ہائے !!! وہ اصفہانی لڑکی جو نصف نہیں ’ساراجہاں ‘تھی ۔۔۔

ہائے !!! وہ اصفہانی لڑکی جو نصف نہیں ’ساراجہاں ‘تھی ۔۔۔
ہائے !!! وہ اصفہانی لڑکی جو نصف نہیں ’ساراجہاں ‘تھی ۔۔۔

  

گلوبل پِنڈ(محمدنواز طاہر)خوبصورت علاقوں اور شہروں کے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی وہاں کی’ حقیقت ‘کے عکاس ہوتے ہیں جیسے باغوں اور ’ زندہ دلان‘ کا شہر لاہور ۔ ۔۔دنیا میں ایک ایسا شہر بھی ہے جو آدھی دنیا کہلاتا ہے یعنی’اصفہان ، نصف جہاں ‘ایران کا یہ خوبصورت شہرسولہویں صدی تک دارالخلافہ اور کسی زمانے میں دنیا کا سب سے بڑا شہر کہلاتا تھا لیکن اب یہ تیسرا بڑا شہر ہے ۔ بچپن میں الفاظ کو جملوں میں استعمال کرنے کی مشق کے دوران پرائمری سکول کے ٹیچر محمد نواز بُٹرمرحوم ہر مشق اور ٹیسٹ میں اس شہر کانام ضرور لیتے یہ جملہ آج تک نہیں بھولا،’ایران کا شہر اصفہان قابلِ دید ہے۔‘اصفہان کے لوگ بھی یقینا اتنے ہی خوبصورت ہونگے جیسے لاہوریئے ’زندہ دل‘۔۔۔اصفہان تو نہیں دیکھا لیکن اس شہر کی ایک لڑکی آج تک دل و دماغ میں بسی ہے ۔جو پوری دنیا میں انفرادی اعزاز کی حامل ہے ۔میں اس لڑکی کو ”پا“ نہیں سکالیکن اسے جہدِحیات میں کسی حد تک مشعلِ راہ ضرور بناسکا ہوں ۔جی ہاں اصفہان یونیورسٹی سے انسانی رویوں کے علوم میں گریجویشن کرنے والی اس لڑکی کے عربی نام کا قرآن میں استعمال ہونے والے لفظ کااردوترجمہ’ کامیابی‘ ہے ۔اس سے بڑی کامیابی کیا ہوگی کہ وہ شوہر کے ساتھ ساتھ دوبیٹوں اور ایک بیٹی کی قربانیوں پر تین شہداءکی ماں کا اعزاز پا گئی جو شاید پوری دنیا میں کسی کوحاصل نہیں ہو اہو گا۔پاکستان میں کم از کم یہ منفرد مقام صرف اور صرف نصرت بھٹو کو ہی حاصل رہا ہو گا جو آج سے ٹھیک ایک سال قبل اپنی پیدائش کے دن یعنی23اکتوبر کو رضائے الٰہی پر لبیک کہہ گئیں ۔نصرت بھٹو کا اصفہان میں پیدائش ، تعلیم اور کراچی کی خوشحال زندگی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ شادی اور خاتونِ اول بننے تک کا سفر تو بہت رنگین ، تصوراتی اور قابلِ رشک و حسد ہوسکتا ہے لیکن چند سالوں پر محیط خاتونِ اول سے لیکر ’صدیوں لمبا‘ مادرِ جمہوریت کا سفر بہت کٹھن ، صبر آزما اور دل دہلادینے والا اور تاریک ہونے کے باوجود جہدِ حیات میں بہت درخشاں ہے۔  دنیا میں مسکراہٹ کی پیچان رکھنے والی جب اونچی اونچی دیواروں میں قید ہوجائے، ملنے والوں کوخود حوصلہ دے ، راستہ بتائے تو یقینا وقت نے ایک عہد کو قید کیا کسی انسان کو نہیں۔ اسی قید کے دوران ہی سہالہ جیل میں کینسر کا حملہ برداشت کیا ،تحریکیں چلانے والوں کو ’الذوالفقار ‘ کی سرگرمیوں کا عملی نمونہ قذافی سٹیڈیم میں سر پر پنجاب پولیس کے ڈنڈے کھا کر پیش کیا اور بتایا کہ ’تحریکی ‘کس طرح پر امن احتجاج کرتے ہیں۔ماں کا صبر کیا ہوتا ہے اس کا اظہار بڑے بیٹے کی زہر سے ہلاکت اور دوسرے بیٹے کی گولی سے موت کے بعد بھی جمہوریت کو بہترین بدلہ قراردینے کی تعلیم سے کیا۔ ماں کیلئے اولاد کیا ہوتی ہے یہ اُس وقت کا منظر بیان کرتا ہے جب محترمہ بینظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کا حلف اٹھا رہی تھیں اور بعد میں ایک ماں اپنی بیٹی کی سرکاری طور پر نائب بنی جبکہ اس سے پہلے وہ انہیں یہ اختیارات پارٹی کی قیادت سونپ کر بھی تفویض کرچکی تھیں ۔ اقتدار کی جوکرسی باپ سے بیٹے اور بیٹوں سے باپ قتل کرادیتی ہے وہی کرسی نصرت بھٹو کی عظمت کو سلام پیش کرتی نظرآئی ۔دوسرے بیٹے کی شہادت پر جب داماد پر انگشت نمائی ہوئی تو وہ دکھ بیٹے کی شہادت سے بھی کاری تھا۔ اس کی تکلیف، اذیت اور نوعیت کینسر پر بھی بھاری تھی۔ اس دکھ نے بیگم کا جلال ایک بار پھر کچھ ملال اور استقلال میں بدلا۔انہوں نے پاکستانی خواتین کو اپنے حقوق اور قومی کردارو مقام پہچاننے کیلئے جو تحریک دی وہ سبق خود دہرایا اور پھر سے انگڑائی لی مگر وقت نے ساتھ نہیں دیا اور دو کینسر اکٹھے مل کر انہیں مفتوح بنا گئے۔ آخری وقت میں 70کلفٹن اور المرتضیٰ سے نکلتے ہوئے شائد بیگم نصرت بھٹو کی تمنا اور دعا کینسر سے نجات ہی کی تھی جو انہیں ابھی نجات دینے کو تیار نہیں تھے اورلاڈلی بیٹی کی شہادت کی خبر بھی مل گئی ۔۔۔ گو اس خبر کو انہوں نے حواس میں نہیں سنا لیکن وینٹی لیٹر اگر سانس بحال رکھتا ہے تو دماغ تک پیغام رسانی بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری تو رکھتا ہی ہوگا۔ آخر گزشتہ سال آج کے دن انہیں کینسر نے’ حیات سے نجات ‘دلادی اور وہ ہر ظلم کا حساب مانگتی اپنا حساب دینے کیلئے مالکِ حقیقی کے ’ہرکارے‘ کے ساتھ ہو لیں ۔۔۔ لیکن جن سے اُن کا حساب بنتا ہے انہیںعدالتی ہرکارے پیپلز پارٹی کے انداز میں ضیاءاور باقیات وغیرہ جبکہ اپوزیشن کے انداز سے ’ما بعد باقیات ‘ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ حاضر ہوں۔۔۔ کی آوازجانے کب دیں گے ۔۔۔کچھ معلوم نہیں ۔ ۔۔عوام بھی ان آوازوں پر دھیان کب دینگے یہ بھی پتہ نہیں ۔۔۔لیکن میرا دھیان آج بھی اسی اصفہانی لڑکی پر ہے جس نے عمل سے بتایا کہ اصفہان تو نصف جہاں ہے ہی لیکن کیا وہ نصف جہاں تھیں یا کہ ’سارا جہاں ۔ ۔ ۔ ‘

مزید : بلاگ