ایلس ویلز کا سی پیک سے متعلق تجزیہ درست نہیں،ہم ایڈ کے دائرے سے نکلنا چاہتے ہیں: اسد عمر

ایلس ویلز کا سی پیک سے متعلق تجزیہ درست نہیں،ہم ایڈ کے دائرے سے نکلنا چاہتے ...
ایلس ویلز کا سی پیک سے متعلق تجزیہ درست نہیں،ہم ایڈ کے دائرے سے نکلنا چاہتے ہیں: اسد عمر

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر  کا کہنا ہے کہ چین سے نئی ٹیکنالوجی آنے کا مقصد دنیا سے تعلقات ختم کرنا نہیں ہیں، پاکستان کی ترقی رکنے کا تجزیہ حقیقت کے برعکس ہے، ایکس ویلز کے خدشات درست نہیں ،ہم ایڈ کے دائرے سے نکلنا چاہتے ہیں، پاکستان پر قرضہ 74 ارب ڈالر ہے، سی پیک میں 9 صنعتی زون  بنارہے ہیں، منصوبوں میں تھرڈ پارٹی پروجیکٹ پر چین نے بھی ویلکم کیا ہے ۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر  نے کہا کہ امریکی خارجہ سیکریٹری ایکس ویلز نے خدشات کا اظہار کیا ہے، ہم اس حوالے سے سی پیک منصوبے پر پاکستان کا موقف واضح کرنا چاہتے ہیں،اُن کی یہ بات درست ہے کہ  یہ انوسٹمنٹ ہے ایڈ نہیں،اِس حکومت کا واضع موقف ہےکہ  ہم ایڈ کےدائرے سے نکلنا چاہتے ہیں، ایکس ویلز کی جانب سے صرف چین کو فائدہ ملنے کی منطق بھی درست نہیں، منصوبے  سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوا ہے،سی پیک پاکستان میں بڑے منصوبوں میں فنانس کا ذریعہ بنا،اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی معیشت پر قرض کا اثر ہےتاہم قرض کے نیچے ڈوبنے کا امریکی الزام غلط ہے،مجموعی طور ماضی میں غلطیاں ہوئیں  ہیں جس کی وجہ سے قرضہ بڑھا ۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان پر قرضہ 74 ارب ڈالر ہے مگر چین سے صرف 14 ارب ڈالر کا ڈیپتھ ہے،اِس پبلک ریٹ میں سی پیک کا صرف 9۔4 ملین ڈالر ہے،سی پیک کا ریشو صرف سات فیصد ہے، ہماری فارن فنڈنگ کھل چکی ہے اس سے چین کے کمرشل ملٹی لیٹرل میں کمی اور تین سال میں کم ہوجائے گی،ہم اگر قرض لیں گے تو دو دیگر اداروں اور چین کو تین میں سے ایک ڈالر ادا کیا جائے گا۔

