کانگریس نےمودی حکومت پر آئین کی دھجیاں اڑانے کا الزام لگا دیا

کانگریس نےمودی حکومت پر آئین کی دھجیاں اڑانے کا الزام لگا دیا
کانگریس نےمودی حکومت پر آئین کی دھجیاں اڑانے کا الزام لگا دیا

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت پر مہاراشٹر  میں  انتخابات کے بعد  آئین کی دھجیاں اڑانے کا الزام لگایا ہے۔

دہلی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں، سینئر کانگریسی رہنما احمد پٹیل، کسی سی وینو گوپال اور ملک ارجن کھڑگے نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرح مہاراشٹر میں حکومت بنائی ہے ، اس سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اعتماد کی تحریک میں این سی پی اور شیوسینا کے ساتھ مل کے حکومت کو شکست دیں گے۔یاد رہے کہ ان تینوں کانگریسی رہنماں کو کانگریس صدر سونیا گاندھی نے مہاراشٹر میں حکومت سازی کے لئے شیوسینا اور این سی پی کے ساتھ اتحاد کی ذمہ داریاں سونپی تھیں ۔کانگریس پارٹی نے ریاست مہاراشٹر میں صدر راج ہٹائے جانے کے طریقے پر بھی اعتراض کیا ہے جس پر بی جے پی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے خصوصی اختیارات سے کام لیتے ہوئے،کابینہ کی میٹنگ کے بغیر ہی ریاست میں صدر راج ختم کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔

یاد رہے کہ ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر میں ڈرامائی انداز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دیویندر فڑنویس نے وزیر اعلی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے اجیت پوار نے نائب وزیر اعلی کا حلف اٹھالیا۔مہاراشٹر میں ڈرامائی انداز میں، این سی پی رہنما اجیت پوار کی حمایت سے بی جے پی نے حکومت ایسے عالم میں تشکیل دی ہے کہ کانگریس،شیوسینااوراین سی پی کےدرمیان مخلوط حکومت کے لئے کمترین مشترکہ پروگرام پر اتفاق ہوگیا تھا اور جمعے کو اعلان کیا گیا تھا کہ شوسینا کے لیڈر ادھو ٹھاکرے گورنر کے سامنے مخلوط حکومت بنانے کا دعوی پیش کردیں گے ۔ راتوں رات آنے والی تبدیلی کو کانگریس پارٹی، شیوسینا اور این سی پی کی قیادت نے دھوکے اور فریب کی سیاست سے تعبیر کیا ہے۔شیو سینا نے کہا ہے کہ اجیت پوار نے بی جے پی سے ہاتھ ملاکے شیوسینا اور کانگریس پارٹی کے ساتھ ہی خود این سی پی سربراہ شرد پوار اور مہاراشٹر کے عوام سے بھی دھوکہ کیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی