سعودی عرب میں 10 روز میں 12 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد

سعودی عرب میں 10 روز میں 12 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد
سعودی عرب میں 10 روز میں 12 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد
سورس: Representational Image

  

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب میں گزشتہ 10 دنوں میں منشیات سے متعلق جرائم میں مبینہ طور پر 12 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ کا تلوار سے سر قلم کیا گیا تھا۔ ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا کہ جن 12 افراد کو  منشیات کے الزام میں قید کرنے کے بعد موت کی سزا سنائی گئی ان میں تین پاکستانی، چار شامی، دو اردنی اور تین سعودی شامل تھے۔

اس سال مارچ میں سعودی عرب نے  مختلف جرائم کے مرتکب 81 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا تھا۔ یہ مملکت کی جدید تاریخ میں سب سے بڑی تعداد تھی۔ حالیہ دنوں میں پھانسیوں کی نئی لہر سعودی عرب کی جانب سے اس قسم کی سزاؤں کو کم کرنے کے تقریباً دو سال بعد سامنے آئی ہے۔  سنہ 2018 میں بھی سعودی انتظامیہ نے سزائے موت کو کم کرنے کی کوشش کی اور صرف قتل یا قتل کے مرتکب افراد کو سزائے موت دی گئی۔

مزید :

عرب دنیا -