لاہورپولیس کی کارکردگی میں بہتری کے آثار

لاہورپولیس کی کارکردگی میں بہتری کے آثار
لاہورپولیس کی کارکردگی میں بہتری کے آثار

  

پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی، یہ جملہ پولیس تھانوں سے لے کر اعلی پولیس افسران کے کمروں کی زینت بنا ہوا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کتنا ہوتا ہے، اس بارے میں عوامی رائے مختلف ہے۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں پولیس کی کارکردگی میں اس طرح بہتری آئی ہے کہ لاہور میں تعینات موجودہ افسران بالخصوص آپریشنل پولیس نے کام کر نا شروع کر دیا ہے سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر خود تو بڑے محنتی اور ہر وقت میڈیا میں نظر آنے والے پولیس آفیسر تھے ان کے پاس جو بھی سائل جاتا وہ بات بھی بڑی توجہ سے سنتے تھے اور پوری کوشش بھی کرتے کہ سائل کی داد رسی ہو سکے،،مگرایسا نہ ہو سکا، ماتحت ایس پیز غلام محمود ڈوگر کی جانب سے جانے والی فون کا لز اور سائل کو”سیریس“ نہیں لیتے تھے،سائل کو ایس پی صاحبان کے ریڈر اور پی ایس او تک محدود رکھا جاتا،ایس پی صاحبان کا یہ عملہ ایس ڈی پی او کے دفاتر کو تو ویسے ہی کسی خاطر میں نہ لاتے اور یوں سائلین کو اکثر اوقات جن تھانیداروں کے خلاف شکایات ہوتیں وہ درخواست دوبارہ انہی کے پاس پہنچ جاتی تھیں،ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی کے جانے کے بعد لاہور پولیس کا آپریشنل سسٹم شہریوں کو ریلیف دینے میں ناکام نظر آیا،آئی جی پولیس کے اس حکم کو بھی یکسر نظر انداز کردیا گیا جو کہ انھوں نے فری رجسٹریشن کا دے رکھا تھا،اس طرح لاہور پولیس کے خلاف شکایات بڑھتی رہیں،کھلی کچہریاں بھی فوٹو سیشن ثابت ہوئیں،ایس پی صاحبان من مانیاں کرتے نظر آئے،موجودہ افسران نے جب چارج لیا،ڈی آئی جی آپریشنز احسن یونس کو وہ مقدمات بھی درج کروانے پڑے جو کئی کئی مہینوں سے درج نہیں کیے گئے تھے زیادہ تر مقدمات جو درج نہ تھے وہ موٹر سائیکل چوری  سمیت ایمرجنسی پولیس کی وہ کالیں تھیں جو واقعات تصدیق ہونے کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی تھی،لاہور پولیس نے یوں ڈی آئی جی احسن یونس کی ہدایت پر 3800سے زائد مقدمات کا اندراج ایک دن میں کیا جو کہ کئی کئی ماہ پہلے سے درخواستیں تھانوں میں پڑی ہو ئی تھیں،سابق افسران ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے شہر کسی افراتفری کا شکار ہے ہر وقت میٹنگ میٹنگ کا کھیل کھیلا جاتا،آئے روز سڑکوں پرفلیگ مارچ نظر آتے،روزانہ تھانوں کے چکر لگائے جاتے توجہ طلب بات یہ ہے کہ پھر ان افسران کو وہ درخواستیں نظر کیوں نہ آئیں جن پر اب مقدمات درج کیے جارہے ہیں،کیا وہ سارے کا سارا دکھاوے کا کھیل تھا، اس وقت افسران بے چین اور ماتحت سکون میں دکھائی دیتے تھے ایک ڈی ایس پی عہدے کے افسر نے مجھے بتایا کہ سابق سی سی پی لاہور نے میٹنگ کی جس میں شہر بھر کے ایس پی،ایس ڈی پی او اور ایس ایچ اوز سمیت انوسٹی گیشن کا عملہ بھی موجود تھا سی سی پی او نے کہا کہ غور سے سنواور کام کرو جو کام نہیں کرے گا اسے میں ”بددعا“ دونگا  اب ہم نے دیکھا ہے کہ لاہور پولیس کے افسران میں اطمینان اور ماتحتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے،،ڈی آئی جی آپریشنز احسن یونس سے معلوم کیا کہ آپ نے 16ایس ایچ اوز کو ایک ہی حکم سے معطل کر دیا ہے کیا وجہ ہوئی تو وہ کہنے لگے چارج لیتے ہی پہلی میٹنگ کے دوران سبھی کو ہدایت کی تھی کہ ایک ہفتہ بعد دوبارہ کرائم میٹنگ ہو گی اپنی اپنی کارکردگی ساتھ لے کر آنا ناقص کاکردگی والوں کو معاف نہیں کرونگا،یقین کیجئے  ان کے ایک ہی آرڈر سے لاہور پولیس میں بہتری آگئی ہے ہم ڈی آئی جی احسن یونس کو گزشتہ 19سال سے جانتے ہیں جب یہ اے ایس پی اور ایس پی تھے اس وقت بھی ان کے کام کرنے کا یہ ہی سٹائل تھا اور لاہور میں یہ ایک کامیاب آفیسر کے طور پر پہچانے جاتے تھے  درحقیقت سی سی پی او لاہور کی کامیابی ڈی آئی جی آپریشنز سے منصوب ہے، ماضی میں بھی سی سی پی او آفس نے اگر ڈی آئی جی صاحبان کے اختیارات اپنے ہاتھ لینے کی کوشش کی ہے تووہ آفیسر ناکام ہوئے ہیں سابق سی سی پی او ”بی اے ناصر“ ایک ایسے باکمال آفیسر تھے انھوں نے اپنے دونوں ڈی آئی جی صاحبان کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کر رکھے تھے موجودہ حکمرانوں کے دور میں سب سے زیادہ مطمن بھی وہ ہی نظر آئے اور کامیاب عرصہ بھی انہی کا رہا ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہسابق پولیس افسران کی ناکامی سے پولیس کا مورال بھی ڈاؤن ہوا ہے تاہم روٹیشن پالیسی کے پیش نظر جہاں بہت سارے آفیسرز کو پنجاب سے ریلیوکیا جائے گا وہاں ڈی آئی جی احسن یونس کے  جانے کا بھی قوی امکان ہے وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پولیس کو چاہیے کہ اگر وہ لاہور میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ان کا تبادلہ کینسل کروایا جائے ویسے بھی سندھ حکومت نے وفاق کو ایک خط لکھا ہے کہ رولز 1954کے مطابق صوبوں کی مشاورت کے بغیر وفاق افسروں کو تبدیل نہیں کر سکتا، اور انھوں نے روٹیشن پالیسی فیزٹو کے آفیسرز کو ریلیو کرنے سے انکار کردیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -