کراچی بدامنی کیس میں صوبائی حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمینان ، آئی جی سندھ چارروز تک بغیر سکواڈ کراچی کا دورہ کریں : سپریم کورٹ

کراچی بدامنی کیس میں صوبائی حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمینان ، آئی جی سندھ ...
کراچی بدامنی کیس میں صوبائی حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمینان ، آئی جی سندھ چارروز تک بغیر سکواڈ کراچی کا دورہ کریں : سپریم کورٹ

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے شہرقائد میں امن وامان سے متعلق صوبائی حکومت کی رپورٹ مستر دکرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہاکہ بحالت مجبوری دوبارہ کیس کی سماعت کررہے ہیں ، اگر رپورٹ جامع ہوتی تو شاید دوبارہ سماعت کی ضرورت نہ پڑتی اور دوسری طرف حاکم وقت کہتاہے کہ عدالت ملزمان کو چھوڑ دیتی ہے لیکن اگر جرم ہی قابل ضمانت ہے تو عدالت کیاکرسکتی ہے؟عدالت نے چار روز تک آئی جی سندھ کو بغیر سکواڈ شہر کا دورہ کرنے کی ہدایت کردی تاکہ اُنہیں حقائق معلوم ہوسکیں ۔جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کراچی رجسٹری میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کررہاہے ۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتح نے حکومت سندھ کی طرف سے رپورٹ پیش کردی ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے بحالت مجبوری دوبارہ سماعت کررہے ہیں ، اگر رپورٹ جامع ہوتی تو دوبارہ سماعت کی ضرورت نہ ہوتی ، شہر میں قتل وغارت بڑھ گئی ہے ۔جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ آئی جی بغیر سکواڈ کے گاڑی لے کر نکلیں اور شہر کا چکرلگائیں تاکہ اُنہیں حالات کا علم ہو،پولیس افسران کو سکواڈ کی ضرورت نہیں ، اگر آئی جی کو ڈر لگتاہے تو اُنہیں عہدے پر رہنے کاکوئی حق نہیں ۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایاکہ رواں شہرقائد میں 1900افراد مارے جاچکے ہیں اور ملک بھر سے جرائم پیشہ افراد کراچی کا رخ کرتے ہیں جس پر عدالت نے کہاکہ جرائم پیشہ افراد کے سیلاب کو روکناحکومت کی ذمہ داری ہے ۔

جسٹس عثمانی نے کہاکہ بلاول ہاﺅس کے باہر سڑک پر 50فٹ بلنددیوار کھڑی کردی گئی ، اور کتنی سیکیورٹی چاہیے ؟ عدالت کو بتایاگیاکہ چیف سیکرٹری اسلام آباد ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ اُنہیں یہاں ہوناچاہیے تھا، حکومت میں کتنی ایجنسیاں امن قائم کرنے کیلے کام کررہی ہیں ، ایجنسیاں اورآئی جی کھلی کچہریاں لگانے کے علاوہ کیاکام کرتے ہیں ؟عدالت نے استفسار کیاکہ کس قانون کے تحت بغیر رجسٹریشن اور دبئی کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں یہاں چل رہی ہیں ، لائسنس شدہ اسلحہ سے متعلق قانون سازی کیوں نہیں کی گئی ؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ قانون سازی کیلئے کوشش جاری ہے ، کچھ دوستوں کو اعتراض ہے ، عدالت کے پاس وسائل کی کمی نہیں ،جس پر عدالت نے کہاکہ 13ماہ گزرنے کے باوجود عدالت کی فائنڈنگز پر عمل درآمد نہیں کیاجاسکا۔

جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ جس گھر کا کمانے والاچلاجائے ، اُس کے دکھ کا سوچیں ۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہاکہ سب کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں ، عدالتی احکامات پر عمل کریں ، حکومت جب چاہتی ہے تو آدھے گھنٹے میں قانون بنالیتی ہے ۔ عبدالفتح نے کہاکہ چند لوگوں کا اعتراض ہے کہ یہ قانون پورے ملک میں کیوں نہیں نافذ کیاجاتاجس پر عدالت نے کہاکہ ہر جگہ ھالات ایک جیسے نہیں ہوتے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے عدالت کوبتایاکہ رواں سال 90پولیس افسر مارے گئے جس پر عدالت کاکہناتھاکہ کوئی بڑا افسر نہیں ماراگیا، اے ایس آئی اور انسپکٹر لیول کے لوگ مررہے ہیں ،80فیصد پولیس افسران نان پروفیشنل ہیں ۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ کون افسر گورنر اور کون وزیریاایم این اے کاآدمی ہے ، سب جانتے ہیں جبکہ حاکم وقت نے الزام لگایاکہ عدالتیں ملزمان کو چھوڑ دیتی ہیں ۔

مزید : کراچی