نوحہ خوانی نہیں ،عملی جدوجہد کاآغاز کیجئے!

نوحہ خوانی نہیں ،عملی جدوجہد کاآغاز کیجئے!
نوحہ خوانی نہیں ،عملی جدوجہد کاآغاز کیجئے!

  

قوموں کی زندگی ماضی کے قبرستان پرصبح و شام نوحہ خوانی سے نہیں سنورتی، بلکہ حال کو ماضی سے بہتر بنانے کی عملی جدوجہد اور مستقبل کی مضبوط منصوبہ بندی اور غوروفکر سے فتح مندی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہے۔ماضی کے شہنشاہوں کی عیاشیوں اور فکری بے حسی پر مرثیہ گوئی سے پہلے چند لمحوں،جی ہاں صرف چند لمحوں کے لئے اپنے آپ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیجئے ،اپنے آج کا جائزہ لیجئے اور خود سے سوال کیجئے کہ فکر فردا کی معمولی سی حرارت بھی ہمارے رگ و پے میں موجود ہے یا سب لاشیں ہیں، کسی ہسپتال کے سردخانے میں پڑی بے حس و حرکت ۔ اقبالؒ نے مختلف پس منظر میں کہا تھا ،لیکن موجودہ نسل کی بڑی خوبصورت تصویر کشی ہوتی ہے:تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوخود احتسابی ،جناب خود احتسابی.... سچ کے سورج کے سامنے کھڑے ہو کر ہی جھوٹ کے کہر سے نجات ممکن ہوتی ہے۔صبح و شام ماضی کا ماتم کرنے کا فائدہ؟....آٹھ سو سال پہلے کے شہنشاہوں کی فکری بے حسی کا رونا اپنی نااہلی کا اعتراف ہے۔اپنی ناکامیوں اور جہالت کو دوسروں کے سرتھوپنے کی فضول مشق لاحاصل ۔کم عقلوں کے ہاتھ میں چراغ آجائے تو وہ اس سے روشنی حاصل کرنے کی بجائے اپنا ہی آشیانہ جلا کر خود کو راکھ کر ڈالتے ہیں۔ٹی وی چینلوں پر بھی شایدایسے ہی پرلے درجے کے کج فہم بیٹھ گئے ہیں،جو ماتم گری کو ہی دانشمندی تصور کئے ہوئے ہیں۔پہلے اپنا جائزہ لیجئے، صرف اپنا۔آپ کوکس نے منع کیا ہے کہ آکسفورڈ اور کیمبرج کے معیار کی درسگاہیں نہ بنائیں، مگر اپنی نااہلی کو ماضی کے قبرستان پر ماتم کرکے چھپانے والے نوٹنکی بازوں سے کیا گلہ، کیونکہ تماشہ گروں کو جو کام آتا ہے،وہ تو وہی کریں گے۔تماشہ گری ان کا فن ہے اور تماشہ خانوں میں جینا مقدر۔ تماشہ خانوں میں شعوری و فکری دانش کے دریچے نہیں کھلتے۔ دانشوروں کو تو کم از کم قوم کو الٹا منہ کرکے ماضی میں وقت برباد کرنے کی بجائے حال و مستقبل کی طرف چلنے کا راستہ دکھانا چاہیے اور انہیں یہ درس دینا چاہیے کہ زندگی ماضی کے گورستان میں بسر نہیں کی جاتی ، بلکہ حال و مستقبل کے میدانوں میں عملی جدوجہدسے کامیابیاں سمیٹتی ہے۔صبح کا سورج رات کے آغاز میں نہیں ، بلکہ سحرکے پھیلنے میں تلاش کیا جاتا ہے۔چلئے ایک لمحہ کے لئے یہ بودی بات مان لیتے ہیں کہ ”جب ہمارے ہاں گوالیار کا قلعہ،ہرن مینار،تاج محل، بارہ دریاں، یادگاریں اور مقبرے تعمیر ہورہے تھے،اس وقت مغرب آکسفورڈ، ہارورڈ، کیمبرج اور میونخ ایسی عظیم درسگاہوں کی بنیادیں رکھ رہا تھا۔ ایک طرف اپنی صدیوں پرانی عظمت کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا جارہا تھا تو دوسری طرف عظمت کو پانے کے سفر کا آغاز کیا جارہا تھا،مگر ہر لمحہ صدیوں پرانی تاریخ پر رونے دھونے ، سر پیٹ پیٹ کر اپنے آج کو برباد کرنے اور مستقبل کو تاریک کرنے کی حماقت کیوں؟سقوط بغداد اور قسطنطنیہ کی بربادی سے پہلے کیا مغرب علم و دانش کا راہبر تھا؟کیا وہاں کے عقل ِکل کنگ ،کنگ ہنری اورکنگ ایڈورڈ کے نوحے کررہے تھے یا درسگاہوں کا قیام عمل میں لا کر ترقی کے سفر کا آغاز .... ہمارے آج کے سقراط کیوں آکسفورڈ اور ہارورڈ سے اعلیٰ درسگاہیں تعمیر نہیں کررہے۔کیا انہیں ماضی کے شہنشاہوں نے روک رکھا ہے یا ان کی نااہلی و نالائقی نے ،جو اپنی حماقتوں کا ذمہ دار صدیوں پہلے گزرے بادشاہوں کو گرادنتے ہیں۔اپنا احتساب کیجئے ۔ماضی کو کھنگالنے اور ماتم داری سے پہلے اپنا جائزہ لیجئے۔انسان اپنی کامیابیوں کو دلیل بنا کر ہی اپنا دفاع کرسکتا ہے،دوسروں کی ناکامیوں کو ڈھال بنا کر ہرگز نہیں ۔ہمیں ماضی کے شہنشاہوں کی بے حسی نے زوال کا شکار نہیں کیا، بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار کے روگ نے زوال کی گہری کھائی میں دفن کردیا ہے۔الٹا منہ کرکے سفر کرنے والے پیچھے کو تو جاسکتے ہیں، آگے قطعاً نہیں بڑھ سکتے۔آج کے افلاطونوں کا سارا زور ماضی کے سفر پر ہے۔مستقبل کا ان کے پاس کوئی لائحہ عمل ہے، نہ عملی جدوجہد کی کوئی مثال۔آہ و بکااور ماتم کے سوا یہ کچھ نہیں کررہے ۔ماضی کے شہنشاہوں سے آزردہ اکیسویں صدی کے فلسفی کیا اپنا جائزہ لینے کی زحمت گوارہ کرسکتے ہیں؟.... اگر ایک لمحے کے لئے کرلیں تو ان پر واضح ہو جائے گا کہ ہمارے آبا کے خصائص اور ان کی بے حسی، بے عملی، نالائقی اور سستی و کاہلی میں ذرا برابر فرق نہیں ۔آگے بڑھنے کی کوئی حکمت عملی ہے، نہ جدوجہد ۔بس صبح و شام ماضی کا ماتم، کوا ساری عمر کائیں کائیں کرکے شور مچاتا رہتا ہے، مگر سلیقے سے جینے کا ہنر نہیں جان پاتا،کیونکہ وہ اپنی عقل کو ہمیشہ منفی کاموں پر لگا کر برباد کردیتا ہے۔آج مغرب آئی فون، آئی پیڈ، ٹیبلٹ، خود کار روبوٹ، مصنوعی آنکھ،چاند کے بعد مریخ پر قدم رکھنے کی تیاریاں، سیٹلائٹ جنگ، کلوننگ، جینز کی دریافت، بگ بینگ، ہارپ ٹیکنالوجی اور وٹامنز وکیلوریز سے بھرپور سبزیوں اور پھلوں کو تیار کرنے....(ایک سیب کھا کر سارا دن گزارا جا سکے گا).... سائنسی علوم پر تحقیق کو وسعت دینے، کائنات کو تسخیر کرنے، زمین تو ماضی کا قصہ بن چکی ۔دوسرے سیاروں پر زندگی تلاش کرنے کی دن رات جستجو کررہا ہے،جبکہ خود کو علم کا وارث کہنے والے شیخی باز ہر وقت اکبر اعظم، جہانگیر، اورنگ زیب عالمگیر اور شاہجہان کی تعمیرات کا رونا رونے کے سوا کیا کررہے ہیں۔آج بھی یہ اپنی ساری توانائیاں اگر دودھ میں ملاوٹ کرنے کے نت نئے طریقوں کی ایجاد، گوشت میں پانی انجیکٹ کرنے کے فارمولے، مرچوں میں لکڑی کا برادہ اور اینٹیں پیس کر ملانے میں مہارت، جعلی دوائیاں تیار کرنے کے کارخانے، جبکہ اشرافیہ کرپشن چھپانے، کالے دھن کو سفید کرنے، قومی وسائل کی بندربانٹ کرنے، عوامی فلاحی منصوبوں سے اپنا کمیشن کھانے میں مصروف ہے۔تعلیم کے لئے وہی دو فیصد بجٹ، مستقبل کے معمار دانش سکولوں کی ڈرامہ بازی دیکھتے ہوئے قبرستان میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ،پسماندہ علاقوں کے سرکاری سکول وڈیروںکے جانوروں کے باڑے بنے ہوئے ہیں اور تعلیم کا شوق رکھنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ہم اپنا جائزہ لینے کی بجائے ماضی کی سیاہ رات میں چھپ کر اپنا داغدار چہرہ چھپانے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ماضی پر دن رات تنقید کرنے والے سطحی قسم کے دانشوروں کی سوچ انتہائی قابل رحم ہے۔وہ لوگ انتہائی خطرناک دانشور ہوتے ہیں،جن میں تخلیقی صلاحیت نہ ہو اور وہ تنقید نگاری کرنے لگ پڑیں.... ہمارا پالا بھی ایسے ہی افلاطونوں سے پڑا ہوا ہے،جو عملی جدوجہد سے خالی ہیں۔آج صورت حال ماضی سے بھی بدتر ہے۔آج بھی مغرب کا مقابلہ کرنے کی کوئی سوچ نظرنہیں آتی۔ سب سے قابل رحم وہ قوم ہوتی ہے جو اپنی پستی کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرا کر عملی جدوجہد چھوڑ دے....صبح و شام ماضی کا ماتم کرنے کی بجائے آگے بڑھئے۔قوموں کی زندگی ماضی کے قبرستان پر صبح و شام نوحہ خوانی سے نہیں سنورتی، بلکہ حال کو ماضی سے بہتر بنانے کی عملی جدوجہد اور مستقبل کی مضبوط منصوبہ بندی سے فتح مندی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہے۔حضرت اقبالؒ نے کہا تھا:کوئی قابل ہو تو ہم شان ”کئی“ دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

مزید : کالم