جیت ہے ، چین نے پاکستان کی ضرورت پڑنے پر ہر موقع پر مدد کی ہے ، سی پیک کے بارے میں کرپشن کی بات کرنا آسان ہے جب آپ کے پاس درست معلومات نہ ہوں، ثبوت فراہم کریں، 2030ءتک مزید 23لاکھ پاکستانیوں کو سی پیک کے پراجیکٹس سے روزگار ملے گا،پاکستان کی سالانہ معاشی ترقی میں 2سے 2.5فیصد گروتھ آئے گی۔چینی سفیر نے امریکی نائب وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور کہا کہ آئیں خود آکر سی پیک سے متعلق حقائق جانیں، انہوں نے قرضوں کی واپسی کے حوالے سے امریکی اعتراض پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان مشکل میں ہوا تو وہ اس سے مقررہ وقت میں قرض کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرے گا،ان کا اشارہ آئی ایم ایف کی طرف تھا جس کا قرض کی واپسی کا ایک سخت نظام ہے۔

ایلس ویلز کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کیلئے اعلان کردہ امداد کیوں سیاسی بنیادوں پر معطل کی ؟ امریکا کی جانب سے پاکستان کو سی پیک کے برعکس امریکی ماڈل کی پیشکش کے جواب میں چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہے گا، چینی سفیر یاﺅ جنگ نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اور چین کی اولین ترجیح ہے، حقیقت پر مبنی معلومات سے منفی پروپیگنڈے کا ازالہ کرنا ہے، سی پیک کا اگلا مرحلہ صنعتی تعاون کو فروغ دے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی زونز کے قیام، تعلیم اور زراعت سمیت دیگر شعبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، سی پیک پر امریکی الزام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ثبوت کے ساتھ بات کرےاور الزامات لگاتے ہوئے احتیاط سے کام لے۔

ان خیالات کا اظہار چینی سفیر نے اسلام آباد میں سی پیک میڈیا فورم کے پانچویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کیا ،سی پیک میڈیافورم کا اہتمام چین کے سفارتخانے اور پاکستان چائنا انسٹیٹوٹ نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس موقع پر یاﺅجنگ نے کہا کہ امریکا کی جنوبی اور وسط ایشیا سے متعلق نائب وزیرخارجہ مس ایلس ویلز نے کہا کہ چین نے پاکستان کو مد د نہیں قرضہ دیا ہےان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ چین اور پاکستان کے تعلقات سے بے خبر ہیں، چین اور پاکستان ہرطرح کے حالات میں اسٹریٹجک شراکت دار ہیں جوہر مشکل وقت میں اکھٹے کھڑے رہے۔

چینی سفیر نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کا واشنگٹن میں دیا گیا بیان میرے لیے حیران کن تھا ، چینی سفیر نے کہا کہ نیب کے اعلی ٰ حکام سے میری خود ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ انہیں سی پیک منصوبوں میں کسی طرح کی کوئی کرپشن کا ثبوت نہیں ملا، انہوں نے کہا کہ سی پیک پر تنقید بلاجواز ہے ، امریکا الزام تراشی کے بجائے اگر مخلص ہے تو آگے آئے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرے ہم پاکستان بشمول سی پیک میں امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے ، سی پیک میں امریکا سمیت دنیا کے تمام ممالک کےلیے سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔چینی سفیر نے کہا کہ ہم کبھی بھی پاکستان سے قرضہ واپس کرنےکا نہیں کہیں گے جس طر ح امریکا اور دیگر مغر بی ممالک کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ذریعے 13کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی جبکہ امریکا اس کے مقابلے میں بی یو آئی ایل ڈی پلان لے کر آیا ہے جو صرف 60ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پلان ہے، چینی سفیر نے کہا کہ جب پاکستان 2015میں بجلی کی شدید بحران سے دوچار تھا تو امریکا اس وقت کیوں آگے نہیں آیا ، یہ صرف چین ہے جو اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا رہا اور لوڈشیڈنگ سے نکالا اور پاکستان کے عوام کو ریلیف ملا۔

چین کے سفیر یاﺅ جنگ نے کہا کہ امریکا کی اپنے دوست ممالک کو امداد مشروط ہوتی ہے لیکن چین اس طرح کی شراکت داری میں کسی طرح کا کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنے پر یقین نہیں رکھتا ، یاﺅ جنگ نے کہا کہ چین کے قرضے سے متعلق الزام بے بنیاد ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مجموعی قرضوں میں چینی ترقیاتی قرضوں کا حجم بہت ہی معمولی ہےا ور پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کا بڑا حصہ آئی ایم ایف اور دیگر مغر بی اداروں اور ممالک سے ہے۔ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے سے متعلق امریکی نائب وزیر خارجہ کے بیان پر انہوں نے کہا کہ ابھی ایم ایل ون منصوبہ فائل نہیں ہوا اس پر بات چیت جاری ہے پھر اس کی لاگت پر کس طرح سے سوال اٹھایا جاسکتا ہے، اس کی لاگت کتنی ہوگی اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ابھی اس منصوبے کے تکنیکی پہلوﺅں پر غور ہورہا ہے جس کے بعد مالی ضروریات پر غور کیا جائے گا۔چینی سفیر نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کے بجلی کی زیادہ قیمتوں کے بیان پر کہاکہ پاکستان نےتوانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے 2014میں اپ فرنٹ ٹیرف پالیسی کا فیصلہ کیا تھا اس وقت امریکا توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے کیوں نہیں آیا، یہ پالیسی تمام مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلیے اوپن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نیپرا کا ادارہ 131پاور پلانٹس کے ٹیرف کا تعین کرتا ہے، اور سی پیک کے تحت تعمیر ہونیوالے دو پاور پلانٹس اس حوالے سے آخری نمبروں پر ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ چین نے پاکستان کے عوام کو سستی اور صاف بجلی فراہم کی ہے۔

مزید : قومی