” چھیاسی کروڑ ،چوالیس لاکھ روپے کا نقصان “

” چھیاسی کروڑ ،چوالیس لاکھ روپے کا نقصان “
 ” چھیاسی کروڑ ،چوالیس لاکھ روپے کا نقصان “

  

میں نے رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ نون لاہور کے سابق صدر میاں مرغوب احمد سے کہا کہ جب ہم اپنا پورا گھر توڑ کے نیا بناتے ہیں تو جتنی دیر کنسٹرکشن کا کام جاری رہتا ہے اتنی دیر گھر والے کسی رشتے دار کے گھر منتقل ہو جاتے ہیں، اب آپ نے بس ریپڈ ٹرانزٹ کے فیروز پور روڈ، لٹن روڈ، لوئرمال اور راوی روڈ پرجاری کام کے ساتھ ساتھ سکیم موڑ سے چوبرجی تک ملتان روڈ فیز ٹو کا تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا ہے، یہ کام الیکشن سے پہلے پہلے مکمل کیا جاناہے تو آپ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ لاہوریوں کو انتخابات تک قصور، مریدکے، شیخوپورہ اور رائے ونڈ منتقل کر دیں، جتنی توڑ پھوڑ کر نی ہے کر لیں اورجب یہ سب پراجیکٹ مکمل ہوجائیں تو آپ ہم لاہوریوں کو ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ واپس بلا لیجئے گا۔ میاں مرغوب احمد مسکرائے اور بولے آپ تو مذاق کر رہے ہیں، ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ میاں مرغوب احمد یہ بات کہہ سکتے تھے کیونکہ ان کی حکومت نے چار ، ساڑھے چار سالوں میں بہ مشکل ٹھوکر نیاز بیگ سے سکیم موڑ تک ملتان روڈ کے فیز ون کی تعمیر کا کام مکمل کیا ہے اور اب اکتیس جنوری تک صرف ساڑھے چار ماہ کے عرصے میںفیز ٹو مکمل کر کے ہتھیلی پر سرسوں جماناچاہ رہے ہیں۔ میں نے دوستوں کے سامنے بہت ہی سادہ سی بات رکھی کہ پہلے کینال اور مال روڈ پر فیروز پور روڈ سمیت دیگر سڑکوں کے بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا بہت زیادہ لوڈ ہے، ایسے میں اگر ملتان روڈ بھی بند کر دی جائے تو لاہورئیے سکولوں، کالجوں اور دفاتر کے اوقات میںدس منٹ کا سفر کم وبیش ایک ڈیڑھ گھنٹے میں طے کریں گے۔ لاہور کے ایک اور رکن قومی اسمبلی سے میری فون پر بات ہوئی تو اس نے کہا کہ ہماری صوبائی حکومت جس طرح بس ریپڈ منصوبے پر کام کر رہی ہے، کیا خیال ہے کہ ہم لاہور میں اپنا انتخابی نشان ” شیر“ کی بجائے ” بس“ نہ رکھ لیں، میں نے کہا کہ کل کی آسانی کا تو مجھے علم نہیں مگر آج کی مشکل کی وجہ سے لوگوں کی زندگی جتنی اجیرن ہوچکی ہے اگر آپ نے اپنا انتخابی نشان بس رکھ لیا تو وہ لاہوری جوابھی تک آپ کی امیدوں کے مطابق آپ کو ہی ووٹ دیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ نکل جائیں۔ مذکورہ بااثر رکن اسمبلی نے بتایا کہ وہ بھی اس منصوبے کے حق میں نہیں ۔مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب میں نے ملتان روڈ کی باقاعدہ تعمیر شروع ہونے سے پہلے کچھ دوستوں سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ میں تعمیراتی کاموں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنوں، پہلے ہی خدا خدا کر کے ملتان روڈ بننے لگی ہے اور میں اس پر اعتراض کر رہا ہوں۔ میں نے جواب میں کہا کہ میں ملتان روڈ بننے پر نہیں، اس کے بنانے کے وقت پر اعتراض کر رہا ہوں۔ پہلے ساڑھے چار سال آپ کو ملتان روڈ کے اس اہم ترین حصے کی تعمیر کا خیال نہیں آیا اور اس وقت جب میٹرو بس ٹرانزٹ کی وجہ سے لاہور کی مصروف ترین سٹرکیں بند ہیں تو آپ نے ایک اور جگہ تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے، میرے اعتراض کی نفی کرنے والے اب خود ملتان روڈ کی ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں کہ بہاولپور روڈ جیسی چھوٹی سڑک اوراس کے ساتھ ساتھ سمن آباد، سوڈھی وال اور گلشن راوی کی تنگ سڑکیں اور گلیاں ٹریفک کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ دوسرا ستم یہ ہے کہ منصوبہ شروع کرتے ہوئے وہاں سے پوری طرح تجاوزات کا خاتمہ بھی ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ اسی جلدبازی میں یتیم خانہ چوک کی توسیع کے لئے جو جگہ حاصل کی جا رہی ہے اس کے مکین علیحدہ شور مچا رہے اورچودھری پرویز الٰہی کے پاس جا کے مدد مانگ رہے ہیں۔ ان کا شکوہ ہے کہ رکن پنجاب اسمبلی مہر اشتیاق احمد نے یتیم خانہ بازار کے اندر اپنی تین مرلے کی دکان اڑھائی کروڑ روپے کی بیچی ہے اور ان کو عین ملتان روڈ کے اوپر جائیداد کے سوا چھ لاکھ روپیہ مرلہ ادا کیاجا رہا ہے۔ وہ برہم ہیں کہ یتیم خانے کی وہ تاریخی مسجد بھی مسمار ہو گئی ہے جس میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے شرکاءعظیم رہنماو¿ں نے نما زبھی ادا کی تھی تاہم مساجد او رامام بارگاہوں بارے تو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ ان کی متبادل تعمیر ہو گی۔ یتیم خانہ چوک اور سمن آباد موڑ پر جو فلائی اوور اور انڈر پاس کے منصوبے بنائے جا رہے تھے وہ بھی ختم کر دئیے گئے ہیں مگر اس کے باوجود ملتان روڈ پر کم و بیش اکسٹھ کنال اراضی ایکوائر کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔چلیں ، یہ مشکلات تو اپنی جگہ پر اور اکتیس جنوری کا دن بھی روتے دھوتے آ ہی جائے گا جیسے مسلم ٹاو¿ن موڑ پر پہلے شہری قذافی سٹیڈیم سے شروع ہو کے شاہ جمال تک تعمیر ہونے والے فلائی اوور کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرتے رہے، جیسے ہی وہ مکمل ہوا تو یاد آگیا کہ اس کے بیچ میں میٹرو بس ٹرانزٹ کا آٹھ کلو میٹر طویل پل بھی بننا ہے، اب وہاں سے ٹریفک میں پھنسنے والے اپنے فیصلہ سازوں کو ہر صبح ، دوپہر اور شام ” دعائیں “ دیتے ہیں۔ مجھے یہاں جس ایشوپر سب سے زیادہ پریشانی ہے وہ یہ ہے کہ حکمران میٹرو بس ٹرانزٹ کا اگلا روٹ یقینی طور پر ملتان روڈ ہی بیان کرتے ہیں، ان کے مطابق چوبرجی سے ایک اور فلائی اوور بنانے کی تجویز ہے جو شاہ نور اسٹوڈیوز تک ہو گا مگر کیا یہ دلچسپ امر نہیں کہ جہاںٹھوکر نیاز بیگ سے سکیم موڑ تک اربوں روپے سے بننے والے ملتان روڈ فیز ون میں بھی میٹروبس ٹرانزٹ کا آپشن اور جگہ رکھی ہی نہیں گئی حالانکہ یہ سڑک ابھی حال میں ہی تعمیر ہوئی ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ ظلم ہو رہا ہے کہ چھیاسی کروڑ چوالیس لاکھ روپوں سے بننے والے ملتان روڈ فیز ٹو میں بھی میٹروبس ٹرانزٹ کے لئے کوئی جگہ مختص نہیںکی جا رہی بلکہ سڑک کے درمیان جو ڈرین ٹھوکر نیاز بیگ سے سکیم موڑ تک ہے اسی کو آگے چوبرجی تک بڑھایا جا رہا ہے، یہاں پر واسا پچیس سے تیس انچ کا ٹرنک سیور بچھائے گا۔ میرا سوال یہ ہے کہ میٹروبس ٹرانزٹ کا منصوبہ اسی صورت کامیاب ہو گا اگر آپ اسے صرف ایک روٹ پر محدود کرنے کی بجائے پورے شہر میں مختلف روٹس پر لنک کریں گے، اس کا سیکنڈ فیز ملتان روڈ اور تھرڈ فیز لاہور کینال بتایا جا رہا ہے۔ سیکنڈ فیز بارے میرا حکمرانوں سے سوال یہ ہے کہ جب آپ اسے شروع کریں گے تو کیا یہ نئی بنی ہوئی سڑک دوبارہ توڑی جائے گی، ملتان روڈ کے جن تاجروں کے اصرار پر آپ نے میٹرو بس ٹرانزٹ کے لئے دس فٹ جگہ نہیں لی، کیا آپ پھر سڑک ہی نہیں عمارتیں بھی توڑیں گے تو پھر یہ خرچ ہونے والا کم وبیش ایک ارب روپیہ کیا چند ہی ماہ بعد ضائع نہیں ہوجائے گا۔ کینال روڈ فیز بارے تومجھے ابھی علم ہی نہیں کہ کیا یہ بس نہر کے اوپر چھت ڈال کر گزاری جائے گی یا کوئی اور طریقہ اختیار ہو گا کیونکہ ارادوںکے باوجود کسی قسم کی کوئی فزیبیلیٹی رپورٹ تیار نہیں کی جا رہی۔ ہم اس سے پہلے بھی اڑھائی ارب روپوں سے فیروز پورروڈ بنا کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں میٹرو بس کے لئے توڑ چکے ہیں اور لٹن روڈ بارے تو پوچھئے ہی مت کہ یہ سڑک شارع فاطمہ جناح کے ساتھ ہی بنی اور کروڑوں سے بننے والی اس سڑک کو صرف ایک ماہ کے بعد میٹروبس کے فلائی اوور کے لئے توڑ دیا گیا۔ملتان روڈ پراجیکٹ بارے اگر کوئی ایسی چیز ہے جو شہریوں کوتسلی دینے کے لئے بتائی جا سکتی ہے تووہ صرف اس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر صابر خان سدوزئی ہیں، یہ وہ جادوگر ہیں جو کلمہ چوک اور مسلم ٹاو¿ن فلائی اوور کے پراجیکٹس اعلان کر دہ قلیل ترین مدت میں مکمل کر چکے ہیں، امید ہے کہ ملتان روڈ کا فیز ٹو بھی اکتیس جنوری تک بن ہی جائے گا مگر جب اس پر میٹرو بس پراجیکٹ شروع ہو گا تو اس پراجیکٹ کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دینا اسی طرح کی مجبوری ہو گی جس مجبوری کے تحت ہم نے نئی نویلی فیروز پورروڈ اور لٹن روڈ کو ملبے میں تبدیل کر دیا۔مجھے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کی باکمال بیوروکریسی سے کہنا ہے کہ میں لاہور کے ترقیاتی منصوبوں کے خلاف نہیں مگر ہمیں اتنی جلد بازی کرنے کی کیا ضرورت ہے اور اگرجلد بازی بھی بہت ضروری ہے تو کم از کم ” کامن سینس“ کے تقاضوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ میاں مرغوب احمدکے مطابق ملتان روڈ فیز ٹو پر میٹروبس ٹرانزٹ کے لئے اضافی دس فٹ جگہ مقامی تاجروں کے مشوروں پر ایکوائر نہیں کی، مشورہ یہ ہے کہ جب منصوبہ شروع ہوتب ہی زمین ایکوائر کی جائے ،میاں مرغوب احمد خوش تھے کہ یہ بات مان کر وہ اپنی پارٹی کے خلاف اس علاقے میں کالے بینرز نہ لگوانے میں کامیاب رہے ہیں مگر میں نے ان کو زبانی بھی بتایا تھا اور اب پھر بتا رہا ہوں کہ یہ کالے بینرز نہ لگوانے میں کامیابی قومی خزانے کوچھیاسی کروڑ چوالیس لاکھ روپے میں پڑ رہی ہے۔

مزید : کالم