اسدعمر کا کہنا تھا کہ مہنگے قرضے کا الزام درست نہیں،پاکستان کا چین سے پبلک ڈیپٹھ 20 سال اور شرح سود 4۔2 اوسط بنتی ہے،کچھ چیزیں برانڈ کے طور بھی ہیں تو باقی شرح دو فیصد رہ جاتی ہے،پاکستان کی ترقی رکنے کا تجزیہ حقیقت کے برعکس ہے،چین ہمارا دیرینہ اور آئرن برادر دوست ہے،ہم نے سی پیک کو اور آگے لیکر جانا ہے،چین سے نئی ٹیکنالوجی آنے کا مقصد دنیا سے تعلق ختم کرنا نہیں ہے ، امریکہ ،یورپ ، مڈل ایسٹ سمیت دنیا بھر سے سرمایہ کاری آئے ،اِن کو ویلکم کیا جائے گا،ہم اب تک دنیا کی جنگوں میں شامل رہے اب اس طرف دوبارہ نہیں جائیں گے،ہمیں ماضی کے فیصلوں پر کوئی ندامت نہیں،نہ ہی اس میں جھول آئے گا،سی پیک کے منصوبوں میں تھرڈ پارٹی پروجیکٹ پر چین نے بھی ویلکم کیا تھا اور اس حوالے سے چینی سفیر نے بھی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا ہے،وَن روڈ وَن بیلٹ سے فائدہ تب ہوگا جب خطے میں امن ہوگا،ہم چاہتے ہیں افغانستان سمیت خطے میں امن ہو،اِس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک کے خلاف ملک کے اندر اور باہر مہم چلائی گئیں،امریکہ اور چین کے مابین بھی کچھ معاملات رہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر  کا کہنا تھا کہ سی پیک ہماری ترجیحات میں نہیں تھا یہ الزام غلط ہے،بیلٹ روڈ پر چین نے شنگھائی میں کانفرنس کی جس میں 4 گلوبل لیڈر ہائی لائیٹ ہوئے،اِن لیڈرز میں عمران خان بھی شامل تھے،چین نے ہماری ہر طرح سے مدد کی ، چین سے تعلقات میں کوئی کمزوری نہیں آئی،سی پیک میں جو بڑے بڑے منصوبے تھے ان سے نکل کر سوشل سیکٹر اور صنعت سازی میں جارہے ہیں،اس کام میں دیر ضرور ہوئی مگر اب تیزی نظر آئے گی،سی پیک میں انرجی کے دو پلانٹ کراچی اور حب میں لگے ہیں،کراچی میں گرین لائن منصوبے کو رویو کیا ہے اب اسے جلد مکمل کیا جائے گا ،آنے والے ہفتے میں پانی کے منصوبے ترجیح میں ہوں گے ، کے فور اور سیلینیشن پر کام کا آغاز ہوگا۔ایک اور سوال کے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو پاور پلانٹ لگ رہے ہیں،اِن میں 98 فیصد مین پاور پاکستان کی ہے،پاکستان میں کم قیمت ٹرانسپورٹ کا انفراسٹرکچر نہیں اس کے مقابلے میں امریکہ میں یہ موجود ہے،امریکہ میں بہترین ٹرین کا نظام میسر ہے مگر ہمارے پاس نہیں،ہمارے یہاں نظام کو اَپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے ،پاکستان کی سڑکوں کے انفرادی سٹریکچر  پر بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمیں عالمی تناعزوں میں دھکیلنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے،آئی ایم ایف جانے سے قبل ہر طرف سی پیک سی پیک ہوتا تھا،تاہم اس میں کوئی سازش نہیں تھی ،یہ عمران خان کی کامیابی ہے کہ وہ پاکستان کی فارن پالیسی کو بیلنس کرکے چلے ہیں،امریکہ، سعودی اور ایران سمیت سب کے ساتھ تعلقات رکھے ،ایلس ویل کے جو خدشات ہیں اِن کو ختم کرنا ہوگا،سی پیک کا کریڈٹ ہمارا نہیں سب کا ہے،یہ اسی طرح ہے جیسے نیو کلئیر پروگرام بھٹو، ضیاء  اور پھر نواز شریف حکومت نے مکمل کیااور بعد کی حکومتوں نے اس حوالے سے پریشر برداشت کیا،آصف زرداری کا چین کے ساتھ بڑا انٹرسٹ تھا، اسے کھل کر ایکنالج کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے نواز شریف پر غلط رپورٹ کا بیان نہیں دیا،لوگ ڈرا رہے تھے کہ چھ گھنٹے میں فیصلہ نہ کیا تو کچھ بھی ہوسکتا ہے،عمران خان سیدھا بولتے ہیں وہ پروٹوکول کا خیال نہیں کرتے ،جو دل میں آتا ہےبول دیتے ہیں،وزیراعظم چور اورڈاکوؤں کی باتیں درست کرتے تھے، پاکستان میں مہنگائی کس کی وجہ سے ہے؟ وہ اُن کے حوالے سے کہتے تھے جن کے سبب مہنگائی ہوئی ہے،نواز شریف کا فیصلہ لیگل ہے این آر او نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ میں مریم ہوں نہ نواز شریف جو وزارت سے ہٹائے جانے پر کہوں کہ مجھے کیوں نکالا ۔ان کا کہنا تھا کہ سرکلر ریلوے کے حوالے سے سندھ کی صوبائی حکومت جو خطوط آج لکھ رہی ہے وہ آج کے بجائے زرداری دور میں لکھتی ،جب صوبے سمیت مرکز میں بھی ان کی حکومت تھی ،سی پیک میں 9 صنعتی زون چاروں صوبوں میں بنیں گے

مزید : قومی /اہم خبریں